ہلال کڈپوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ضلع کڈپہ کے شعرا میں ایک اہم اور معتبر نام ’’ہلال کڑپوی‘‘ مرحوم کا ہے۔ جن کے نام پر کڑپہ کی ادبی تاریخ فخر کرتی ہے۔ بموجب افکارِ بزمِ زکی ہلال کڈپوی کی سنہ پیدائش1933 ؁ء قرار پائی ہے۔ انہوں نے اپنے عہد میں شعری، ادبی اور سماجی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، یہاں تک کہ کڈپہ میں بزمِ زکی کا قیام بھی ہلال کڈپوی کی مساعی کا نتیجہ ہے ،لیکن انہوں نے کم عمر پائی یعنی35سال کی عمر میں اس دار فانی سے رحلت کر گئے اس قلیل مدت میں انہوں نے اردو ادب میں ایک اعلیٰ مقام بنالیا اور ادب کی خدمت خاموشی سے کرتے رہے کڈپہ کے مشہور آستانۂ مخدوم الہٰی سے انہیں ’’امین الشعراء‘‘ کا خطاب ملا۔

شاعری کا تجزیہ[ترمیم]

ہلال کڈپوی کے اشعار میں بے چینی، غمِ عشق، غم حیات، غمِ دوراں کا بیان، لا یعنیت، وسعتِ فکر کی رسائی اور تصوفانہ انداز جا بجا پایا جاتا ہے۔ چند شعر ملاحظہ فرمائیے:

کس نے کیا تباہ مجھے پوچھتے ہیں لوگ

اب آپ ہی بتائیے میں کیا جواب دوں

یہ بھی شاید مرے احساس کی انگڑائی ہے

دل جو دھرکتا ہے تو آواز تری آئی ہے

دامانِ داغ دار مرا دیکھتا ہے کیا

تو بھی گزر کے دیکھ وہ راستہ ہے کیا

یہ کیوں تمہاری آنکھ سے آنسو نکل پڑے!

ٹوٹا ہے دل ہمارا، تمہیں ہوا ہے کیا

دو رخ ہیں یہ بھی مرے ہی نقشِ وجود کے

آ میں تجھے بتاؤں فنا و بقا ہے کیا

انجمن ترقی اردو ہند شاخ کڈپہ آندھراپردیش کی مالی تعاون اور ڈاکٹر ساغر جیدی صاحب کی کد و کاوش کا نتیجہ ہے کہ ہلال کڈپوی مرحوم کا کلام اگست1996 ؁ء میں ’’صدائے لطیف‘‘ کے نام سے منظرِ عام پر آیا۔

اتنا تھکا چکا تھا غم زندگی مجھے

اے موت تجھ سے پہلے ہی نیند آگئی مجھے

بقول سلیمان اطہر جاوید: ’’ہلال نے اور عمر پائی ہوتی جہاں ان کی شاعری کے نقش و نگار اور نکھرتے۔ کڈپہ کی ادبی فضاء پر اس کے اور خوش گوار اثرات ترتیب پاتے اور جہاں تک اس شعری مجموعہ کا تعلق ہے اشاعت سے قبل یہ ان کی نظروں سے گزرتا‘‘۔ اس کے باوجود موصوف کے کلام میں کہیں کہیں جدیدیت کا پرتو نظر آتا ہے۔ ان کا اسلوب جداگانہ اور ان کی شاعری میں درد کی کسک، وجودیت، اجنبیت، بے چینی اور تنہائی و خوف کے رموز، مل ہی جاتے ہیں۔ چند شعر ملاحظہ ہوں:

دو رخ ہیں یہ بھی میرے ہی نقشِ وجود کے

آ میں تجھے بتادوں فنا و بقا ہے کیا

اک مدّت سے دل و روح میں سنّاٹا ہے

گونج اٹھیں جس سے دو عالم وہ صدا دو یارو

مندرجہ بالا اقتباس سے پتا چلتا ہے کہ موصوف کی شاعری میں زندگی کے تمام تجربے، فلسفہ زندگی کی عکاسی اور تصوفانہ رنگ پایا جاتا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  • یہ مضمون امام قاسم ساقی کا تیسرا مجوعہ ‘‘ تاسیس ‘‘ سے لیا گیا ہے صفہ 138 تا 140