نظریۂ شواش

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
لارنز کشش کا نکشہ، اقدار r Face-smile.svg 28, σ Face-smile.svg 10, b Face-smile.svg 8/3 کے لیے۔

نظریۂ شواشی تحقیق کا علاقہ ہے ریاضیات، طبیعیات، اور فلسفہ میں، جو ایسے مخصوص حریکی نظامات جو اپنی آغازی حالت پر سخت حساس ہوں، کے طرزِ عمل کا مطالعہ کرتا ہے۔ اس حساسی کو مشہوراً تتلی اثر کہا جاتا ہے۔ شواشی نظامات میں آغازی حالت میں چھوٹے فرق (جیسی عددی شمارندی میں گولی غلطی سے پیدا ہوتے ہیں) سے نتائج میں بڑا انتشار [1] پیدا ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ نظامات جبریتی ہوتے ہیں مگر پھر بھی ایسا ہوتا ہے، مطلب کہ مستقبل کی حرکیت کُلی طور پر آغازی حالت سے جبر ہوتی ہے، اور کوئی تصادفی جُز شامل نہیں ہوتا۔ دوسرے الفاظ میں ان کی جبریتی فطرت انھیں قابل پیشن گوئی نہیں بناتی۔ اس طرز عمل کو جبریتی شواش، یا صرف شواش کہتے ہیں۔

شواشی طرز عمل بہت سے فطرتی نظامات، جیسا کہ موسم، میں مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ اس طرز عمل کی تشریح شواشی ریاضیاتی تمثیل کی تحلیل کے زریعہ ڈھونڈا جاتا ہے، یا پھر رَجعت نسبت کے نکشہ پر تحلیلی طرائق کے استعمال سے۔


شواش عمل کے لیے یہ مظاہر ضروری سمجھے جاتے ہیں:

  • آغازی حالت پر حساسی
  • آمیزش
  • معیادی محور جو کثیف ہوں

اور دیکھو[ترمیم]

  1. ^ Stephen H. Kellert, In the Wake of Chaos: Unpredictable Order in Dynamical Systems, University of Chicago Press, 1993, p 32, ISBN 0-226-42976-8.

E=mc2     اردو ویکیپیڈیا پر ریاضی مساوات کو بائیں سے دائیں LTR پڑھیٔے     ریاضی علامات