حسرت موہانی کی شاعری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

حسرت موہانی


سہل کہتا ہوں ممتنع حسرت
نغز گوئی مرا شعار نہیں

شعر دراصل ہیں وہی حسرت
سنتے ہی دل میں جو اتر جائیں

بقول ڈاکٹر سید عبد اللہ،
” حسرت محبت کے خوشگوار ماحول کے بہترین، مقبول ترین اور مہذب ترین مصور اور ترجمان تھے وہ خالص غزل کے شاعر تھے ان کے شعروں میں ہر اس شخص کے لیے اپیل ہے جو محبت کے جذبات سے متصف ہے۔“
بقول آل احمد سرور،
” عشق ہی ان کی عبادت ہے عشق کی راحت اور فراغت کا یہ تصور اُن کا اپنا ہے اور یہ تصور ہی حسرت کو نیا اور اپنے زمانہ کا ایک فرد ثابت کر سکتا ہے۔“
حسرت موہانی اردو غزل گوئی کی تاریخ میں ایک ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ اردو شاعری کے ارتقاءمیں ان کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ ان کے خیال اور انداز بیان دونوں میں شخصی اور روایتی عناصر کی آمیزش ہے۔ حسرت موہانی کو قدیم غزل گو اساتذہ سے بڑا ہی ذہنی و جذباتی لگائو تھا۔ اور یہ اسی لگائو کا نتیجہ تھا کہ کلاسیکل شاعروں کا انہوں نے بڑی دقت نظر سے مطالعہ کیا تھا۔ اور اپنی طبیعت کے مطابق ان کے مخصوص رنگوں کی تقلید بھی کی۔ قدیم اساتذہ کے یہ مختلف رنگ حسرت کی شاعری میں منعکس دکھائی دیتے ہیں۔ اور خود حسرت کو اس تتبع کا اعتراف بھی ہے۔
حسرت کے اس رجحان پر فراق لکھتے ہیں کہ حسرت کے اشعار بیان حسن و عشق میں صاف مصحفی کی یاد دلاتے ہیں۔ معاملہ بندی اور ادا بندی میں جرات کی یاد دلاتے ہیں۔ اور داخلی اور نفسیاتی امور کی طرف اشارہ کرنے میں عموماً نئی فارسی ترکیبوں کے ذریعے مومن کی یاد دلاتے ہیں۔ لیکن حسرت کی شاعری محض مصحفی ،جرات اور مومن کی آواز کی بازگشت نہیں ہے۔ وہ ان تینوں کے انداز ِ بیان و وجدان اور ان کے فن شاعری کی انتہا و تکمیل ہیں۔
حسرت کی غزل میں ایک ذہنی گدگدی، ایک داخلی چھیڑ چھاڑ، ایک حسین چہل کی عکاسی نظر آتی ہے۔ حسرت کی شاعری کا میدان ان معنوں میں محدود ہے کہ وہ جذبات حسن و عشق ہی سے سروکار رکھتے ہیں۔ ان کاد ل ایک شاعر کا دل ہے اور ان کی شاعر ی کا محور محبت اور صرف محبت ہے۔

حسرت کی شاعری کا محور:۔[ترمیم]

سیدا حتشام حسین کے نزدیک حسرت کی شاعری کا محور محبت ہے۔ اسی طرح اکثر دوسرے ناقدین نے بھی عشقیہ شاعری ہی ان کی نمائندہ شاعری ہے۔ اور حسرت کو اردو غزل میں ممتاز مقام دلاتی ہے اور اور بلاشبہ یہ کائنات کاایک ایسا جذبہ ہے جس کو فنا نہیں۔ یہ ہمیشہ نت نئے انداز میں ظہور پزیر ہوتا ہے اور انسانی زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے ممتاز حسین کہتے ہیں کہ کائنات میں روزانہ لاکھوں بچے پہلی مرتبہ اپنی ماں یا باپ کو پکارتے ہیں۔ ایک ہی لفظ صدیوں سے ادا ہو رہا ہے مگر اس کی خوبصورتی اور رعنائی میں کوئی فرق نہیں آیا۔ اور یہی لفظ اور جذبہ حسرت کی شاعری کا بنیادی محور اور موضوع ہے۔

بڑھ گئیں تم سے تو مل کر او ر بھی بے تابیاں
ہم یہ سمجھے تھے کہ اب دل کو شکیبا کر دیا

حقیقت کھل گئی حسرت ترے ترک محبت کی
تجھے تو اب وہ پہلے سے بھی بڑھ کر یاد آتے ہیں

بلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں
الٰہی ترک الفت میں وہ کیونکر یاد آتے ہیں

عشقیہ شاعری:۔[ترمیم]

اسلوب احمد انصاری لکھتے ہیں کہ نمائندہ اور باقی رہنے والی شاعری از اوّل تا آخر عشقیہ شاعر ی ہے۔ حسرت بڑی حساس طبیعت کے اور بڑا دردمند دل رکھتے ہیں۔ انھوں نے حسن کو چلتے چلتے، سوتے جاگتے، روٹھتے منتے، شعلہ بن کر بھڑکتے اور پھول بن کر رنگ و خوشبو لٹاتے دیکھا۔ یوں ان کی شاعری بھاگتی دھوپ کی شاعری نہیں، شباب کی شاعری ہے۔ جس میں پہلی نگاہیں اور اجنبیت کے مزے بھی ہیں۔ ”ننگے پاؤں کوٹھے پر آنے“ کا دور بھی ہے اور جوانی کے دوسرے تجربات بھی ہیں۔ حسرت کے یہاں عاشقی کا مشرب، عاشقی کی نظر اور عاشقی کا ذہن یہ ساری کیفیتیں موجود ہیں۔

ہجر میں پاس میر ے اور تو کیا رکھا ہے
اک تیرے درد کو پہلو میں چھپا رکھا ہے

حسن بے پروا کو خو د بین و خودآرا کر دیا
کیا کیا میں نے کہ اظہار تمنا کر دیا

آئینے میں وہ دیکھ رہے تھے بہار حسن
آیا میر ا خیال تو شرما کہ رہ گئے

فلسفی عشق:۔[ترمیم]

کلام حسرت کو دوسرے شاعروں سے ممتاز کرنے والی ایک صفت یہ بھی ہے کہ حسرت صرف عشق و عاشقی کے ترجمان نہیں بلکہ وہ عاشقی کے فلسفی بھی ہیں اور عاشقی کے ذوق کے بارے میں ہمیں بعض افکار بھی دیے ہیں۔ حسرت کی عشقیہ شاعری ایک قدرت شفا رکھتی ہے۔ جو قاری کے لیے راحت اور فراغت کا سبب بنتی ہے۔ قاری کے دل کو گداز اور درمندی سے کی دولت سے آشنا کرتی ہے۔ یہ ان کے لیے راہ فرار نہیں بلکہ اسی وجہ سے انسان زندگی کی دوسری ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے قابل ہوتے ہیں۔

دیکھنا بھی تو انہیں دور سے دیکھا کرنا
شیوہ عشق نہیں حسن کو رسوا کرنا

حسرت بہت بلند ہے مرتبہ عشق
تجھ کو تو مفت لوگوں نے بدنام کر دیا

حسن کی مصوری:۔[ترمیم]

حسن کی مصوری اور جزئیات کی مصوری میں حسرت کی بعض غزلیں لکھنؤ یت کے قریب آجاتی ہیں مگر یہ جزئیات بھی ایک حقیقی عنصر کی وجہ سے پورے نقش کو گہرا کرتی ہے۔ مثلاً

بزم اغیا ر میں ہر چند وہ بیگانہ رہے
ہاتھ آہستہ میرا پھر بھی دبا کر چھوڑا

آئینے میں وہ دیکھ رہے تھے بہار حسن
آیا میرا خیال تو شرما کے رہ گئے

اک مرقع ہے حسن و شوخ ترا
کشمکش ہائے نوجوانی کا

تغزل اور نظمیت:۔[ترمیم]

حسرت نے مسلسل غزلیں بھی لکھی ہیں ان کے ہاں عام طور پر پوری غزل پڑھنے کے بعد ہی ان کے اشعار سے لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔ جو کیفیت پہلے شعر میں ملتی ہے اس کی تشریح کے لیے باقی شعر کہے گئے ہیں۔ مثلاً ان کی چند مسلسل غزلوں کے پہلے اشعار ملاحظہ ہوں،

چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانہ یاد ہے

بلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں
الٰہی ترک الفت پر وہ کیونکر یاد آتے ہیں

تو ڑ کر عہد و کرم نا آشنا ہو جائیے
بندہ پرور جائیے اچھا خفا ہو جائیے

محبوب کی نفسیات کا نقشہ:۔[ترمیم]

حسرت نے متفرق اشعار میں اور بعض غزلوں میں اپنے مثالی محبوب کے ایسے دلکش مرقعے پیش کیے ہیں کہ اردو غزل میں اور کہیں مشکل ہی سے نظر آتے ہیں۔ وہ اپنے محبوب کی جیتی جاگتی تصویریں اور نفسیات کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔ مثلاً

بزم اغیار میں ہر چند وہ بیگانہ رہے
ہاتھ آہستہ مرا پھر بھی دبا کر چھوڑا

ہو کے نادم وہ بیٹھے ہیں خاموش
صلح میں شان ہے لڑائی کی

ٹوکا جو بزم غیر میں آتے ہوئے انہیں
کہتے بنا نہ کچھ وہ قسم کھا کے رہ گئے

تصور محبوب:۔[ترمیم]

حسرت کا محبوب متقدمین کے محبوب کی طرح محض ایک تخیلی پرچھائی نہیں بلکہ وہ ایک جیتا جاگتا کردار معلوم ہوتا ہے۔ وہ داغ کی طرح صرف طوائف سے محبت نہیں کرتے حسرت کا محبوب عام انسانی جذبات رکھتا ہے۔

لایا ہے دل پہ کتنی خرابی
اے یار تیرا حسن شرابی
پیراہن اس کا سادہ و رنگین
با عکس مئے سے شیشہ گلابی
پھرتی ہے اب تک دل کی نظر میں
کیفیت اس کی وہ نیم خوابی

معاملہ بندی:۔[ترمیم]

معاملہ بندی کے موضوعات قدیم اردو شاعری کا اہم موضوع رہا ہے۔ حسرت موہانی نے بھی اپنی شاعری میں مومن کی طرح معاملہ بندی سے کام لیا ہے۔ ان کی شاعری میں اس قسم کی عکاسی عام نظر آتی ہے۔

چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یا دہے
ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانہ یادہے

بار بار اٹھنا اسی جانب نگاہ شوق کا
اور تیر ا غرفے سے وہ آنکھیں لڑانا یاد ہے

بزم اغیار میں ہر چند وہ بیگانہ رہے
ہاتھ آہستہ مرا پھر بھی دبا کر چھوڑا

زبان وبیان کی لطافت:۔[ترمیم]

حسرت کے اشعار کی زبان سادہ اور سلیس ہے۔ انہوں نے زبان لکھنؤ میں رنگ دہلی کی نمود کی ہے۔ زبان کی سادگی کے علاوہ ان کی شاعری میں خلوص اور سچائی ہے۔ مثلاً وہ کہتے ہیں کہ،

سہل کہتا ہوں ممتنع حسرت
نغز گوئی مرا شعار نہیں

شعردراصل ہیں وہی حسرت
سنتے ہی دل میں جو اُتر جائیں

رکھتے ہیں عاشقان حسن سخن
لکھنوی سے نہ دہلوی سے غرض

صحت مندانہ لہجہ:۔[ترمیم]

حسرت موہانی کی شاعری کا لہجہ صحت مندانہ ہے ان کے لہجی میں خلوص اور صداقت کی پرچھائیاں موجود ہیں مثلاً

اس شوخ کورسوا نہ کیا ہے نہ کریں گے
ہم نے کبھی ایسا نہ کیا ہے نہ کریں گے

نہیں آتی تو یاد ا ن کی مہینوں تک نہیں آتی
مگر جب یاد آتے ہیں تو اکثر یاد آتے ہیں

غزل کی زبان سے استفادہ:۔[ترمیم]

فارسی شعراءمیں حسرت نے شمس تبریز ( مولانا روم) جامی، سعدی، نظیری اور فغانی کے تتبع کا اعتراف کیا ہے۔ اور اردو شعراءمیں میر، غالب، نسیم اور مومن اور مصحفیؔ سے خصوصیت کے ساتھ متاثر ہیں مثلاً وہ خود کہتے ہیں کہ،

غالب و مصحفی و میرو نسیم و مومن
طبع حسرت نے اٹھا یا ہر استاد سے فیض

طرز مومن پہ مرحبا حسرت
تیری رنگین نگاریاں نہ گئیں

اردو میں کہاں ہے اور حسرت
یہ طرز نظیری و فغانی!

حسن پرستی:۔[ترمیم]

حسرت موہانی کی ساری شاعری عشق و محبت کے محور کے گرد گھومتی ہے۔ ان کی شاعری میں محبوب کے نفسیات اور حسن و خوبصورتی کی عکاسی زیادہ ہیں۔ ان کی شاعری میں حسن پرستی کے عناصر بہت زیادہ ہیں مثلاً

سر کہیں، بال کہیں، ہاتھ کہیں پاؤں کہیں
ان کا سونا بھی ہے کس شان کا سونا دیکھو

برق کو ابرکے دامن میں چھپا دیکھا ہے
ہم اس شوخ کو مجبور ِ حیا دیکھا ہے

یادبھی دل کو نہیں صبر و سکوں کی صورت
جب سے اس ساعد سمیں کو کھلا دیکھا ہے

حسن تغزل:۔[ترمیم]

حسرت موہانی کی شاعری کی ایک اور اہم خصوصیت حسن تغزل ہے۔ مثلاً

تیری محفل سے اٹھاتا غیر مجھ کو کیا مجال
دیکھتا تھا میں کہ تو نے بھی اشارہ کر دیا

بڑھ گئیں تم سے تو مل کر اور بھی بے تابیاں
ہم یہ سمجھے تھے اب دل کو شکیبا کر دیا

اک مرقع ہے حسن شوخ ترا
کشمکش ہائے نوجوانی کا

سیاسی رنگ:۔[ترمیم]

حسرت موہانی کاسیاست سے بھی گہرا واسطہ تھا۔ سیاسی حوالے سے وہ کئی بار جیل کی ہوا کھا چکے تھے مشق سخن اور چکی کی مشقت ان کی شاعری میں واضح ہے۔ مثلاً

کٹ گیا قید میں رمضاں بھی حسرت
گرچہ سامان سحر کا تھا نہ افطاری کا

ہم قول کے صادق ہیں اگر جان بھی جاتی
واللہ کہ ہم خدمت انگریز نہ کرتے

مجموعی جائزہ:۔[ترمیم]

ڈاکٹر سیدعبداللہ کا حسرت موہانی کے بارے میں کہنا ہے
”حسرت کی مقبولیت کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ انہوں نے غزل کے قدیم و جدید رنگ کو باہم اسی طرح ملا دیا کہ ان کی غزل سے ہر رنگ اور ہر ذوق کا قاری متاثر ہوتا ہے۔“

بقول عطا کاکوروی،
” حسرت کا اندازبیان اتنا اچھوتا اور والہانہ ہے اور اس میں ایسی شگفتگی و رعنائی ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔“

بقول نیاز فتح پوری
” حسرت کی نغمہ بیخودی کو سن کر لوگ چونک اُٹھے روحیں وجد کرنے لگیں اور شعر و فن کی فضا چمک اٹھی وہ اپنے رنگ میں منفرد تھے اور ان کا کوئی ہمسر نہیں ۔