یمین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

یمین (قسم)،یاحلف ایسا عقد جس کے ذریعے قسم کھانے والا کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرتاہے ۔[1]

لغوی و اصطلاحی معنی[ترمیم]

علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں "یمین اصل میں دائیں ہاتھ کو کہتے ہیں‘ قرآن مجید میں ہے : ’’ واصحاب الیمین‘‘ اس میں قوت اور برکت کے معنی کا اعتبار ہے اور یمین کا استعارہ حلف سے بھی کیا جاتا ہے کیونکہ جب کوئی شخص کسی سے عہد کرتا ہے تو اپنے دائیں ہاتھ کو اس کے دائیں ہاتھ پر رکھ کر عہد کرتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے۔’’ أَمْ لَكُمْ أَيْمَانٌ عَلَيْنَا بَالِغَةٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ‘‘۔[2] یا تمہارے لیے ہم پر کچھ عہد وپیمان (قسمیں) ہیں جو قیامت تک پہنچنے والا ہیں۔ اس آیت میں یمین کا لفظ حلف کے معنی میں ہے۔[3][4] یمین ایمان کی واحد ہے جس کے معنی قوت اور مضبوطی کے ہیں۔ اور عرف شرع میں اس قسم کو کہتے ہیں کہ جو اللہ کے نام سے یا اس کی کسی صفت سے کھائی جاوے جیسا کہ واللہ‘ باللہ‘ تاللہ عربی میں اور اللہ کی قسم یا بخدا اردو میں اور اسی کو حلف کہتے ہیں۔ چونکہ خدا کے نام سے قسم میں قوت اور تاکید ہوجاتی ہے اس لیے اس کو یمین کہتے ہیں[5]
داہنا ہاتھ
قوت و توانائی
حلف یا قسم اٹھانا
آخری معنی میں اس کی تین قسمیں ہیں:
یمین غموس
یمین لغو
یمین منعقدہ

یمین غموس[ترمیم]

ایسی قسم جو گذشتہ زمانے کے متعلق کسی امر پر اٹھائی گئی ہواور قصداً اس میں جھوٹ بولا گیا ہو۔ ایسی قسم اٹھانے والاسخت گناہگار ہوتا ہے لیکن توبہ کے سوا کوئی کفارہوغیرہ لازم نہیں آتا۔

یمین لغو[ترمیم]

ایسی قسم جو گذشتہ زمانے سے متعلق کسی امر پر اٹھائی گئی ہو۔ اور وہ امر قسم اٹھانے والے کے علم کے مطابق واقع ہولیکن درحقیقت ایسا نہ ہو۔

یمین منعقدہ[ترمیم]

مستقبل کے کسی فعل کے متعلق کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھانا ایسی قسم میں حانث ہونے پر کفارہ لازم آتا ہے۔ اس کے علاوہ یمین کی کئی اقسام ہیں:
یمین حرامایسی قسم جو کسی نیک کام کے نہ کرنے کے لیے اٹھائی گئی ہو
یمین شرعیایسی قسم جو گناہ اور کفارہ کو لازم کرے یہ قسم اللہ تعالی کے نام کے ساتھ اٹھائی جاتی ہے۔ ایسی قسم کا کفارہ غلام آزاد کرنا ہے اگر یہ نہ ہو تو دس مسکینوں کو کھانا کھلانایا کپڑے پہنانا ہے اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو پھر تین دن کے مسلسل روزے رکھنا ہے۔
یمین عرفی ایسی قسم جو لوگ عادتاً اٹھا لیتے ہوں مثلاً کسی کی عمر وغیرہ کی قسم۔ اس قسم پر کفارہ لازم نہیں ہوتا۔[6]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الدرالمختار،ج5،ص488
  2. القلم : 39
  3. المفردات ص‘ 553 مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ‘ ایران‘
  4. تفسیر تبیان القرآن، غلام رسول سعیدی،البقرہ،224
  5. تفسیر حقانی ابو محمد عبد الحق حقانی،البقرہ 224
  6. معجم اصطلاحات،ریاض حسین شاہ،صفحہ276،277،ادارہ تعلیمات اسلامیہ راولپنڈی