ہانگ کانگ کے بچے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ہانگ کانگ کے بچے (انگریزی: Hong Kong Kids phenomenon) ایک اظہاریہ ہے جو اکثر طنزیہ طور مستعمل ہے۔ یہ ہانگ کانگ ان بچوں یا نوجوانوں کے لیے مستعمل ہے، جو دیگر غیر مطلوبہ عادات و اطوار کے ساتھ ساتھ ضرورت سے زیادہ والدین پر منحصر ہوتے ہیں، جن میں جذباتی دانش کی کمی ہوتی ہے اور وہ کم زور خود انتظامی صلاحیتیں رکھتے ہیں۔[1][2] اس اصطلاح کا استعمال سب سے پہلے "کانگ کے بچے" کے طور "کانگ کڈس: دی نائٹ میرز فار پیرینٹس اینڈ ٹیچرس" کے عنوان چھپی کتاب میں کیا گیا جسے مینگ پاؤ (ایک مقامی چینی اخبار کے ناشر) نے چھپوایا تھا۔ اس کتاب پانچ ایسی منفی خصوصیات مذکور ہیں جو ان بچوں میں عام ہیں 1990ء کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔ اس کتاب میں ان والدین کا حوالہ دیا گیا جو اپنے بچوں کو کم عمری ہی میں بگاڑ دیتے ہیں اور بتاتی ہے کہ یہ لوگ "کانگ کے بچوں" کی نشو و نما کے ذمے دار ہیں۔ والدین اپنے بچوں کو "شہزادوں اور شہزادیوں" کے طور دیکھ ریکھ کر کے یہ رجحان رکھتے ہیں وہ مادی تحائف اور دولت سے انہیں بگاڑ دین (یہ "چین میں پھیلے ننہے بادشاہ کے ماحول" سے مختلف نہیں ہے۔ اس کے علاوہ والدین ہی کا ہاتھ روز مرہ کے معاملات، بچوں کے پیچیدہ مسائل وغیرہ کو دیکھنے میں ہوتا ہے، جس سے بچوں کی مسائل کی اپنے طور پر یکسوئی کرنے کے مواقع کم ہوتے ہیں۔ چکاچوند میں بڑے ہونے کی وجہ سے بچے اکثر خود پر مرکوز شخصیت تیار کرتے ہیں، جیسے کہ انہیں یقین ہو کہ زمین ان کے گرد گھوم رہی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے ہانگ کانگ کے بچے بہت جلد غصے میں آتے ہیں جب وہ مسائل سے رو شناس ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں مسائل کی اپنے طور یکسوئی کی عادت نہیں ہے۔ یہ نقصاندہ عادتین اور خصوصیات مستقبل کی پیڑھیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہیں، جس سے ایک لا متناہی سلسلہ بنتا ہے۔

تفصیلات[ترمیم]

یہ بچے عام طور سے 1990ء اور 2000ء میں وسط آمدنی خاندان میں پیدا ہوئے ہوتے ہیں۔ انہیں اہل خانہ اور خانگی ملازمین کی ناز برداریوں کی وجہ سے بگاڑ دیا جاتا ہے۔[3]

کانگ کے بچے عمومًا کئی مشترکہ خصوصیات رکھتے ہیں۔ جوان بچوں میں اکثر زندگی کی صلاحیتوں کی کمی ہوتی ہے، جیسے کہ غسل، پکوان اور جوتے کی ڈوریاں باندھنا۔ بچے والدین اور باہر کے خانگی ملازمین پر منحصر ہونے کے عادی ہو جاتے ہیں۔[4]

پیپلز ڈیلی آن لائن کے ایک سروے کے مطابق، تقریبًا آدھے والدین سوالات کے جوابات دیے تھے، یہ کہ چکے ہیں کہ ان کا بچہ خود سے کھا، نہا یا کپڑے پہن نہیں سکتا اور ان میں سے 15% نے یہ بھی کہا کہ ان کے بچے تو اپنے طور بیت الخلا کا بھی استعمال نہیں کر سکتے۔ [5] مشکلات سے سامنا کرنے کی صورت میں یہ "کانگ کے بچے" یہ توقع کرتے ہیں دوسرے ان کے مسائل کو حل کریں گے، کیوں کہ یہ لوگ ناتجربہ کار ہیں اور انتظامی خامی اور خود تعظیمی کمی کا شکار ہیں۔

یہ بچے اکثر نئے رجحانات اور مشہور برانڈوں کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر برانڈ ناموں والی اشیاء اور الیکٹرانک سامان رکھتے ہیں جیسے کہ موبائل فون، آئی پیڈ، آئی پاڈ، ڈیجیٹل کیمرا وغیرہ۔ یہ لوگ اس چیز سے غیر مطمئن ہوتے ہیں جو ان کے پاس ہے اور مادہ پرستانہ زندگی کی طرف دیکھتے ہیں۔

وجوہ[ترمیم]

جدید دور میں ہانگ کانگ خاندانوں میں عمومًا ایک یا زیادہ سے زیادہ دو بچے ہوتے ہیں۔ کچھ ماہرین تعلیم کے مطابق، کچھ نام نہاد راکھشس ماں باپ ‘اپنے بچوں کی اس خوبی سے حفاظت کرتے ہیں کہ وہ بچوں کو کسی کمی کا احساس نہیں ہونے دیتے ہیں۔‘[6]

مثال کے طور پر 2010ء میں ہانگ کانگ کے طلبہ جہازوں میں بیٹھ نہیں سکے کیوں کہ لندن میں شدید برفباری تھی۔ والدین نے اس وقت پر زور انداز میں حکومت پر زور دیا کہ وہ ان بچوں کو طیران گاہ پر ہی رہنے کی اجازت دی جائے۔ اس معاملے میں والدین کافی تنقید کا نشانہ بنے کیوںکہ انہوں نے زائد از ضرورت حفاظت کا مظاہرہ کیا۔ اس وجہ سے زائد از ضرورت محفوظ بچوں میں قوت مزاحمت کی کمی ہے اور یہ مشکل ہی سے کانگ کے بچوں کی مشکلات اوپر اٹھ کر آ سکتے ہیں۔[7]

اثرات[ترمیم]

  • یہ بچے ضرورت سے زیادہ دوسروں پر منحصر رہتے ہیں۔
  • ان میں خاندان کی مختلف صورت حالوں اور رشتوں کو سنبھالنے کی کمی ہوتی ہے۔
  • ماہرین عمرانیات انہیں سماج پر ایک طرح کا بوجھ قرار دیا ہے۔

حل[ترمیم]

صورت حال کا حل ماہرین نے یہی بتایا ہے کہ والدین زائد از ضرورت حفاظت کو ہٹائیں۔ بچوں کو روز مرہ کی ضرورتوں کو خود پورا کرنے اور مسائل کی یکسوئی کی عادت ڈالنے کے مواقع فراہم کیے جانے چاہیے۔ شخصیت سازی اور انفرادیت پر زور دینے کی ضرورت ہے۔

میڈیا[ترمیم]

  • "Kong Kids: The Nightmares for Parents and Teachers" (انگریزی کتاب)
  • ویڈیو Tai Po Impolite Kong Kid Scolding Parents) 大埔超級城無禮小學雞當街鬧父母)

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. 「港孩」:3低6不得.Wenweipo.21 March 2011.
  2. "Hong Kong Kids"۔ Ming Pao۔ مورخہ 2013-12-02 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  3. hoikeima3۔ "Kong Kids Phenomenon | KiKi Ma - GE1401"۔ Hoikeima3.wordpress.com۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-12-18۔
  4. Parry, Hazel.Hong Kong kids need to learn self-care skill. South China Morning Post. 7 مئی 2013.
  5. "Doting parents lead to helpless Hong Kong kids"۔ People's Daily۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  6. “Helicopter Parents”? “Monster Parents”? “Free-Range Parenting?” – Part 2 – I Am Not a Monster Parent”. Lifetime Development.
  7. Hong Kong Kids. Ming Pao. 1 جنوری 2011.