سرفروشی کی تمنا

وکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

سرفروشی کی تمنا رام پرساد بسمل کی لکھی ہوئی ایک مشہور نظم ہے۔

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے    دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
راہ روئے راہِ محبت رہ نہ جانا راہ میں    لذتِ صحرا نوردی دوری منزل میں ہے
وقت آنے دے بتادیں گے تجھے اے آسمان    ہم ابھی کیا بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے
اے شہید ملک و ملت تیرے جذبوں کے نثار    تیری قربانی کا چرچا غیر کی محفل میں ہے
دور ہو اب ملک سے تاریکی بغض و حسد    بس یہی حسرت یہی ارماں ہمارے دل میں ہے
ساحل مقصود پر لے جا چل خدارا ناخدا    اپنے ارمانوں کی کشتی بڑی مشکل میں ہے
اب نہ اگلے ولولے ہیں نہ ارمانوں کی بھیڑ    ایک مٹ جانے کی حسرت اب دلِ بسمل میں ہے

[ترمیم] بیرونی روابط

ذاتی اوزار

متغیرات
ایکشنز
رہنمائی
ساتھی منصوبے
آلات
دیگر زبانیں