جائفل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
wikipedia:How to read a taxoboxHow to read a taxobox
جائفل / جوزۃ الطیب
جائفل پودے کے حصے
جائفل پودے کے حصے


قواعد اسم بندی
ساحہ:
domain
حقیقی المرکزیہ
مملکہ:
kingdome
نباتات
شعبہ:
division
میگنولتات
‏Magnolio-phyta
جماعت:
class
میگنولیتی
Magnoliopsida
طبقہ:
order
میگنولطب
Magnoliales
خاندان:
family
متبادل زیرتحقیق
Myristicaceae
جنس:
genus
جائفل
Myristica
Gronov
نوع:
species
جائفل طیب
M.fragrans

انواع

متبادل زیرتحقیق

  • Myristica argentea
  • جائفل طیب
    Myristica fragrans
  • Myristica malabarica

علم نباتیات میں جائفل پودوں کی ایک جنس (genus) کا نام ہے جس میں کئی اقسام کی انواع (species) شامل ہوتی ہیں ، جبکہ وہ عام بیج جسکو عموما پکوان میں استعمال کیا جاتا ہے اسکا مکمل نام جائفل طیب (Myristica fragrance) ہے جو کہ بذات خود جنسِ جائفل کا ایک رکن ہے۔

جائفل طیب کے پودے میں موجود بیج پر سرخ چھال سے جاوتری اور اسی بیچ کے خول کے اندر موجود عجمہ (kernel) سے جائفل حاصل ہوتا ہے۔

جائفل طیب ایک ایسا پودہ ہے جس سے دو مشہور حکمت کی ادویات اور دو مشہور غذائی زائقے یعنی جائفل اور جاوتری حاصل ہوتے ہیں۔ اس پودے کو جائفل طیب کہنے کی وجہ مندرجہ بالا دو اجزاء سے حاصل ہونے والی خشبو ہے طیب کا مفہوم خشبودار کا ہوتا ہے انگریزی میں اسکو Myristica fragrans کہا جاتا ہے اور یہاں بھی fragrans کا مطلب خشبو یا طیب ہے جبکہ myristica کا مفہوم ایک روغن یا مالش کرنے والی شے کا ہے کیونکہ اس پودے سے حاصل ہونے والے تیل یا روغن کو ادویاتی مالش کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ مندرجہ بالا وضاحت کے بعد اگر دیکھا جاۓ تو Myristica fragrans کے لیۓ جائفل طیب کے بجاۓ مروخ طیب درست متبادل اصطلاح بنتی ہے لیکن چونکہ مروخ کی نسبت جائفل کا لفظ اتنا اہم اور مشہور ہے کہ اگر اسی کو جنس کے نام کے طور پر اختیار کرلیا جاۓ تو کچھ غلط نہ ہوگا مزید یہ کہ اس جنس کے پودے اسقدر مماثل ہیں کہ انکو جائفل کے زمرے میں بخوبی اور بلاابہام رکھا جاسکتا ہے۔ اسی وجہ سے یہاں Myristica fragrans نامی نوع کے لیۓ جائفل طیب کا لفظ منتخب کیا گیا ہے۔

اس پودے کا یہ بیج 20 تا 30 ملی میٹر لمبا اور 15 تا 18 ملی میٹر چوڑا ہوتا ہے، وزن میں یہ تقریباً 5 تا 10 گرام ہوتا ہے۔ اور جیسا کہ دائیں جانب تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اس بیج کے اندر جو عجمہ یا kernel ہوتا ہے اس کو جائفل کہتے ہیں جبکہ اس بیج کے اوپر ایک سرخ رنگ کی چھال غلاف کی مانند لپٹی ہوتی ہے جو کہ اسکے گرد ایک تھیلہ سا بنا دیتی ہے اور اس ہی کو جاوتری کہا جاتا ہے، اس قسم کی چھال جو کہ کسی بیج کے اوپر تھیلے کی طرح سے چڑھی ہوئی ہو اسے مجففہ (arillus) کہا جاتا ہے ، اس قسم کا مجففہ پھول کر گودہ بھی بنا سکتا ہے اور یا پر چھال نما بی ہوسکتا ہے لہذا جائفل کے بیج پر لپٹی ہوئی یہ جاوتری بھی دراصل ایک قسم کا مجففہ ہی ہے۔