لحمیات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

لحمیہ (protein) دراصل مکثورہ یا polymer سالمات ہوتے ہیں جو چھوٹے سالمات یا یوں کہ لیں کہ موحود (monomer) سے ملکر بنتے ہیں اور ان موحود سالمات کو امائنو ایسڈ کہا جاتا ہے۔

پروٹین مالیکیولز کا مجموعہ ہے۔ پروٹین امینو ایسڈز سے مل کر بنتا ہے۔ پروٹین کا کام جسم میں واقع ہونے والے تمام کیمیائی عوامل میں عمل انگیز کا کام کرنا، جسم کے خلیوں کی بڑھوتری، توڑپھوڑ اور ڈی این اے کا بنانا ہے۔ یہ خلیات کی مرمت کرتی ہے۔ جن بچوں کو پروٹین نہیں ملتی ان کا قد اور وزن رک جاتا ہے۔ پروٹین کی وجہ سے جسم میں آکسیجن کے جذب ھونے کی رفتار باقاعدہ رہتی ہے۔ اس کی غیر مجودگی میں خون کے سرخ ذرات کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔ یہ ہمارے جسم میں ایندھن کا کام دیتی ہے اور ہمارے جسم کو طاقت اور حرارت پہنچا کر قوت دیتی ہے۔ امینو ایسڈ کیا ہیں؟ انسانی خلئے میں پانی کے بعد سب سے اہم مالیکیول امینو ایسڈ ہوتے ہیں۔ پروٹین انسانی جسم کی بڑھوتری کیلئے بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ پروٹین کی کمی کا مطلب دبلا پن، بال گرنا، جسمانی کمزوری، یاد داشت کی کمی، سوکھے کا مرض، جسمانی تھکن اور توڑپھوڑ، غرضیکہ پورا جسم متاثر ہوتا ہے۔ جسم کے عضلات بڑھانے کیلئے پروٹین کا کردار بنیادی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باڈی بلڈر حضرات پروٹین کی مقدار کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ اگر آپ فربا ہونا چاہتے ہیں، وزن بڑھانا چاہتے ہیں، پتلا پن ختم کرنا چاہتے ہیں تو زیادہ پروٹین کھائیں۔

پروٹین کے ذرائع:

پروٹین کے اہم ترین ذرائع یہ ہیں:

100 گرام مرغی (بریسٹ پِیس) سے 30 گرام پروٹین

100 گرام مچھلی سے 26 گرام پروٹین

100 گرام پنیر سے 32 گرام پروٹین

100 گرام بیف (گائے کے گوشت) سے 36 گرام پروٹین

100 گرام لوبیا (سفید، لال، ہرا) سے 18 گرام پروٹین

100 گرام دال (مسور) سے 26 گرام پروٹین

100 گرام چنوں میں 19 گرام پروٹین

100 گرام انڈے سے 13 گرام پروٹین

100 گرام دودھ سے 6 گرام پروٹین

100 گرام خشک میوہ جات (مثلا بادام، پستہ، مونگ پھلی) سے 33 گرام پروٹین