جگر مراد آبادی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

آپ کا تخلص‘‘‘جگر مرادآبادی‘‘‘ تھا۔ بھارت کی ریاست اترپردیش کے شہر مراداباد میں پیدا ہوئے۔ اردو کے مشہور شاعر گذرے ہیں۔ آپ ٦ اپریل ١٨٩٨ کو مرادآباد میں پیدا ہوے .آپ بیسویں صدی کے اردو کے مشھور شاعروں میں سے ایک ہیں .آپ کو سب سے زیادہ نظموں کو جمع کرنے پر ایوارڈ ملا .آپ کم عمر میں ہی اپنے والد سے محروم ہو گۓ اور آپ کا بچپن آسان نہیں تھا .آپ نے مدرسے سے اردو اور فارسی سیکھی .شروع میں آپ کے شاعری کے استاد رسہ رامپوری تھے .آپ غزل لکھنے کے ایک سکول سے تعلق رکھتے تھے .بلا کے مے نوش تھے مگر بڑھا پے میں تا ئب ہو گئے تھے -آپ کا ٩ ستمبر ١٩٦٠ کو انتقال ہو گیا .گوندا میں ایک رہائشی کالونی کا نام آپ کے نام پر 'جگر گنج ' رکھا گیا ہے .وہاں ایک سکول کا نام بھی آپ کے نام پر جگر میموریل انٹر کالج رکھا گیا ہے. .

نمونہءکلام[ترمیم]

کسی صورت نمودِ سوزِ پنہانی نہیں جاتی

بھجا جاتا ہے دل چہرے کی تابانی نہیں جاتی

صداقت ہو تو دل سینے سے کھنچنے لگتے ہیں واعظ

حقیقت خود کو منوالیتی ہے مانی نہیں جاتی

چلے جاتے ہیں بڑھ بڑھ کرمٹے جاتے ہیں گرگرکر

حضورِ شمع پروا نوں کی نادانی نہیں جاتی

وہ یوں دل سے گزرتے ہیں کہ آ ہٹ تک نہیں ہوتی

وہ یوں آواز دیتے ہیں کہ پہچانی نہیں جاتی

محبت میں اک ایسا وقت بھی دل پر گزرتا ہے

کہ آنسو خشک ہو جاتے ہیں طغیا نی نہیں جاتی


******-------------

گلشن پرست ہوں مجھے گل ہی نہیں عزیز

کانٹوں سے بھی نباہ کئے جا رہا ہوں میں


******--------

آدمی آدمی سے ملتا ہے

دل مگر کم کسی سے ملتا ہے


*****------

میں وہ صاف ہی نہ کہہ دوں‘جو ہے فرق تجھ میں مجھ میں

ترا درد دردِ تنہا‘مرا غم غمِ زمانہ

مرے دل کے ٹوٹنے پر ‘ہے کسی کو ناز کیا کیا

مجھے اے جگر مبارک‘یہ شکستِ فاتحانہ


******_-----------

بیرونی روابط[ترمیم]