اکبر الہ آبادی
| اکبر الہ آبادی | ||
|---|---|---|
اکبر الہ آبادی
|
||
| ادیب | ||
| پیدائشی نام | سید اکبر حسین | |
| تخلص | اکبر | |
| ولادت | 1846ء | |
| وفات | 1921ء | |
| اصناف ادب | شاعری | |
| ذیلی اصناف | غزل، نظم | |
الٰہ آباد کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سرکاری مدارس میں پائی اور محکمہ تعمیرات میں ملازم ہوگئے۔ 1869ء میں مختاری کا امتحان پاس کرکے نائب تحصیلدار ہوئے۔ 1870ء میں ہائی کورٹ کی مسل خوانی کی جگہ ملی۔ 1872ء میںوکالت کا امتحان پاس کیا۔ 1880ء تک وکالت کرتے رہے۔ پھر مصنف مقرر ہوئے ۔ 1894ء میں عدالت خفیفہ کے جج ہوگئے۔ 1898ء میں خان بہادر کا خطاب ما۔ 1903ء میں ملازمت سے سبکدوش ہوگئے۔
ابتداء میں غلام حیدر تلمیذ آتش سے اصلاح لی۔ پھر اپنا الگ رنگ پیدا کیا۔ ان کی شہرت ظرافت آمیز اور طنزیہ اشعار پر مبنی ہے۔ مشرقیت کے دلدادہ اور مغربی تہذیب کی کورانہ تقلید کے سخت خلاف تھے۔ مغرب زدہ طبقے کو طنز و مزاح کی چٹکیاں لے کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرتے تھے۔ کلام میں مس، سید ، اونٹ ، کالج، گانے ، کلیسا، برہمن ، جمن ، بدھو میاں مخصوص اصطلاحیں اور علامتیں ہیں۔ مخزن لاہور نے انھیں لسان العصر خطاب دیا۔ مبطوعہ کلام تین کلیات پر مشتمل ہے۔ دو ان کی زندگی میں شائع ہوگئے تھے۔ تیسرا انتقال کے بعد طبع ہوا۔
فہرست |
[ترمیم] لقب
- لسان العصر
[ترمیم] نمونہ کلام
- بے پردہ نظر آئیں جو کل چند بیبیاں
اکبر زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیا
پوچھا جو ان سے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا
کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا۔
(مندجہ بالا قطعے اب سو فی صد درست ہیں)
[ترمیم] حمد کے چند اشعار
کہو کریگا حفاظت میری خدا میرا
رہوں جو حق پہ، مخالف کیا کریں گے میرا
خدا کے در سے اگر میں نہیں ہوں بیگانہ
تو ذرہ ذرہ عالم ہے، آشنا میرا
مری حقیقت ہستی، یہ مشیت خاک نہیں
بجا ہے مجھ سے جو پوچھے کوئی، پتا میرا
انہیں ہے عقل، جو محتاج غیر ہے ہردم
مجھے ہے عشق کہ جو خود ہے، مدعا میرا
غرو انہیں ہے، تو مجھ کو بھی ناز ہے اکبر
سواخدا سب ان کا ہے، اور خدا میرا
موت سے غفلت جوانی میں تو لذت دے گئی
ہاں مگر پیری میں اس نے مجھ کو رسوا کردیا
کیا میرے اک دل کو خوش کرنے پہ وہ قادر نہیں!
اک کن سے دو جہاں کو جس نے پیدا کردیا
بے غرض ہوکر مزے سے زندگی کٹنے لگی
ترک خواہش نے ہمارا بوجھ ہلکا کردیا
[ترمیم] نعت کے چند اشعار
در فشانی نے تیری قطروں کو دریا کردیا
دل کو روشن کردیا آنکھوں کو بینا کردیا
خود نہ تھے جو راہ پر اوروں کے ہادی بن گئے
کیا نظر تھی جس نے مردوں کو مسیحا کردیا
[ترمیم] چند دیگر منتخب اشعار
دلا کر جھوٹی امیدیں دلوں کو خون کرتے ہو
نہ یہ طرز ادا اچھی نہ یہ شوق جفا اچھا
یہ ملنے ہی سے اکثر رنج بھی ہو جاتے ہیں پیدا
جو سچ پوچھو تو ملنے سے، نہ ملنے کا گلہ اچھا
بنائے کار جہاں کو خراب ہی دیکھا
ہمیشہ ہم نے یہاں انقلاب ہی دیکھا
ہم انقلاب کے شائق نہیں زمانے میں
کہ انقلاب کو بھی انقلاب ہی دیکھا
رونا تو ہے اسی کا کوئی نہیں کسی کا
دنیا ہے اور مطلب، مطلب ہے اور اپنا
نفس کے تابع ہوئے ایمان رخصت ہوگیا
وہ زنانے میں گھسے مہمان رخصت ہوگیا
مے انہوں نے پی، اب ان کے پاس کیونکر دل لگے
جانور اک رہ گیا، انسان رخصت ہوگیا
نہ کتابوں سے نہ کالج کے ہے در سے پیدا
دین ہوتا ہے بزرگوں کی نظر سے پیدا
جو خرد مند ہیں وہ خوب سمجھتے ہیں یہ بات
خیر خواہی وہ نہیں ہے، جو ہو ڈر سے پیدا
رنج دنیا سے بہت مظرب الحال تھا یہ
دل میں تسکیں ہوئی مذہب کےاثر سے پیدا
علوم دنیوی کے بحر میں غوطے لگانے سے
زباں گو صاف ہوجاتی ہے، دل طاہر نہیں ہوتا
نہ خلق اس کی خبر لیتی نہ عقل اس کی مدد کرتی
خدا جب تک کسی کا حافظ و ناصر نہیں ہوتا
حضور قلب اگر حاصل نہیں تجھ کو تعجب کیا
خدا جب دل سے غائب ہو تو دل حاضر نہیں ہوتا
یہ سست ہے تو پھر کیا وہ تیز ہے تو پھر کیا
نیٹو جو ہے تو پھر کیا انگریز ہے تو پھر کیا
رہنا کسی سے دب کر ہے امن کو ضروری
پھر کوئی فرقہ ہیبت انگیز ہے تو پھر کیا
رنج و خوشی کی سب میں تقسیم ہے مناسب
بابو جو ہے تو پھر کیا، چنگیز ہے تو پھر کیا
ہر رنگ میں ہیں پاتے، بندے خدا کے روزی
ہے پینٹر تو پھر کیا، رنگریز ہے تو پھر کیا
جیسی جسے ضرورت ویسی ہی اس کی چیزیں
یاں تخت ہے تو پھر کیا، واں میز ہے تو پھر کیا
حق سے اگر ہے غافل ہرگز نہیں ہے عاقل
ہنری جو ہے تو پھر کیا، پرویز ہے تو پھر کیا
مفقود ہیں اب اس کے سننے سمجھنے والے
میرا سخن نصیحت، آمیز ہے تو پھر کیا
کیسی ہی سلطنت ہو سب خوش نہ رہ سکیں گے
گر ترک ہے تو پھر کیا، انگریز ہے تو پھر کیا
منزل وہی ہے جس کو نبیوں نے ہے بتایا
اسٹیم ہے تو پھر کیا، مہمیز ہے تو پھر کیا
گھر کا چراغ دیکھو، یعنی کہ دل سنبھالو
کوئی انا۔ دم بھر گل ریز ہے تو پھر کیا
اسلام و حق کے حامی، ہرگز نہیں ہیں ہم تم
حرص و غرور حسرت انگیز ہے تو پھر کیا
دونوں ہی مررہے ہیں دونوں کا حشر ہوگا
نیٹو جو ہے تو پھر کیا، انگریز ہے تو پھرکیا
تہ کرو صاحب نسب نامی، وہ وقت آگیا ہے اب
بے اثر ہوگی شرافت، مال دیکھا جائے گا
رکھ قدم ثابت نہ چھوڑا، اکبر صراط مستقیم
خیر چل جانے دے ان کی چال دیکھا جائے گا