قلبی وِ عائی نظام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
انسان کے جسم میں پھلی ہوئی اوعیہ (vessels) کا جال جو کہ قلب سے نکلتی ہیں اور تمام جسم کو خون پہنچا کر اور مرکبات کی نقل وحمل کا فریضہ انجام دے کر واپس قلب میں چلی جاتی ہیں۔ (تفصیل کیلیۓ متن دیکھیۓ)

قلبی وعائی نظام (cardiovascular system) کو دورانی نظام (circulatory system) بھی کہا جاتا ہے جو کہ دل اور اس سے نکلنے والی رگوں (vessels) خون اور لمف پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ نظام تمام جسم میں خون کی گردش کو قائم رکھتا ہے اور خون کی اس گردش کی مدد سے تمام جسم کے خلیات تک انکے لیۓ اہم کیمیائی مرکبات (غذا ، آکسیجن وغیرہ) پہنچاۓ جاتے ہیں اور وہاں سے ان خلیات میں پہلے سے موجود ناکارہ کیمیائی مرکبات کو نکال کر اخراجی اعضاء مثلا گردوں اور پھیپڑوں تک لایا جاتا ہے تاکہ انکو جسم سے خارج کیا جاسکے۔

قلبی وعائی نظام کو حیاتیات کے لحاظ سے دیکھا جاۓ تو دورانی نظام کے اعتبار سے جاندراوں کی (بہ الفاظ دیگر کہ سکتے ہیں کہ دورانی نظام کی) تین اقسام ہوتی ہیں
1- معدوم دورانی نظام
2- آزاد دورانی نظام
3- محصور دورانی نظام
ان تینوں نظامات کی مزید تفصیل کے بارے میں انکے اپنے صفحات مخصوص ہیں۔

  • یہ مضمون انسانی دورانی نظام کے بارے میں ہے جو کہ مذکورہ بالا نظامات میں سے تیسرے گروہ سے تعلق رکھتا ہے۔

سادہ الفاظ میں خلاصہ[ترمیم]

سادہ الفاظ میں دورانی نظام ، ایک ایسا نظام ہے کہ جسکے زریعے خون تمام جسم میں دورہ یا گردش کرتا رہتا ہے۔ یہ نظام بنیادی طور پر دل ، رگوں اور خون پر مشتمل ہوتا ہے۔ جسم کے تمام خلیات کو غذائی اجزاء اور آکسیجن کی مستقل ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ نہ صرف اپنے افعال انجام دے سکیں بلکہ اپنی زندگی بھی قائم رکھ سکیں اور چونکہ انسانی جسم کے اکثر خلیات براہ راست غذائی نظام اور بیرونی فضاء سے رابطے میں نہیں ہوتے لہذا یہ ذمہ داری دورانی نظام کی ہوتی ہے کہ وہ خون کی گردش کے زریعے خلیات کو نہ صرف ضروری اجزاء مہیا کرے بلکہ ان میں بننے والے غیرضروری اجزاء کو بھی وہاں سے نکالے کہ وہ خلیات کو ضرر نہ پہنچا سکیں۔

شکل دورانی نظام کے مطابق خون یہ کام کچھ اسطرح کرتا ہے کہ سب سے پہلے یہ پھیپڑوں سے صاف ہوا (آکسیجن) حاصل کرتا ہے اور نظام ہاضمہ سے غذائی اجزاء ، اسکے بعد دل اسکو شریانوں (شکل: شریان نام کی سرخ نالی) کے زریعے جسم کے دور دراز تمام حصوں تک دھکیلتا (یا پمپ کرتا) ہے۔ دل سے نکلنے والی یہ بڑی شریان پھر تقسیم در تقسیم ہوکر (شکل مقام 1) بال جیسی لاتعداد باریک نالیاں بناتی ہے اور اسی لیے انکو شعریات (شعریہ ، بال کو کہتے ہیں ؛ دیکھیۓ شکل) کہا جاتا ہے ، یہی وہ نالیاں یا رگیں ہوتی ہیں جو جسم کے ایک ایک خلیے تک جاتی ہیں اور درآمدات و برآمدات (شکل مقام 3) کا عمل کرتی ہیں جسمیں یہ خلیہ کو ضروری اجزاء برآمد کرتی ہیں اور اسمیں پہلے سے موجود غیرضروری اجزاء کو درآمد کرکے اپنے اندر لے لیتی ہیں۔

دورانی نظام: یہ ایک سادہ اور مختصر خاکہ ہے ، مختلف ناموں اور اعداد کی وضاحت مضمون کے متن میں درج کی گئی ہے

خلیات کو درکار اجزاء انہیں پہنچانے اور ان سے فالتو مادے حاصل کرلینے کے بعد یہ شعریات ایک مرتبہ پھر آپس میں جڑ جڑ کر بڑی نالیاں (شکل مقام 2) بناتی ہیں اور پھر یہ بڑی نالیاں مزید بڑی نالیاں بناتی ہوئی واپس دل میں آکر کھل جاتی ہیں اور یوں تمام جسم سے حاصل ہونے والے غیرضروری مادوں کو دل میں لے آتی ہیں۔ انکو وریدیں (واحد؛ ورید) کہا جاتا ہے۔

تفصیلی ذکر[ترمیم]

حیاتیات و طب میں دورانی نظام کی تعریف یوں کی جاتی ہے کہ یہ وہ نظام جسم ہے جسکے زریعے سے غذائی محلول (و دیگرضروری کیمیائی مادے) جسم میں گردش کرتے ہیں ، عموما اس تعریف کو دل ، رگوں ، خون (اور بعض اوقات lymph یعنی آبگونہ یا آب زلال یا عرق دم) تک محدود رکھا جاتا ہے اور یوں اسکو ایک اور نام ، قلبی وعائی نظام (cardiovascular system) بھی دیا جاتا ہے۔

دورانی نظام بنیادی طور پر، کہیں پھیلی کہیں سکڑی نالیوں سے بنا ایک ایسا بند دائرہ یا راستہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ جسکے ایک سرے پر دل اور دوسرے سرے پر شعریات (capillaries) ہوتی ہیں اور خون ان نالیوں میں مسلسل دوڑتا رہتا ہے۔ خون کی اس گردش کا اصل سرچشمہ دل ہوتا ہے جو کہ اپنی سکڑنے اور پھیلنے کی حرکت سے ان نالیوں یا رگوں میں خون مضخت (pump) کرتا رہتا ہے۔ طبی طور پر ان خون کی نالیوں یا رگوں کو وعاء یعنی vessel کہا جاتا ہے۔

تاریخ[ترمیم]