مائیکروسافٹ ونڈوز کی تاریخ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

مائیکروسافٹ ونڈوز (Windows) کو دنیا کا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا آپریٹنگ سسٹم مانا جاتا ہے تاہم لینکس (Linux) اس کی اجارہ داری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوتا رہا ہے.. اس کی سب سے بڑی وجہ لینکس کا اوپن سورس اور مفت ہونا ہے جس کا مطلب ہے کہ ہر کوئی اس میں اپنی مرضی کی خصوصیات ڈالنے اور تبدیل کرنے میں آزاد ہے اور وہ بھی بغیر کسی لائسنس کے، اس کے علاوہ Mac OS کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا لیکن اس کا استعمال بہت محدود ہے.

وینڈوز کی اقسام[ترمیم]

مائکروسوفٹ (Microsoft) ونڈوز کے مختلف سسٹم مختلف اغراض ومقاصد کے لئے جاری کرتا ہے جس میں عام صارف کے لئے (Clients)، نیٹ ورک اور سرورز (Servers) کے لئے، اور پاکٹ پی سی (Pocket PC).

ذیل میں ونڈوز کے تاریخی نسخوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ اکثریت کا تعارف ونڈوز سے ورزن 3.1 سے ہوا جو 1992 میں منظر عام پر آئی تھی لیکن اس وقت زیادہ تر لوگ یہ نہیں جانتے تھے کہ شروعات اس تاریخ سے تقریباً نو سال پہلے ہوئی تھی جب ستمبر 1981 میں مائکروسوفٹ نے ایک ایسا سسٹم بنانا شروع کیا تھا جو تصویری شکل رکھتا ہو اور جس پر کام کرنا پرسنل کمپیوٹرز پر انتہائی آسان ہو جس کا ابتدائی نام Interface Manager رکھا گیا.. اس وقت MS DOS کے پہلے ورزن کو آئے ہوئے صرف تین ماہ گزرے تھے چنانچہ اس پر کام XEROX Star اور VisiON اور Apple Lisa سسٹمز کی طرف سے شدید مقابلے کے ماحول میں پچیس ماہ تک جاری رکھنے کے بعد مائکروسوفٹ نے نومبر 1983 میں اپنے پہلے سسٹم کا اعلان کردیا جس کا نام Windows 1.0 رکھا گیا.

Windows 1.0[ترمیم]

اگرچہ مائکروسوفٹ نے ونڈوز کے اس پہلے ورزن کا اعلان 1983 میں کیا تھا لیکن یہ باقاعدہ طور پر مارکیٹ میں اس سے دوسال بعد نومبر 1985 میں دستیاب ہوسکا.

Windows 2.0[ترمیم]

اپریل 1987 میں مائکروسوفٹ نے Windows 2.0 کا اجراء کیا جس میں پہلے ورزن کے ہی پروگرام اور ٹولز تھے ما سوائے ورک سپیس میں چند تبدیلیوں اور ڈیسک ٹاپ پر آبجیکٹ اور ونڈوز کو حرکت دینے کی قابلیت کے،1987 کے اواخر میں مائکروسوفت نے Windows 2.0 کا نام بدل کر Windows/386 رکھ دیا اور اس میں DOS کے مزید پروگرام Extended Memory سے چلنے کی قابلیت ڈال دی گئی.. چنانچہ Windows 2.0 کے ساتھ ہی ونڈوز کی اہمیت دوسرے کمپیوٹر پروگرامز کو چلنے کا بہتر ماحول فراہم کرنے کے حوالے سے اور بڑھ گئی اور ساتھ ہی اس کے ماحول میں کام کرنے والے سوفٹ ویئر آہستہ آہستہ معرض وجود میں آنے لگے جیسے Word – Excel - Corel DRAW - Page Maker - اور Micrografx Designer.

Windows 3.0[ترمیم]

مئی 1990 میں Windows 3.0 مارکیٹ میں مزید بہتری اور تبدیلیوں کے ساتھ وارد ہوئی جس میں پہلی دفعہ VGA کی سپورٹ موجود تھی اس کے علاوہ ورک سپیس میں بھی بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں جس میں پہلی دفعہ تمام بٹن اور بعض دوسرے عناصر سہ جہتی 3D شکل لئے ہوئے تھے.

MS-DOS Executive کو Program Manager اور File Manager سے بدل دیا گیا اور Icons پہلے سے زیادہ واضح شکل میں ڈیسک ٹاپ پر ظاہر ہوئے جو MAC سسٹم سے کافی حد تک مشابہت رکھتے تھے.. دوسری طرف Drag & Drop کی خاصیت کا اضافہ کیا گیا جس سے File Manager سے فائلیں Drag & Drop کرکے منتقل کرنا ممکن ہوا.

Control Panel میں بنیادی تبدیلیاں کی گئیں اور اس میں مزید نئے ٹولز کا اضافہ کیا گیا جیسے ڈیسک ٹاپ پر وال پیپر لگانا اور ونڈوز کے رنگ تبدیل کرنا وغیرہ.. اس ورزن میں Task Manager بھی معرض وجود میں آیا جس سے کھلی ہوئی اپلیکیشن اور ونڈوز کے درمیان منتقلی آسان ہوگئی.. Paint جو ورزن 1.0 اور 2.0 میں ظاہر ہوا تھا اس کو Paint Brush سے بدل دیا گیا اور اس میں مزید خوبیوں کا اضافہ کیا گیا جیسے BMP اور PCX فارمیٹ میں تصاویر کو محفوظ کرنا.

لیکن ان تمام تبدیلیوں میں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل تبدیلی Hypertext ٹیکنالوجی پر مبنی Help کی تھی.. ویسے سولیٹیئر گیم پہلی دفعہ اسی میں متعارف کرائی گئی.

Windows 3.1[ترمیم]

اپریل 1992 میں مائکروسوفٹ نے Windows 3.1 کا اجراء کیا جو بہت کامیاب ثابت ہوئی جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ محض چھے ہفتوں سے بھی کم وقت میں مارکیٹ میں اس کی تین ملین کاپیاں فروخت ہوچکی تھیں.. مگر اپنے سلف سے یہ کچھ زیادہ تبدیلیاں نہیں لائی ما سوائے چند تبدیلیوں کے جس میں سب سے اہم خوبی یہ تھی کہ اب ونڈوز Real Mode میں نہیں چلتی تھی چنانچہ لازم ہوگیا کہ اسے 286 بٹ کے پروسیسر یا اس سے زیادہ پر چلایا جائے.

Program Manager میں Startup کے نام سے ایک پروگرام کا اضافہ کیا گیا جس میں ایسے پروگرام ڈالے جاسکتے تھے جو ونڈوز کے چلتے ہی رن ہوجائیں.. ساؤنڈ کارڈ اور True Type فونٹ کی سپورٹ کے علاوہ پہلی دفعہ Screen Saver کو اسی میں متعارف کرایا گیا.. چنانچہ Windows 3.1 سے ہی ونڈوز نے مختلف کمپیوٹر پروگرامز کو کام کرنے کا حقیقی ماحول فراہم کیا اور وقت کے ساتھ ہزاروں کمپیوٹر پروگرام معرض وجود میں آئے جو خاص طور سے ونڈوز کے ماحول میں کام کرنے کے لئے بنائے گئے.

Windows NT 3.1[ترمیم]

اگست 1993 میں مائکروسوفٹ نے Windows NT 3.1 کے اجراء کا اعلان کیا جو Windows 3.1 سے کافی حد تک ملتا جلتا تھا مگر بغیر DOS سسٹم کی ضروت کے.. یہ ونڈوز کا پہلا ورزن تھا جسے 32 بٹ پر بنایا گیا چنانچہ یہ 32 بٹ کے پروگرام کہیں زیادہ قابلیت سے چلا سکتا تھا.. اس ورزن کو بنیادی طور پر اداروں میں استعمال کے لئے بنایا گیا تھا جہاں کمپیوٹر لوکل نیٹ ورک LAN پر چلتے تھے چنانچہ اس میں فائل اور پرنٹرز کی شیئرنگ اور نیٹ ورک یوزر کی مینجمنٹ کے مختلف ٹولز مہیا کئے گئے تھے.. یہ ورزن Windows 3.1 سے زیادہ پائدار ثابت ہوا اور اس طرح یہ اہم ایپلیکیشنز کو چلانے کی پوری صلاحیت کا حامل قرار پایا.

Windows 3.11 for Workgroups[ترمیم]

نومبر 1993 میں مائکروسوفٹ نے Windows 3.11 for Workgroups کا اعلان کیا جسے خاص طور سے LAN نیٹ ورک پر چلانے کے لئے بنایا گیا تھا جس سے اداروں میں نیٹ ورک بنانے کے رجحان میں اضافہ ہوا چنانچہ ونڈوز کے صارف کے لئے پرنٹر اور فائل شیئرنگ زیادہ آسان ہوگئی.. اور ونڈوز میں نئے رجحانات کے مطابق نئے پروگرامز کا اضافہ کیا گیا جیسے Microsoft Mail جس کے ذریعے لوکل نیٹ ورک پر پیغامات اور فائلوں کا تبادلہ کیا جاسکتا تھا اور Schedule+ جسے ذاتی یا ورک گروپ کے کام کو منظم کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا تھا جبکہ پہلی دفعہ At Work Fax کو متعارف کرایا گیا جس سے کمپیوٹر سے براہ راست موڈیم کے ذریعے یا نیٹ ورک پر Fax Server کے ذریعے فیکس ارسال جئے جاسکتے تھے.. لیکن اس ورزن تک ونڈوز کے صارف اضافی پروگراموں کے بغیر انٹرنیٹ سے منسلک نہیں ہوسکتے تھے کیونکہ یہ TCP/IP کو سپورٹ نہیں کرتا تھا.

Windows NT 3.5[ترمیم]

ستمبر 1994 کو نئے اضافوں اور بہتریوں کے ساتھ Windows NT 3.5 منظر عام پر آئی جس میں قابل ذکر Log On سسٹم تھا اب ونڈوز کو بغیر یوزر نیم اور درست پاس ورڈ فراہم کیے بغیر نہیں چلایا جاسکتا تھا.. Partition کی ادارت کے لئے Fdisk جو MS DOS کے ساتھ آتا تھا اسے Disk Administrator سے بدل دیا گیا.

Windows NT 3.5 بہت پائدار سسٹم ثابت ہوا جس سے نہ صرف یوزر مینجمنٹ اور نیٹ ورک سیکورٹی میں اضافہ ہوا بلکہ پرنٹرز اور نیٹ ورک کی تنصیب انتہائی آسان اور مضبوط ہوگئی.

Windows 95[ترمیم]

اگست 1995 میں Windows 95 کو زبردست اشتہاری مہم کے درمیان جاری کیا گیا جو شاید تاریخ میں اس سے پہلی کسی پروڈکٹ کے حصے میں نہیں آئی ہوگی.. Windows 95 ونڈوز کے تمام سابقہ ورزن کی تاریخ میں ایک بہت بڑا قدم تھا ثابت ہوا.. جس کا انٹرفیس سابقہ تمام ورزن سے قطعی مختلف تھا.. Program Manager کو Windows Explorer سے بدل دیا گیا.. تمام عناصر ونڈوز بٹن وغیر سہ جہتی 3D شکل لئے ہوئے تھے اور تمام ونڈوز میں Close کے بٹن کا اضافہ ہوا جو کونے میں (x) کی شکل لئے ہوئے تھا.. رہا ڈیسک ٹاپ تو اب وہ محض ایک ایسی جگہ نہیں رہا تھا جہاں صرف پروگراموں کے آئکن ہی نمودار ہوتے.. بلکہ اب یہاں فائلیں اور فولڈر بھی رکھے جاسکتے تھے.. اس کے علاوہ My Computer بھی شاملِ حال رہا جس سے باقاعدہ کمپیوٹر کے اندر داخل ہوا جاسکتا تھا اور Network Neighborhood کی آئکن بھی جس سے لوکل نیٹ ورک میں داخل ہوا جاسکتا تھا.. اور Recycle Bin کی آئکن جس سے نہ صرف حذف شدہ فائلوں کو واپس لایا جاسکتا تھا بلکہ انہیں ہارڈ ڈسک سے مکمل طور پر حذف بھی کیا جاسکتا تھا.

Windows NT 4.0[ترمیم]

Windows 95 کے اجراء کے ٹھیک ایک سال بعد اگست 1996 میں مائکروسوفٹ نے Windows NT 4.0 کا اجراء کیا جو Windows 95 کی دوسری شکل تھی ما سوائے Windows NT کی خصوصیات کے... فی الواقع Windows NT 4.0 میں کچھ بھی نیا نہیں تھا یہ حقیقتاً Windows 95 اور Windows NT 3.5 کا ملغوبہ ہی تھی.. مثال کے طور پر Control Panel میں تقریباً وہی ٹول تھے جو Windows 95 میں تھے ما سوائے Devices اور Services کے جو Windows NT کے مخصوص ٹول تھے اس کے علاوہ Start مینیو میں ایک مینیو Administrative Tools کا اضافہ کیا گیا جس میں نیٹ ورک کے حوالے سے بعض ٹولز تھے.

Windows 98[ترمیم]

جون 1998 کو مائکروسوفٹ نے Windows 98 کا اعلان کیا جس میں Windows 95 سے کچھ زیادہ پیش نہیں کیا گیا ما سوائے Windows Explorer اور Internet Explorer کے درمیان ترابط کے.. Windows 98 کی اہم خصوصیات میں Active Desktop کی خاصیت قابل ذکر ہے جس سے ویب عناصر کو ڈیسک ٹاپ پر ظاہر کرنا ممکن ہوگیا بلکہ پورے ڈیسک پر کسی بھی پسندیدہ ویب سائٹ کے صفحے کو ظاہر کیا جاسکتا تھا.. مائکروسوفٹ نے Windows 98 میں Help کا ایک نیا نظام متعارف کرایا جس کا نام Hyper Help تھا جس میں ہدایات کے صفحات ویب کے صفحات سے مشابہ تھے.. Windows 98 میں Internet Explorer 4.0 تھا جو HTML 4.0 کو سپورٹ کرتا تھا جبکہ اسی میں ہی نیا فائل سسٹم FAT32 متعارف کرایا گیا جس سے بڑی ہارڈ ڈسکس (2 گیگا بائٹ سے زائد) کے ساتھ کام کرنا آسان ہوگیا اس کے علاوہ اس وقت کی تمام جدید ٹیکنالوجی کی سپورٹ فراہم کی گئی جیسے DVD – USB اور AGP کارڈ.

Windows 2000[ترمیم]

Windows NT کے کامیاب سفر کو جاری رکھتے ہوئے مایکروسوفٹ نے فروری 2000 میں Windows 2000 جاری کی جس میں سسٹم اور انٹرنیٹ کے درمیات ترابط Windows 98 سے کہیں بہتر تھا اس کے علاوہ اور بھی بہت ساری سہولیات فراہم کی گئیں مثال کے طور پر Device Manger جس کو پہلی بار اس سسٹم میں متعارف کرایا گیا.. اس سے نئے کارڈ اور Devices کو کمپیوٹر میں انسٹال کرنا انتہائی آسان ہوگیا.. Windows 2000 میں Computer Management کو بھی پہلی بار متعارف کرایا گیا جو پورے سسٹم کو کنٹرول کرنے میں مرکزی کردار کا حامل تھا اس کے علاوہ لوکل نیٹ ورک مینجمنٹ کے لئے بہت سارے دوسرے سوفٹ وئیر بھی اس میں موجود تھے... Windows 2000 نے بہت سارے پیچیدہ کام آسان کردیئے جو اس سے پہلے Windows NT میں خاصے مشکل تھے.. جبکہ سابقہ تمام سسٹمز سے یہ سب سے زیادہ مضبوط اور پائدار سسٹم قرار پایا.

Windows 2000 Professional[ترمیم]

اسے بھی فروری 2000 میں جاری کیا گیا اور یہ بھی Windows 2000 سے کچھ مختلف نہیں ہے لیکن اس کی پائداری کی وجہ سے آج بھی بہت سارے صارف اور ادارے اسی کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں.

Windows 2000 Server[ترمیم]

یہ نیٹ ورک مینجمنٹ کے لئے ایک مکمل سسٹم ہے جس نے سابقہ تمام سسٹمز میں نیٹ ورک کی مشکلات کو حل کرکے آسان کیا اس کے بہت سارے ایڈیشن ہیں جن میں قابل ذکر Windows 2000 Server اور Windows 2000 Advance Server ہیں.

Windows Me[ترمیم]

ستمبر 2000 میں مائکروسوفٹ نے Windows Me یا Windows Millennium Edition کا اجراء کیا مگر یہ کچھ زیادہ پسند نہیں کی گئی اور نا ہی کسی نے اس پر توجہ دی جس کی بہت ساری وجوہات ہیں جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ یہ Windows 2000 کے اجراء کے تھوڑے ہی عرصے بعد جاری کی گئی دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ اس وقت Windows XP کا اعلان ہوچکا تھا اور اس کی کے اجراء کا وقت بھی قریب تھا.. اور حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو وینڈوز می Windows 98 کی ترقی یافتہ شکل ہے جس میں بعض چیزوں میں بہتری لائی گئی اور بعض چیزوں کا اضافہ کیا گیا.

Windows XP[ترمیم]

اکتوبر 2001 میں مائکروسوفٹ نے Windows XP کا باقاعدہ اجراء کیا جو Windows 95 کے بعد ونڈوز کا سب سے اہم ورزن تھا جس میں بنیادی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں.

Windows XP باقی تمام ونڈوز سے سب سے مختلف ثابت ہوئی جس میں مائکروسوفٹ نے ایک بالکل ہی نئی پالیسی اپنائی.. اور کمپیوٹر کا ایک نیا تصور پیش کیا.. Start مینیو اب پہلے سے بالکل مختلف ہے.. اب اس میں دو کالم ہیں.. دائیں طرف کے کالم میں اہم شارٹ کٹ موجود ہیں جسے My Computer - My Documents اور Control Panel وغیرہ.. بائیں طرف کا کالم تین حصوں میں منقسم ہے اوپر کے حصے میں Internet Explorer اور ای میل پروگرام Outlook Express کے مستقل شارٹ کٹ موجود ہیں.. بیچ کے حصے کے شارٹ کٹ آپ کے کثرت سے استعمال ہونے والے پروگراموں کے مطابق بدلتے رہتے ہیں جبکہ نیچے کے حصے سے کمپیوٹر میں نصب باقی پروگراموں تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے.

ونڈوز ایکس پی میں فولڈر اور فائلوں کو تلاش کرنے کی صلاحیت پہلے سے کہیں بہتر ہے جبکہ Help کے موضوعات کو بھی کافی بہتر کیا گیا ہے اور Media Player کا ورزن 8.0 اور دوسرے سینکڑوں پروگرام شامل کئے گئے ہیں جن میں Internet Explorer 6 قابل ذکر ہے جو پہلے سے کافی بہتر ہے.

ایکس پی میں انٹرنیٹ کنکشن کے دوران کمپیوٹر کو ہیکنگ سے بچانے کے لئے Internet Connection Firewall موجود ہے جو Firewall کا کام بخوبی انجام دیتا ہے جو اس سے پہلے McAfee Personal Firewall - Norton Personal Firewall اور ZonAlarm Pro کے بغیر ممکن نہیں تھا.

ونڈوز ایکس پی میں دو، اور اس سے زائد کمپیوٹروں کو آپس میں چھوٹے نیٹ ورک میں منسلک کرنا پہلے کے مقابلے کہیں زیادہ آسان بنادیا گیا جس سے فائلیں پرنٹر اور انٹرنیٹ کنشکن شیئر کرنا گویا کوئی مسئلہ ہی نہیں رہا.

Windows Server 2003[ترمیم]

نیٹ ورک کی ادارت کے لئے مخصوص یہ سسٹم اپنے سلف Windows Server 2000 کی کامیابیوں کی تمکیل ہے جو اس سے کہیں زیادہ محفوظ اور مضبوط ثابت ہوا جو آپریٹنگ سسٹم کی دنیا میں ایک نیا رجحان لے کر آیا اور وہ ہے سسٹم کو استعمال سے پہلے ایکٹیویٹ کرانا جس کا طریقہ انتہائی آسان ہے جس میں آپ کے پاس دو آپشن ہیں ایک انٹرنیٹ کے ذریعے اور دوسرا اپنے ہی ملک میں ٹیلی فون کے ذریعے.. جو کہ سسٹم کو استعمال کرنے کے لئے لازمی ہے.. سٹارٹ مینیو وینڈوز ایکس پی سے ہی مشابہ ہے ما سواے Administrative Tools کے شارٹ کٹ کے.. اس سسٹم میں سرور (Server) کی ادارت کے لئے ایک مخصوص صفحہ موجود ہے جس سے سرور کو مکمل طور پر کنٹرول کیا جاسکتا ہے جیسے پرنٹر اور سرور کے دوسرے پروگرام.. یہ سکرین سسٹم کو ہر بار چلانے پر ظاہر ہوتی ہے تاکہ سرور کی ادارت میں آسانی ہو.

سسٹم پر کام ختم کرنا اور ری سٹارٹ کرنا بھی اب پہلے جیسا نہیں رہا.. اب نیٹ ورک ایڈمنسٹریٹر کو کام ختم کرنے کی وجہ بیان کرنی ہوگی اور نوٹ لکھنا ہوگا تاکہ اس کی کارکردگی مستقبل میں بہتر بنائی جاسکے.