حق آقا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

پندرھویں صدی تک یورپ کے کچھ علاقوں بالخصوص فرانس اور اٹلی میں یہ قانون ہوا کرتا تھا کہ شادی کی رات دلہن کے نزدیک جانے والا پہلا شخص شوہر نہیں بلکہ علاقے کا حاکم ہو تا تھا جو عام طور پر سب سے بڑا زمیندار ہوا کرتا تھا۔ یہ قانون یا رسم Droit du seigneur کہلاتی تھی۔ اسے jus primae noctis بھی کہتے ہیں۔ بسا اوقات حاکم یا نواب دولہا سے اپنی اس "خدمت" کا معاوضہ بھی وصول کرتے تھے۔ جو لوگ معاضہ ادا کرنے کے قابل نہ ہوتے تھے انہیں شادی کرنے کی اجازت نہ ہوتی تھی۔ معاوضے کی وصولی کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی تھی کہ حاکم یہ خدمت انجام دے کر دلہن کا بانچھ پن ختم کرتا ہے نہ کہ اپنی نفسانی خواہش کی تکمیل۔

Vasily Polenov: Le droit du Seigneur (1874).
ایک بوڑھا کسان اپنی بیٹیوں کو زمیندار سے متعارف کرانے لایا ہے.

پرانے زمانے میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ خدا ہی ساری زندہ چیزوں میں روح ڈالنے والا ہے اور زمیں پر خدا کا نائب (پجاری یا پادری کی شکل میں) اولاد اور فصل کی بہتات کا ضامن ہوتا ہے. بعد میں جب بڑی بڑی بادشاہت قائم ہونے لگیں تو پجاری کی جگہ بادشاہ کو ایسی قوتوں کا مالک سمجھا جانے لگا۔ کسی زمانے میں یہ عقیدہ عام تھا کہ بادشاہ کی مردانہ طاقت ہی سلطنت کی بقا اور مضبوطی کی علامت ہے۔droit. جب آبادی کے بڑھنے کی وجہ سے دلہنوں کی تعداد بہت زیادہ ہونے لگی تو بادشاہ کی جگہ بادشاہ کی مورتی کو استعمال کیا جاتا تھا۔ بادشاہ یا نواب کو یہ اختیار بھی حاصل ہوتا تھا کہ وہ کسی دلہن کو مسترد کر دیں۔


1865 تک امریکہ میں غلام رکھنا قانونی تھا اور خاتون غلام ( کنیز ) بھی اپنے مالک کی مرضی کی تابعداری پر مجبور ہوتی تھی۔

مزید دیکھیئے[ترمیم]