جمشید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

خاندان پیش دادیان ایران کا مشہور افسانوی بادشاہ ۔ جس نے سات سو سال حکومت کی۔ جمشید دو قدیم الفاظ کا مرکب ہے۔ جم اور شید ۔ جم سنسکرت کا ’’یم ‘‘ ہے یعنی پاتال کا مالک اور ’’شید‘‘ کے معنی روشن ہیں۔ کہتے ہیں اس کے پاس ایک پیالہ تھا جس کو گردش دینے سے اسے دنیا کے تمام حالات کا علم ہو جاتا تھا ۔اس نے ایران کے قدیم دارالسلطنت ’’پرسی پولس‘‘ تخت جمشید کی تعمیر کی۔ وہ شمسی کیلنڈر ، نوروز ، شراب ، اسلحہ جات ، ریشمی کپڑا غرض تمام علوم و فنون کا موجد خیال کیا جاتا ہے۔ آخر میں اس نے خدائی کا دعوی کیا۔ تب زرتشتی عقائد کے مطابق آسمانی طاقتوں نے ضحاک کو اس کی سرزنش پر مامور کیا۔ ضحاک نے جمشید کو شکست دی۔ اور اُسے آرے سے چیز کر ہلاک کر دیا۔ جمشید مشہور آریائی بادشاہ، اس نے دنیا کو آباد کیا اور بہت سی اصلاحات کیں اور قائدے مرتب کئے۔ اس نے قائدے، تنظیم، پیشے، علوم، و تجارت کو فروغ دیا، نیز بہت سی ایجادات کیں۔ (منہاج سراج طبقات ناصری جلد اول، 350) یہاں تک شیطان نے اسے گمرہ کردیا۔ اس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور اپنی پوجا کو حکم دیا، لوگوں نے اس کے خلاف بغاوت کردی۔ یہاں تک کہ شام کے بادشاہ ضحاک تازی نے حملہ کرکے اسے شکست سی۔ انگوری شراب کی ایجاد اس سے منسوب کی جاتی ہے۔ (ڈاکٹر معین الدین، قدیم مشرق جلد دوم، 7) جمشید کا اوستا میں نام یہنہ آیا ہے اور اس کے باپ کا نام دیوہونت۔ اوستا میں یمنہ کے معنی جڑواں اور ہمزاد کے ہیں۔ یہ نام رگ وید میں بھی آیاہے۔ برہمنی کتابوں میں یم اور اس کی بہن ہمنی بمنزلہ آدم و حوا کے ہیں۔ شید اوستامیں اس کے نام کا جز نہیں ہے، لیکن دوسرے خطعات میں خشت اس کے نام کا جزو ہے۔ مسلمان مورخوں نے جمشید کی تفصیل لکھی ہے۔ ابوالفدا لکھتا ہے جم بمعنی چاند شید بمعنی شعائیں، یعنی شعاع قمر۔ ابن اثیر، ابن مسکویہ اور صاحب مجمل اس بادشاہ کی نیکی کے متعرف ہیں، مجمل ہے کہ وہ اپنی نیکی اور اچھائی کی وجہ سے جمشید کہلاتا تھا۔ دوسری جگہ لکھاہے کہ جم شید بمعنی سورج کے ہے۔ شاید خشت اوتائی لفظ مرور زماننہ سے شید بن گیا ہو۔ (عبدالحئی حبیبی۔ تقلیمات طبقات ناصری جلد دوم، 367 تا 368) شمالی ہند کے بہت سے مسلم قبائل جمشید کو اپنا مورث اعلیٰ قرار دینے لگے ہیں۔