راتکو ملادیچ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

راتکو ملادیچ, پدائش 12 مارچ 1942ء بوسنیا جنگ کے دوران بوسنیا سرب فوج کا سربراہ تھا۔ 1995 میں اس کی فوج نے بوسنیا کے علاقہ سریبرینیتسا پر اقوام متحدہ کی فوج کو نکال کر قبضہ کیا اور آٹھ ہزار مسلمانوں کو گرفتار کر کے قتل کر دیا، جس پر اسے جنگی مجرم قرار دیا گیا مگر وہ سربیا فرار ہو گیا۔ 16 سال سربیا کی حکومت اسے پناہ دیتی رہی۔ آخر کار یورپی اتحاد کی رکنیت کے چکر میں دوسرے ممالک کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے سربیا نے راتکو ملادیچ کو مئی 2011ء کو گرفتار کر لیا۔[1] [2]