ہومی جہانگیر بھابھا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ڈاکٹر بومی جہانگیر بھابھا (پیدائش: 30 اکتوبر 1909ء|وفات:24 جولائی 1965ء) ایک بھارتی ایٹمی سائنسدان تھے بمبئی میں پیدا ہوئے۔ اور ایک طیارے کے حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے انہوں نے 1930ء میں کیمبرج سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ 1934ء میں پی ایچ ڈی کیا۔ 1929ء میں لکھنؤ، 1950ء میں بنارس اور 1952ء میں آگرہ کی یونیورسٹیوں میں تحقیقی کام کیا۔ وہ بھارت کے تحقیقاتی کمیشن کے صدر اور علم طبیعیات کے ماہر تھے۔ بھارت میں جو اولین ایٹمی ریکٹر نصب ہوا وہ انہی کے نام سے منسوب ہے اس کی نگرانی بھی انہوں نے ہی کی تھی۔ انہوں نے ایٹمی طاقت کے پرامن استعمال کے سلسلے میں اقوام متحدہ کے زیراہتمام جینوا میں منعقد ہونے والی 73 ملکوں کی کانفرنس کی صدارت کی۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

جہانگیر بھابھا بمبئی (اب ممبئی) کے ایک امیر اور مغربی طور طریقوں والے پارسی خاندان میں پیدا ہوئے، اس خاندان کا تعلق ملک کے مشہور صنعتکار خاندان ’ٹاٹا‘ سے تھا اُن کے قریبی رشتے داروں کے مطابق وہ بچپن سے ہی کافی متجسس طبعیت کے مالک تھے۔ پہلی عالمی جنگ کے دوران جہانگیر بھابھا نے پیراشوٹ کے بارے میں سُنا۔ وہ اس وقت صرف چھ یا سات سال کے تھے مگر وہ بضد ہوئے کہ وہ پیراشوٹ کو آزما کر دیکھیں گے۔ ان کے ایک رشتے دار کے مطابق ’ایک دفعہ وہ اور رستم (اُن کا کزن) جو عمر میں بھابھا سے بھی چند ماہ چھوٹے تھے، دو چھتریاں لے کر اپنے گھر کی پہلی منزل کی بالکونی پر چھلانگ لگانے کے لیے کھڑے ہوگئے۔ اتفاق سے ان کے بڑے کزن دنشا نے یہ سب کچھ دیکھ لیا اور انہیں واپس کھینچا۔‘

رات بھر جاگنے کا معاملہ[ترمیم]

ان کی اس نوعیت کی اور بھی سرگرمیاں اُن کے والدین کو پریشان کرتی تھیں۔ ایک اور کہانی کچھ یوں ہے کہ وہ کافی مشکل سے سوتے تھے، لہذا پریشان ہو کر والدین انہیں پیرس کے ایک مشہور چائلڈ سپیشلسٹ کے پاس لے گئے۔ یہ کہانی بھابھا کے ایک قریبی عزیز نے محقق اندرا چودھری کو بتائی تھی۔ ’تھوڑی دیر کے بعد ایک نرس باہر آئی اور انتظار کرنے والے دوسرے مریضوں کو بتایا کہ اُن کی اپائنٹمنٹ منسوخ ہو گئی ہے کیونکہ کمرے میں موجود ڈاکٹر جہانگیر بھابھا کے ساتھ اور زیادہ وقت گزارنا چاہتے ہیں۔ بھابھا کے والدین پریشان ہو گئے لیکن ڈاکٹر نے انہیں تھوڑی دیر بعد اندر بلایا اور بتایا کہ بچے کا دماغ غیر معمولی طور پر فعال ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ سو نہیں پاتا۔‘ ڈاکٹر نے انھیں مزید مشورہ دیا کہ اگر اس بچے کو موافق ماحول دیا جائے تو وہ بڑا ہو کر کافی عقلمند ہو گا۔‘

آپ سقراط سے انجینیئر بننے کے لیے تو نہیں کہیں گے[ترمیم]

جہانگیر بھابھا کو ان کے والدین نے مکینیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے کیمبرج یونیورسٹی بھیجا تھا۔ کیونکہ ان کی خواہش تھی کہ وہ تعلیم کے حصول کے بعد انڈیا واپسی پر ٹاٹا کمپنی کے معاملات سنبھالیں لیکن جہانگیر کو اس شعبہ میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ یونیورسٹی کے پہلے سال کے دوران اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکے جو ان کے گریڈز سے واضح تھا۔ اس پر ان کے والدین ناراض ہوئے اور انہیں تنبیہ کی کہ وہ ان کو واپس انڈیا بلا لیں گے۔ جہانگیر بھابھا نے جواب دیا کہ ’میں اس شرط پر فرسٹ کلاس مارکس لاؤں گا کہ آپ مجھے ریاضی کے شعبے میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے مزید دو سال کی مالی امداد دیں۔‘

والد کو لکھا خط[ترمیم]

اپنے والد کے نام اُن کا خط چھوٹی عمر میں ہی اُن کے تجسس اور ذہانت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ’میں آپ سے سنجیدگی سے کہتا ہوں کہ انجینیئر کی حیثیت سے کاروبار یا نوکری میرے لیے نہیں ہے۔ فزکس میری لائن ہے۔ میں جانتا ہوں کہ میں اس میں بہت اچھا کروں گا کیونکہ آدمی اسی شعبے میں بہترین کام کرتا ہے اور سبقت لینے میں کامیاب ہوتا ہے جس کا اسے شوق ہو۔‘انہوں نے مزید لکھا ’مجھے ایک کامیاب آدمی یا کسی بڑی کمپنی کا سربراہ بننے کی کوئی خواہش نہیں ہے۔ بیتھوون (مشہور کمپوزر) سے یہ کہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کہ آپ کو سائنسدان ہونا چاہیے کیونکہ یہ بہت بڑی چیز ہے، یا سقراط کو انجینیئر بننے کے لیے نہیں کہنا چاہیے کیونکہ یہ ایک ذہین آدمی کا کام ہے۔‘

کہتے ہیں کہ معروف کمپوزر بیتھوون کے بارے میں والد کو لکھے گئے خط میں اُن کا حوالہ اُن کے بچپن اور جوانی کے شوق کا اظہار تھا اور ایک بار تو انہوں نے موسیقی ترتیب دینے کی کوشش بھی کی، اور اپنے شہرت کے دنوں میں بھی وہ چھٹیوں میں اپنے پسندیدہ شہر ویانا میں کنسرٹس دیکھنے جایا کرتے تھے۔

انڈیا کا لیونارڈو ڈاونچی[ترمیم]

وہ پینٹنگ بھی کرتے تھے جو کہ معروف پینٹر ایم ایف حسین کو اتنا زیادہ پسند تھیں کہ وہ کہتے تھے کہ ’بھابھا اگرچہ پیشے سے سائنسدان تھے لیکن فطرتاً وہ ایک مصور تھے۔‘ انہوں نے بھابھا کے لیے کہا تھا کہ ’ان کی ڈرائنگ تقریباً لیونارڈو دڈاونچی (مشہور اطالوی پینٹر اور انجینیئر) کی طرح ہیں۔‘ کیمبرج سے آنے کے بعد انڈیا کی سائنسی برادری سے وہ اتفاقاً منسلک ہوئے۔ دوسری عالمی جنگ کی شروعات سے پہلے چھٹیوں میں وہ انڈیا آئے ہوئے تھے لیکن جنگ شروع ہونے کی وجہ سے انڈیا میں ان کا قیام مجبوری بن گیا۔

ٹاٹا انسٹیٹیوٹ آف فنڈامینٹل ریسرچ کا قیام[ترمیم]

سنہ 1944ء میں وہ بمبئی منتقل ہو گئے جہاں ٹاٹا ٹرسٹ کی مالی مدد سے 'ٹاٹا انسٹیٹیوٹ آف فنڈامینٹل ریسرچ' نامی ادارہ قائم کیا جو کہ مستقبل میں نیوکلیئر توانائی کے شعبے میں کام کرنے کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوا۔ اس کے چند ہی برسوں میں انڈیا آزاد ہو گیا لیکن آزادی سے پہلے ہی ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے ساتھ جہانگیر بھابھا کے تعلقات کافی اچھے تھے۔ نہرو سائنس اور اس کے استعمال سے انڈیا کی ترقی کے سخت حامی تھے۔ وہ انڈیا کے سٹیل پلانٹس، تحقیقی مراکز اور اس طرح کی سائنسی کامیابیوں کو 'جدید ہندوستان کا مندر' کہتے تھے۔ نہرو کے ساتھ بھابھا کی قربت نے انہیں دنیا بھر سے بہترین انڈین سائنسدانوں کو راغب کرنے میں مدد ملی اور خود کو خالص سائنس سے انڈیا کے جوہری پروگرام کی تعمیر اور اس کی قیادت کرنے میں ملکہ حاصل ہوا

انڈیا کی اپنی مہارت[ترمیم]

بھابھا کا کہنا تھا کہ انڈیا کی اپنی مہارت ’کامیابی کا انجن‘ ہے اور غیر ملکی تعاون صرف ’بوسٹر‘ ہیں۔ انہوں نے اپنی موت سے چند ہفتے پہلے جریدہ سائنس میں لکھا کہ 'اگر ہندوستانی صنعت کو آگے بڑھنا ہے اور آزاد پرواز کے قابل ہونا ہے تو یہ ضروری ہے اس کی تقویت ملک میں موجود سائنس اور ٹیکنالوجی سے حاصل ہو۔' نہرو کا ان پر بھروسہ اس حقیقت سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ فوری طور پر ان کی خطوط کا جواب دیا کرتے تھے اور بھابھا چھوٹی چھوٹی درخواستوں کے لیے بھی نہرو تک پہنچنے میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے تھے۔

بھابھا نہرو کو مائی ڈئیر برادر کہتے[ترمیم]

بھابھا نہرو سے 20 سال چھوٹے تھے اور وہ اپنے خطوط میں نہرو کو ’مائی ڈیئر برادر‘ کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ ایک بار انہوں نے نہرو کو بمبئی کے رہائشی علاقے مالابار ہِل میں درختوں کی کٹائی بند کرانے کے لیے خط تحریر کیا تھا۔ ایک دفعہ بھابھا نے نہرو کو خط لکھا کہ انہیں دو کاریں فراہم کی جائیں تاکہ سائنسدانوں کو 24 گھنٹے اپنے کام کے حساب سے آنے جانے کی آزادی ہو کیونکہ وہ جس نئی ایٹمی لیب میں کام کر رہے تھے وہ شہر کے مرکز سے بہت دور تھی۔ یہ ایک عجیب مطالبہ تھا خاص طور پر اس لیے کہ نئی نئی بننے والی حکومت کے پاس پیسوں کا فقدان تھا اور حکومت اس نوعیت کی مراعات کی اجازت نہیں دیتی تھی، لیکن اس کے باوجود نہرو نے اس تجویز کو اسی دن منظور کر لیا۔ بھابھا اور نہرو کے درمیان موجود اعتماد کے اسی رشتے کے نتائج بھی جلد ہی نظر آنا شروع ہو گئے۔ اس خط کے صرف تین دن بعد ہی اس ایٹمی لیب میں انڈیا کا پہلا ’سوئمنگ پول ری ایکٹر‘ شروع ہوا۔ دوسروں کے نظر میں بھی ان کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مشہور صنعت کار جے آر ڈی ٹاٹا نے سنہ 1985ء میں بھابھا پر ایک کتاب کا اجرا کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہومی بھابھا میرے لیے ان تین سب سے قابل ذکر آدمیوں میں سے ایک تھے جنھیں مجھے اپنی زندگی میں جاننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ ایک جواہر لعل نہرو، دوسرے مہاتما گاندھی اور تیسرے ہومی بھابھا۔‘ بلکہ انھوں نے بھابھا کو ان تینوں میں سے سب سے اعلی مقام دیا۔ انھوں نے کہا ’درحقیقت میں جتنے بھی آدمیوں کو جانتا ہوں، بشمول باقی دو کے جن کا میں نے ذکر کیا ہے، ہومی بھابھا واحد شخص تھے جنھیں میں ایک مکمل شخصیت کہوں گا۔

طیارے کے حادثے میں کیا ہوا[ترمیم]

جہانگیر بھابھا کو شیڈول کے مطابق کسی اور فلائیٹ سے جانا تھا لیکن اچانک انہوں نے وقت سے پہلے ہی جانے کا فیصلہ کیا۔باُن کے چھوٹے بھائی جے جے بھابھا بتاتے ہیں کہ ’میری والدہ کو اس بات کا بہت غم تھا، انھوں نے اپنے طے شدہ شیڈول سے پہلے جو پرواز لی، وہ کریش ہو گئی۔‘ اس وقت تک وہ ملک میں ایک معروف شخصیت کا رتبہ حاصل کر چکے تھے۔بمعروف سائنسدان اور نوبل انعام یافتہ سی وی رمن نے انھیں لیونارڈو دا ونچی کا جدید ہم عصر قرار دیا تھا۔ پرواز کو مقامی وقت کے مطابق صبح 8.02 بجے اپنے منزل جنیوا پہنچنا تھا لیکن اس میں تھوڑی تاخیر ہوئی۔ تاہم سنہ 1966ء کی بی بی سی رپورٹ کے مطابق وہ طیارہ صبح آٹھ بجے فرانسیسی آلپس پہاڑیوں میں غائب ہو گیا۔ کریش کے مقام پر پہنچنے والے پہلے لوگوں میں سے ایک گائیڈ جیرارڈ ڈیووسکس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اگر طیارہ فقط 15 میٹر اور بلند ہوتا تو جہاز چٹان سے ٹکرانے سے بچ سکتا تھا۔ طیارہ ٹکرانے سے پہاڑ میں ایک بہت بڑا گڑھا بن گیا تھا۔‘ اسی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پائلٹ نے طیارے کی اونچائی کا غلط اندازہ لگایا تھا اور بوئنگ 707 ممکنہ طور پر ایک چوٹی کے بالائی حصے سے ٹکرایا تھا۔ ریڈار کنٹرولر نے پائلٹ کی غلطی کو دیکھ کر طیارے کی پوزیشن درست کرنے کے لیے پیغام بھیجا۔ رپورٹ کے مطابق ’بدقسمتی سے کپتان کی طرف سے غلط فہمی ہوئی جس نے غلطی سے یہ سوچ کر کہ وہ چوٹی عبور کر چکا ہے، نیچے کی جانب اڑان جاری رکھی۔‘ جائے وقوعہ پر پہنچنے والے گائیڈ نے مزید بتایا کہ ’سب کچھ مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا۔ چند خطوط اور پیکٹ کے علاوہ کچھ بھی قابل شناخت نہیں تھا۔‘ جائے وقوعہ یعنی پہاڑ کی چوٹی پر جیسے جیسے برف پگھلی ویسے ویسے اس طرح کے خطوط، پیکٹ، جواہرات، اور طیارے کی باقیات سامنے آنا شروع ہوئیں۔ ہر نئی پیشرفت اور سامنے آنے والی خبر کے ساتھ ساتھ اس طیارے کے حادثے سے متعلق شک وشبہات بھی گہرے ہوتے چلے گئے۔ بعض افراد نے دعویٰ کیا کہ طیارے کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔ چند نے تو یہ تک کہہ دیا کہ یہ ایک دوسرے چھوٹے طیارے سے ٹکرا گیا تھا۔

سازشی تھیوریوں میں صداقت[ترمیم]

’ٹائمز آف انڈیا‘ کے مطابق سنہ 2008ء میں گریگوری ڈگلس نامی ایک امریکی صحافی نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس رابرٹ کراؤلی نامی CIA کے ایک افسر کی ریکارڈنگ ہے جس میں وہ اشارہ کرتے ہیں کہ اس حادثے میں امریکی خفیہ اداروں کا کردار تھا۔’دی اکانومسٹ‘ کے مطابق حادثے کی جگہ کو سیل کرنے کے بعد فرانسیسی صحافیوں کی ایک ٹیم نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا تھا۔ انھیں وہاں ملبے کے ایک ٹکڑے پر ’یکم جون 1960‘ کی مہر لگی ہوئی ملی جبکہ بوئنگ کا یہ طیارہ 1961 میں سروس میں شامل ہوا تھا۔ جائے وقوعہ سے ایک دھات کا مرکب بھی ملا تھا جو کہ ایک بکتر کی طرح لگ رہا تھا اور جس پر ’کیموفلاج‘ پینٹ تھا۔ ٹیم نے اپنے طور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بوئنگ ایک دوسرے طیارے سے ٹکرا گیا تھا، لیکن حکام نے اس رپورٹ سے ناراض ہو کر ان صحافیوں کی طرف سے جائے وقوعہ سے لائے گئے ملبے کو ضبط کر لیا۔ اسی نوعیت کے سازشی نظریے کے تحت یہ دعویٰ کیا گیا کہ اس جگہ سے ملنے والی ایک پلیٹ پر 'یو ایس اے ایف' یعنی یو ایس ایئرفورس لکھا ہوا تھا۔ یہ نظریہ آج بھی آن لائن بلاگز پر نظر آ جاتا ہے۔ جین ڈینیئل روشے نامی ایک شخص کئی برسوں تک پہاڑ کی چوٹی سے طیارے کا بکھرا ہوا ملبہ اکٹھا کرتے رہے تھے۔ بعدازاں انھوں نے بھی دعویٰ کیا کہ ایئرانڈیا کا طیارے ایک دوسرے طیارے سے ٹکرانے کے بعد تباہ ہوا تھا۔ مگر دوسری جانب ایوی ایشن بلاگر ڈیوڈ سینسیوٹی اس دعوے کو خارج از امکان قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق جب انھوں نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ’ایئر انڈیا کو پیش آنے والے حادثے کے ایک روز بعد ایک اطالوی طیارہ واقعی گر کر تباہ ہوا تھا، لیکن وہ ایئر انڈیا کے جائے حادثہ سے سینکڑوں کلومیٹر دور تھا۔‘ اس نوعیت کے اور بہت سے دعوے اور جوابی دعوے سامنے آئے تاہم کسی کی بھی تصدیق ممکن نہ ہو سکی۔

زندگی کا احساس[ترمیم]

جہانگیر بھابھا نے ایک مرتبہ اپنے دوست جیسی ماویر کو لکھا تھا کہ ’زندگی کا دورانیہ محدود ہے۔ موت کے بعد کیا آتا ہے، کوئی نہیں جانتا اور نہ ہی مجھے اس کی پرواہ ہے۔‘ انہوں نے مزید لکھا کہ ’فن، موسیقی، شاعری اور ہر وہ چیز جو میں کرتا ہوں اس کا ایک ہی مقصد ہے، زندگی کے احساس کی شدت کو بڑھانا۔‘ حادثے کے وقت ان کی عمر فقط 56 برس تھی۔