ایف-22 ریپٹر
| ایف-22 ریپٹر | |
| عمومی معلومات | |
| قسم | سٹیلتھ لڑاکا جہاز |
| بنانے والی کمپنی | لاکہیڈ مارٹن |
| استعمال کرنے والے ممالک | امریکہ |
| حالت | فضائیہ میں شامل |
| قیمت | 120 ملین ڈالر |
ایف-22 ریپٹر امریکہ کا نیا اور دنیا کا جدید ترین لڑاکا ہوائی جہاز ہے۔ اسے لاکہیڈ مارٹن نے بنایا ہے۔ یہ دنیا کا پہلا مخفہ ہوائیہ ہے یعنی یہ ریڈار پر نظر نہیں آتا۔
ریپٹر سب سے پہلے 9 ستمبر 1997 میں اڑا۔ اس کو دسمبر 2003 نیواڈا ایئر بیس کے حوالے کر دیا گیا جنھوں نے اسے چیک کیا۔
فہرست |
خصوصیات [ترمیم]
ایف-22 ریپٹر کی رفتار ماک 2.5 ہے۔ اسکے اندر ایک پائلٹ کے بیٹھنے کی جگہ ہوتی ہے۔
اسلحہ [ترمیم]
ریپٹر دوسرے ہوئی جہازوں کے خلاف دو اقسام کے میزائل رکھتا ہے۔ ایک سائیڈونڈر میزائل (Sidewinder) اور دوسرا ایمریم میزائل (AMRAAM) ہے۔ اسکے علاوہ یہ زمینی نشانوں کے لیۓ جوائنٹ ڈائیرکٹ اٹیک منشن JDAM بھی استعمال کرتا ہے اور جلد ہی اس یہ امریکی ایئر فورس کا نیا بم ایس بی ڈی SBD بھی لے جانے صلاحیت رکھے گا۔ اسکے اندر ایک عدد مشین گن بھی نسب ہے۔
جنگی آلات [ترمیم]
ایف-22 ریپٹر کے لیۓ ایک نیا مشعاحد AN/ASG-77 AESA بنایا گیا جو کہ مشعاحد مکشاف سے خفیہ رہتا ہے اسکے علاوہ یہ دشمن کے مشعاحد ہی کی طرف اپنی موجیں بیج کر اس ریڈار کو دھوکہ دے سکتا ہے۔ اس کے اندر ریتھن کمپنی کے دوسی آئی پی یونٹ (CIP) بھی لگے ہوتے ہیں جو کہ ہر سیکنڈ 10.2 بلین کمپیوٹر کے احکامات پر عمل کرتے ہوۓ پائلٹ کے سامنے والی سکرین پر پیش کرتے ہیں۔
عام معلومات [ترمیم]
پیمائش [ترمیم]
- عملہ : 1
- لمبائی : 18.56 میٹر / 62.1 فٹ
- پر کی لمبائی : 13.56 میٹر / 44.6 فٹ
- اونچائی : 5.08 میٹر / 16.8 فٹ
- وزن : 14366 کلوگرام
کارکردگی [ترمیم]
اسلحہ [ترمیم]
- مشین گن:
- جہازوں کے خلاف اسلحہ:
- 6 × اے آئی ایم 120 ایمریم میزائل (AMRAAM)
- 2 × اے آئی ایم 9 سائیڈونڈر میزائل (Sidewinder)
- زمینی نشانوں کے لیۓ اسلحہ:
- 2 × اے آئی ایم 120 ایمریم میزائل (AMRAAM)
- 2 × اے آئی ایم 9 سائیڈونڈر میزائل (Sidewinder)
- 2 × جے ڈی اے ایم (JDAM)
- 2 × ڈبلیو سی ڈی ایم (WCDM)
- 8 × جی بی یو 39 (GBU-39)
بیرونی روابط [ترمیم]
| ویکیمیڈیا العام میں ایف-22 ریپٹر سے متعلق وسیط موجود ہے۔ |