نادرا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
قومی شناخت و تسجیل ایجنسی (نادرا)
ایجنسی پر ایک نظر
قیام مارچ 10، 2000 (2000-03-10) (14 سال قبل)
دائرہ کار آئین پاکستان
مراکز قیادت اسلام آباد، اسلام آباد مرکزی شاہراہ
شعار Empowerment through Identity
ملازمین 17,000
مجلس عاملہ طارق ملک, کرسی نشین
عثمان مبین, طرازی افسر اعلی
ویب سائٹ
www.nadra.gov.pk

نادرا (انگریزی: NADRA) ( جو کہ National Database & Registration Authority کا مخفف ہے) حکومت پاکستان کا ایک اہم ادارہ ہے جس کا آغاز 2000ء میں کیا گیا۔ [1] اس ادارے کا کام عوام کی رجسٹریشن کرنا اور ان کو قومی شناختی کارڈ جاری کرنا ہے۔

تاریخ[ترمیم]

قیام پاکستان کے بعد وزیر اعظم لیاقت علی خان نے شخصی نظام شناخت (PIS) کا افتتاح کیا جس کا کام پاکستان کے ہر شہری کے لیے ہر قسم کی شناختی کارڈ کے اجراء تھا۔ یہ ادارہ مغربی پاکستان، مشرقی پاکستان بہ شمول پاکستان سے باہر سے ہجرت کرکے آنے والوں کی سہولت کے لیے بنائی گئی تھی۔ 1965 میں اس ادارے میں بڑی تبدیلی الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے لائی گئی تا کہ 1965 کے صدارتی انتخابات کی تیاری کی جا سکے۔ 1970 تک اس ادارے میں انتخابات کی سرگرمیوں کی وجہ سے کافی تبدیلی آچکی تھیں۔

سقوط ڈھاکہ 1971 کے بعد ایک سادہ سے ڈیٹا بیس نظام کی ضرورت پڑی جس میں پاکستانی شہریوں کے متعلق تمام معلومات محفوظ کی جائيں۔ جس کے لیے 1973 میں دوسری آئینی ترمیم کے ذریعے ایک سادہ ڈیٹا بیس پاکستانی شہریت کے لیے بنایا گیا۔

1996 میں پاکستان نے امریکہ سے IBM سسٹم کے لیے بائیو میٹرک سسٹم کے لیے معاہدہ کیا جو کہ ایک پہلا قدم تھا شہری معلومات اور شناخت کے نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ۔ 1998 میں ادارہ برائے قومی شناخت و تسجیل NADRA کا قیام عمل میں آیا ۔


شمارندی قومی شناختی کارڈ[ترمیم]

کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) ایک جدید کمپیوٹرائزڈ نظام سے مربوط کارڈ ہے جو ہر پاکستانی شہری کی معلومات کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک ابتدائی قدم ہے ۔ جس کے تحت 2012 تک 89ء5 ملین لوگوں کو یہ کارڈ جاری کیے جا چکے ہيں ۔ یہ کارڈ ہر اٹھارہ سال سے زائد عمر کے شہری کو جاری کیے جاتے ہیں ۔

کمپیوٹرائزد قومی شناختی کارڈ کئی کاموں ميں اب ضروری ہو تے جا رہے ہیں جیسے کہ :

  1. انتخابی عمل
  2. بینک اکاؤنٹ
  3. پاسپورٹ بنوانے کے لیے
  4. زمین و گاڑی کی خرید و فروخت کے لیے
  5. ڈرائیونگ لائسنس کے لیے
  6. ہوائی جہاز یا ریل کے ٹکٹ خریدنے کے لیے
  7. موبائل سم خریدنے کے لیے
  8. یوٹیلیٹی سہولیات جیسے بجلی ،گیس ، پانی وغیرہ کے کنکشن حاصل کرنے کے لیے ۔
  9. کالج و یونی ورسٹی میں داخلے میں آسانی کے لیے
  10. کسی بھی قسم کے مالیاتی لین دین کے لیے

ضرورت[ترمیم]

یہ کارڈ ہر پاکستانی شہری کے لیے 18 سال کی عمر کے بعد بنوانا ضروری ہے جو کہ کئی سرکاری و نجی کاروائیوں میں پاکستانی شہری کی حیثيت سے پہچان کے لیے ضروری ہے۔

سہولیات[ترمیم]

اس کارڈ کا 13 ہندسی نمبر بوقت پیدائش ہی ہر اس پاکستانی بچے کو دے دیا جاتا ہے جب اس بچے کے والدین اس کی پیدائش سے متعلق ضروری سرکاری کاغذی کاروائی انجام دے دیتے ہيں یعنی آر جی ٹو فارم (Form RG-2) جسے B-Form بھی کہا جاتا ہے۔ (پرانے شناختی کارڈ نمبر یکم جنوری 2004 سے منسوخ کر دیئے گئے ہیں مگر تا حال پھر بھی کسی احتیاطی ضرورت کے تحت نئے کارڈ میں اس کا بھی اندراج کیا جاتا ہے ) اس نئے کارڈ میں کارڈ یافتہ شہری کی درج ذیل معلومات کا اندراج ہوتا ہے :

  • پورا نام
  • جنس
  • سرپرست کا نام (والد یا شادی شدہ عورت ہونے کی صورت میں شوہر کا نام )
  • شناختی علامت
  • تاریخ پیدائش
  • خاندانی نمبر
  • موجودہ رہائشی پتہ
  • مستقل رہائشی پتہ
  • کارڈ جاری ہونے کی تاریخ
  • کارڈ کے منسوخی کی تاریخ
  • کارڈ یافتہ شہری کے دستخط
  • تصویر
  • انگوٹھے کے نشان

حفاظتی خصوصیات[ترمیم]

نادرا کے اس نئے کارڈ میں کئی ایسی خصوصیات شامل ہيں جو اس کارڈ کے معلومات کو مستند اور درست بنانے کے ساتھ ساتھ جعل سازی کی روک تھام میں بھی معاون ہیں ۔ اس کی کارڈ کی طبعی بناوٹ میں کئی تہوں کا استعمال ہوتا ہے جس کے نتیجے میں کارڈ کی جعل سازی نا ممکن ہے ۔ اس کارڈ کی تصدیق کے لیے کچھ ایسی مشینوں کا استعمال کیا جاتا ہے جنہيں نادرا کی زیر نگرانی بنایا گیا ہے جس کے ذریعے کارڈ اور کارڈ یافتہ شہری کی تصدیق کے لیے کارڈ پر موجود بار کوڈ کے علاوہ انگوٹھے کے نشان کا بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔ جس کی وجہ سے کئی مالیاتی اور اہم کاروباری ادارے شخصی شناختی نطام کے لیے نادرا کے ساتھ الحاق کرتے ہيں ۔

سمندر پار پاکستانی قومی شناختی کارڈ[ترمیم]

ملف:IDCard PK-1-.jpg
سمندر پار پاکستانی شناختی کارڈ

یہ کارڈ بھی اوپر مذکور کارڈ کی طرح ہوتے ہيں بس اس میں ایک خاصیت کا اضافہ ہوتا ہے کہ یہ انگریزی میں معلومات لیے ہوتے ہيں ۔ یہ کارڈ پاکستان سے باہر بسنے والے شہریوں کو ان کی پاکستانی شناخت میں مدد دیتے ہیں ۔

ذہین قومی شناختی کارڈ[ترمیم]

نادرا اسمارٹ کارڈ

اکتوبر 2012 میں نادرا نے جدت کی جانب ایک قدم اور بڑھاتے ہوئے ایک اور نئے اور جدید شناختی کارڈ سسٹم کا اعلان کیا ۔ جس کا نام ہے Smart National Identity Card (SNIC)

اس کارڈ میں ایک چپ کا اضافہ کیا گیا ہے جس میں ۳۶ کے قریب حفاظتی خصوصیات ہیں ۔ اس کارڈ کی سب سے بڑی خوبی اس کا آف لائن کام کرنا بھی ہے ۔ ( اس سے پہلے کے کارڈ سسٹم کو کسی برقی مشینی نظام کے ذریعے ہی فعال کیا جا سکتا تھا ۔) جس میں کئی مالیاتی لین دین جیسے کہ پینشن ، اے ٹی ایم، طبی حالت اور حادثاتی انشورنس کی بھی سہولیات ہیں ۔ اس کے علاوہ اس میں ڈرائیونگ لائسنس ، پاسپورٹ ، بینک اکاؤنٹ وغیرہ کی معلومات کے لیے روشن اشاراتی بٹن موجود ہوں گے ۔ اس پر فنگر پرنٹ کی سہولت ہوگی ۔ اس کارڈ میں موجود معلومات کو ہیکنگ سے حفاظت کے نکتۂ نظر سے مزید ہتر بنایا گیا ہے ۔

بیرونی روابط[ترمیم]

نادرا کی دفتری ویب سائٹ

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ "خطا: {{cite web}} کے استعمال کے دوران no |title= specified "، http://nadra.gov.pk/index.php?option=com_content&view=article&id=1&Itemid=2