ابو القاسم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی مشہور کنیت ابو القاسم ہے
حضرت انس فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع میں تھے کہ ایک آدمی نے کہا اے ابو القاسم تو اس کی طرف نبی صلی اللہ علیہ سلم نے توجہ فرمائی وہ بولا کہ میں نے تو اس کو بلایا ہے تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
سَمُّوا بِاسْمِي، وَلاَ تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي، فَإِنِّي إِنَّمَا جُعِلْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ
میرے نام پر نام تو رکھو میری کنیت نہ رکھو کیونکہ مجھے قاسم بنا کر بھیجا گیامیں تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں (مسلم،بخاری)
اس کنیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ روز قیامت جنت اہل جنت میں تقسیم فرمائیں گے سارے نبی اﷲ کی نعمتیں تقسیم کرتے تھے حضور بھی تقسیم کرتے ہیں حضورکی تقسیم بہت قوی ہے،تمام امتوں میں وضو تھا مگر اعضاء کا چمکنا حضور کی امت کے وضو سے ہے،پانچ نمازوں کا ثواب پچاس ہے،اس لیے کہ یہ حضور کی تقسیم سے ملی ہیں واللہ المعطی وانا القاسم
آپ ﷺ کی یہ کنیت اپنے لخت جگر حضرت قاسم کے باعث تھی نبی اکرم کی اولاد اطہار میں سے سب سے پہلے ان کی ولادت ہوئی اور سب سے پہلے ان کا ہی وصال ہوا[1]
جابر بن عبد اللہ انصاری سے روایت کرتے ہیں کہ ہم انصاریوں میں سے کسی کے ہاں فرزند تولد ہوا اور اس نے اس بچہ کا نام قاسم رکھا جس پر انصار نے اس انصاری سے کہا کہ تم کو ہم ابوالقاسم نہیں کہیں گے اور اس مبارک کنیت سے تیری آنکھوں کو ٹھنڈک کیسے دے سکتے ہیں اس انصاری نے رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں جا کر عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! میرے ہاں لڑکا پیدا ہوا ہے اور میں نے اس کا نام قاسم رکھا ہے مگر تمام دوسرے انصار کہہ رہے ہیں کہ ہم لوگ تجھ کو ابوالقاسم نہیں کہیں گے اور تیری آنکھوں کو اس مبارک کنیت کے رکھنے سے ٹھنڈا نہیں کرسکتے یہ سن کر سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا انصار نے اچھا کیا تم میرا نام تو رکھ سکتے ہو مگر میرے نام کے ساتھ میری کنیت نہ رکھو کیونکہ قاسم تو صرف میں ہی ہوں۔[2]
علما فرماتے ہیں کہ یہ ممانعت حضور کی حیات شریف میں تھی بعد وفات ہر طرح اجازت ہے خواہ حضور انور کا نام رکھے یا آپ کی کنیت یا دونوں جمع کر دے کہ نام رکھے محمد،کنیت رکھے ابو القاسم،اس کے متعلق اور بہت سے قول ہیں یہ ہی قول قوی ہے جو ہم نے عرض کیا کہ یہ حکم حیات شریف میں تھا۔ (مرقات و اشعہ)حضرت علی نے حضور کے بعد اپنے بیٹے کا نام محمد کنیت ابوالقاسم رکھی جنہیں محمد ابن حَنفیہ کہا جاتا ہے اور انہوں نے حضور سے پہلے پوچھا تھا کہ کیا میں آپ کے بعد اپنے کسی بیٹے کا نام محمد،کنیت ابو القاسم رکھ سکتا ہوں فرمایا تھا ہاں۔ خیال رہے کہ اگر قاسم قوی ہو تقسیم بھی قوی ہوتی ہے،ڈول،چرسہ،رہٹ،ٹیوب ویل،دریا بادل سب ہی پانی تقسیم کرتے ہیں مگر ان کی تقسیموں میں جو فرق ہے وہ معلوم ہے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد ہشتم صفحہ588)

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اسماء النبی مفتی محمدعلیم الدین ،صفحہ 641 مظہر علم لاہور
  2. صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 379