سعیدہ وارثی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
قابل احترام بیرونس سعیدہ وارثی


در منصب
4 ستمبر 2012 – 5 اگست 2014
وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرن
پیشرو قائم مقام
جانشین بیرونس اینیلی سینٹ جونز (وزیر مملکت)

در منصب
4 ستمبر 2012 – 5 اگست 2014
وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرن
پیشرو ہیزل بلئیرز[a]
جانشین ایرک پکل (عارضی)

در منصب
12 مئی 2010 – 4 ستمبر 2012
لارڈ فیلڈمین الیسٹری کے ساتھ بطور مددگار
Leader ڈیوڈ کیمرن
پیشرو ایرک پکل
جانشین گرانٹ شپس

در منصب
12 مئی 2010 – 4 ستمبر 2012
Leader ڈیوڈ کیمرن
پیشرو ہیزل بلئیرز[b]
جانشین کینتھ کلارک
گرانٹ شپس

در منصب
2 جولائی 2007 – 11 مئی 2010
پیشرو قائم مقام
جانشین عہدہ قائم مقام سے علیحدگی

پیدائش 28 مارچ 1971 (1971-03-28) ‏(43)
ڈیوزبری, انگلینڈ
سیاسی جماعت کنزرویٹو
مادر علمی جامعہ لیڈز
کالج آف لا
مذہب سنی مسلمان
a. ^ آفس سےچھٹیاں 6 جون 2009 – 3 ستمبر 2012
b. ^ آفس سےچھٹیاں 28 جون 2007 – 11 مئی 2010

سعیدہ وارثی 28 مارچ 1971 کو انگلستان کے شمالی علاقہ ویسٹ یارکشائر کے ایک شہر ڈیوزبری میں پیدا ہویں۔ سعیدہ وارثی آج کل برطانیہ کی حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی کی چئیرمین اور وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی کابینہ کی رکن ہیں۔ وہ یہ اعزاز رکھنے والی پہلی مسلمان، ایشیائی اور پاکستانی خاتون ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ برطانیہ کے ہائوس آف لارڈز کی رکن ہیں۔ پارلیمنٹ کے اس ادارے کی رکن کی حیثیت سے انہیں بیرونس سعیدہ وارثی کہا جاتا ہے۔

خاندان و ابتدائی زندگی[ترمیم]

ان کے والدین کا تعلق پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع گوجر خان کے گائوں بیول سے ہے۔ ان کے والد برطانیہ ایک مزدور کی حیثیت سے ہجرت کر کے آئے تھے۔ سعیدہ نے ابتدائی تعلیم برطانیہ ویسٹ یارکشائر کے ایک قصبہ ڈیوزبری سے حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے لیڈز یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔دسمبر 2007 میں ان کی پہلے شوہر سے علیحدگی ہوگئی جو رشتے میں ان کے ماموں کا بیٹا تھا۔ اگست 2009 کو سعیدہ وارثی افتحار اعظم کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں۔

سیاسی دور[ترمیم]

تعلیم کے بعد انہوں نے ٹوری پارٹی کے مقامی چیئرمین کے ساتھ وکالت کی ایک فرم کھولی۔ 2003 میں انہوں نے پہلی مرتبہ کنزرویٹو پارٹی کی ایک میٹنگ سے خطاب کیا۔ 2005 میں انہیں ڈیوزبری سے ممبر آف پارلیمنٹ کا ٹکٹ دیا گیا مگر وہ کامیابی حاصل نہ کرسکیں۔

سعیدہ وارثی

سعیدہ وارثی کو4 جولائی 2007 میں ہاؤس آف لارڈز کا رکن نامزد کردیا گیا۔ ان کی صاف گو باتیں انہیں دیگر سیاست دانوں سے منفرد بناتی ہیں۔

2014 اسرائیل و غزہ تنازعہ پر احتجاج[ترمیم]

[[غزہ پر اسرائيل کے موجودہ حملہ پر دنیا بھر میں احتجاج کیا جا رہا ہے، مگر ابدی تک کسی ملک میں استعفا صرف سعیدہ وارثی نے دیا ہے، پہلے انہوں نے اپنی حکومت میں رہتے ہوئے اسرائیل کے حملوں کی مخالفت کی، مگر برطانوی حکومت کی پالیسی نا بدلی تو انہوں نے استعفا دے دیا۔

انھوں نے 21 جولائی 2014 کو اپنی ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ’معصوم شہریوں کے قتلِ عام کو بند ہونا چاہیے۔ غزہ میں فوری جنگ بندی کی ضرورت ہے اور دونوں جانب تکالیف کے خاتمے کے لیے رہنمائی کی ضرورت ہے۔
تین دن بعد انھوں نے ٹویٹ کی کہ ’کیا لوگ بچوں کے قتلِ عام کی توجیحات پیش کرنا بند کریں گے؟ ہماری جو بھی سیاست ہو مگر اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ صرف غزہ پر دکھ ہوتا ہے۔
[1] منگل 5 اگست 2014 کو سعیدہ وارثی نے اپنے عہدے سے بطور احتجاج استعفی دے دیا اور کہا کہ غزہ ميں فلسطینی ہلاکتوں پر برطانوی حکومت کی پالیسی کا ’اخلاقی طور پر دفاع‘نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ وہ حکومت کی غزہ پالیسی کی مزید حمایت نہیں کر سکتی ہیں۔

اعزازات[ترمیم]

17 مئی 2010 کو سعیدہ وارثی کو برطانیہ کی حکمران جماعت کاچئیرمین اور ساتھی ہی کنزرویٹیو اور لبرل کی مخلوط برطانوی حکومت کی کابینی میں شامل کیا گیا تو وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی پہلی ایشیائی، مسلمان اور پاکستانی خاتون تھیں۔ مارچ 2009 میں برطانیہ کی ایک مقامی تنظیم نے انہیں برطانیہ کی سب سے طاقتور مسلمان خاتون قرار دیا تھا۔

تنقید[ترمیم]

برطانوی کابینہ0 کے اجلاس میں سعیدہ وارثی نے پاکستانی کے روایتی لباس یعنی شلوار قمیض اور دوپٹہ پہن کر شرکت کی ان کے بارے عام طور پر مغربی نشریاتی ادرے یہ مشہور کرتے تھے کہ وہ صرف مغربی لباس ہی زیب تن کرتی ہیں۔
5 اگست 2014 کو سعیدہ وارثی نے استعفا دے دیا، جس پر بہت سوں نے تعریف کی جبکہ کئی افراد نے ان کے اس رویے پر تنقید کی، لارڈ طارق احمد نے کہا کہ ان کا احتجاج ٹھیک، مگر طریقہ کار غلط ہے۔[2]

فلاحی کام[ترمیم]

سعیدہ وارثی سیاسی ذمہ داریوں کے ساتھ سویرا فائونڈیشن نامی ایک فلاحی تنظیم کی بھی سربراہ ہیں جس کے تحت پاکستان کی مستحق خواتین کے لئے خدمات سرانجام دی جاتی ہیں۔



بیرونی روابط[ترمیم]


حوالہ جات[ترمیم]