تھاکسن شیناواترا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
تھاکسن شیناواترا

پیدائش:26 جولائی 1949ء

تھائی لینڈ کے سابق وزیر اعظم

ابتدائی زندگی[ترمیم]

تھائی لینڈ کے شمالی شہر چیانگ مائی میں پیدا ہونے والے شیناواترا نے اپنے کیریئر کا آغاز بطور پولیس افسر کیا تھا۔ 1973 میں انہیں ایک سکالرشپ ملا اور وہ کریمنل جسٹس میں ماسٹرز کرنے امریکہ چلے گئے۔ امریکہ سے واپس آنے کے بعد انہوں نے اپنا کروبار شروع کیا اور اسی کی دہائی میں ایک کامیاب ٹیلی کمیونیکیشن گروپ بنا ڈالا۔

سیاسی زندگی[ترمیم]

انہوں نے 1998 میں ’تھائی رک تھائی‘ کے نام سے ایک سیاسی جماعت بنائی جس نے تھائی سیاست کا رخ بدل دیا۔انہیں غریب ووٹرز سے لے کر امیر کمپنیوں تک کی حمایت حاصل تھی۔ 2004 میں سونامی کی وجہ ہونے والی تباہی کے بعد تعمیرِ نو کے سلسلے میں ان کی حکومت کی کارکردگی کو کافی سراہا گیا۔لیکن اس کے علاوہ انہیں کئی محاذوں پر کافی مشکلات کا سامنا تھا۔

مقبولیت میں کمی[ترمیم]

ان کح حکومت پر الزام تھا کہ اس نے برڈ فلو کے سلسلے خبروں کو روکنے کی کوشش کی تھی۔ اس کے علاوہ جرائم کی روک تھام کے ان کی حکومت کے طریقۂ کار بھی زیرِ تنقید رہے۔ تاہم 2003 میں منشیات پر قابو پانے اور اس میں ملوث افراد کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کے دوران دو ہزار پانچ سو افراد کی موت سے بھی عوامی سطح پر ان کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔ اور نہ ہی تھائی لینڈ کے کرپشن کمیشن کے اس اعلان کے بعد کہ انہوں نے اپنی پوری دولت اور جائداد ظاہر نہیں کی تھی۔ شیناواترا پر یہ بھی تنقید ہوتی رہی ہے کہ ان کی حکومت ملک کے جنوبی حصے میں بغاوت پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔ تاہم ہر مرتبہ تھائی وزیرِ اعظم صاف بچ نکلتے اور تھائی لینڈ کے دیہاتی ووٹروں میں ان کی مقبولیت میں کوئی کمی نہ آتی۔


کرپشن[ترمیم]

لیکن شین کارپوریشن کی فروخت نے ایک ایسا طوفان کھڑا کر دیا جس کو روکنا شیناواترا کے لیئے بہت مشکل ثابت ہوا۔ انہوں نے تھائی لینڈ کے سب سے بڑے ٹیلی کام گروپ، شن کارپوریشن، میں اپنے حصص بیچ دیئے تھے۔ تاہم اس سے شیناواترا کے خاندان اور دیگر افراد نے ایک اعشاریہ نو بلین ڈالر کمایا جس سے بہت سے تھائی خوش نہیں تھے۔ ان کو شکایت تھی کہ شیناواترا کے خاندان نے ٹیکس سے بچنے کے لیئے اتنے اہم قومی سرمائے کو سنگاپور کے سرمایہ کاروں کے حوالے کر دیا ہے۔


فوجی انقلاب[ترمیم]

19 ستمبر 2006ء کو جنرل سونتی کی سربراہی میں تھائی افواج نے اہم سرکاری عمارتوں پر فوج نے قبضہ کرلیا ہے۔ اس وقت وزیراعظم امریکہ میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے دورے پر تھے۔ فوج نے بعد میں شاہ کی سرپرستی میں مارشل لاء کا اعلان کر دیا۔