اسباق برائے اطفال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اسباق برائے اطفال
(انگریزی میں: Lessons for Children ویکی ڈیٹا پر (P1476) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
BarbauldLessons.jpg
 

مصنف اینا لائتیشا باربولڈ  ویکی ڈیٹا پر (P50) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اصل زبان انگریزی  ویکی ڈیٹا پر (P407) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ادبی صنف بچوں کا ادب  ویکی ڈیٹا پر (P136) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
صفحے پر یہ عبارت درج ہے: اسباق برائے اطفال۔ حصہ 1۔ دو سے تین سال کی عمر کے بچوں کے لیے۔ لندن: شائع کردہ برائے جے جانسن، نمبر 72، سینٹ پال چرچ-یارڈ، 1801ء۔
’’ادب برائے اطفال، حصہ اول‘‘ کے 1801ء میں شائع ہونے والے نسخے کا سرورق

اسباق برائے اطفال یا بچوں کے لیے اسباق (انگریزی: Lessons for Children) چار ابتدائی کتب پر مشتمل ایک سلسلہ ہے جسے 18ویں صدی کی معروف برطانوی شاعرہ اور مضمون نگار اینا لائتیشا باربولڈ نے بچوں کی عمر پیش نظر رکھتے ہوئے تحریر کیا تھا۔ 1778ء اور 1779ء میں شائع ہونے والی ان کتب نے اینگلو-امریکی دنیا کے ادب برائے اطفال میں انقلاب کی بنیاد رکھی۔ بچوں کی مطالعاتی کتب کی ضرورت کو پہلی بار سنجیدگی سے محسوس کیا گیا۔ ٹائپ کیا ہوا سادہ متن بتدریج آسان سے مشکل کی طرف بڑھتا ہے۔ یہ اینگلو-امریکی ادب برائے اطفال میں تجرباتی تدریسیات کا غالباً پہلا مظاہرہ تھا۔ باربولڈ نے اپنی کتب میں مکالماتی انداز اپنایا تھا جن میں ایک ماں اور اس کا بیٹا قدرتی دنیا کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔ جان لوک کے تعلیمی نظریات کی بنیاد پر، باربولڈ کی کتب آموزش بذریعہ مشاہدات پر زور دیتی ہیں۔

باربولڈ کے اسباق کے مرکزی اصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ افراد، برادری (کمیونٹی) کا حصہ ہیں ؛ اس حوالے سے وہ خواتین لکھاریوں کی اس روایت کا ساتھ دیتی ہیں جو معاشرے کے باہمی ربط پر زور دیتی ہے۔ کتب کا مرکزی کردار، چارلس ہے جو قدرت، حیوانات، لوگوں اور آخر خدا کے ساتھ اپنے تعلقات کی آگاہی حاصل کرتا ہے۔

اسباق نے برطانیہ اور ریاست ہائے متحدہ میں ادبِ اطفال کی ترقی میں نمایاں اثرات مرتب کیے۔ ماریا ایج ورتھ، سارہ ٹریمر، جین ٹیلر اور ایلینور فین ایسے چند نام ہیں جو ان اسباق کے باعث بچوں کے لیے لکھنے کی طرف راغب ہوئے اور ان کا کام کئی نسلوں تک چھایا رہا۔ بذات خود یہ اسباق بھی ایک صدی سے زائد شائع ہوتے رہے۔ تاہم، رومانیت پسند مرد لکھاریوں کی جانب سے باربولڈ، ٹریمر اور دیگر ہم عصر لکھاریوں پر تعلیمی تصانیف کا معیار گرانے کے الزام کے باعث باربولڈ کے اسباق کو محققین بہت کم زیر مطالعہ لائے۔ درحقیقت، ان پر گہری تحقیقات کا آغاز 1990ء کی دہائی ہی سے ہوا ہے۔

اشاعت، ترتیب اور تدریسی نظریہ[ترمیم]

اشاعت اور ترتیب[ترمیم]

اسباق میں ایک ماں کا کردار ہے جو اپنے بیٹے کو تعلیم دے رہی ہے۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ اس میں سے بیشتر واقعات باربولڈ کے اپنے تجربات سے ماخوذ ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ باربولڈ کے لے پالک بیٹے اور بھانجے کا نام بھی چارلس تھا اور اسباق میں بیان کردہ واقعات اس کی عمر اور نشو و نما سے مطابقت رکھتے ہیں۔ اگرچہ ان کتابوں کی پہلی اشاعت کا اب کوئی نسخہ موجود نہیں رہا ہے، تاہم ادبِ اطفال پر تحقیق کرنے والی، مٹزی مائرز نے باربولڈ کے خطوط اور کتب سے متعلق شائع ہونے والے ابتدائی تبصروں سے ان کتابوں کی ممکنہ تواریخ اشاعت کا یہ اندازہ قائم کیا ہے : دو سے تین سال کی عمر کے بچوں کے لیے اسباق (1778ء)؛ تین سال کی عمر کے بچوں کے لیے اسباق، حصہ اول (1778ء)؛ تین سال کی عمر کے بچوں کے لیے اسباق، حصہ دوم (1778ء)؛ اور تین سے چار سال کی عمر کے بچوں کے لیے اسباق (1779ء)۔ ابتدائی اشاعت کے بعد، یہ کتب عموماً ایک ہی جلد کی صورت میں شائع ہوئیں۔

باربولڈ چاہتی تھیں کہ ان کی کتب بڑے ٹائپ میں اور چوڑے حاشیوں کے ساتھ شائع ہوں تاکہ بچے انھیں بآسانی پڑھ سکیں۔ باربولڈ پر تحقیق کرنے والے ولیم مک کارتھی کے مطابق، باربولڈ اس انداز کی موجد سے بھی کہیں زیادہ تھیں اور یقیناً انھوں نے ہی اس انداز کو مقبول کیا۔ دی گارجین آف ایجوکیشن (1802ء-1806ء) میں ادب اطفال کی تاریخ لکھتے ہوئے، سارہ ٹریمر نے ان اختراعات کے علاوہ عمدہ کاغذ اور حروف کے درمیان میں زیادہ فاصلوں جیسی خصوصیات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ لیکن جہاں ان کتب سے مطالعہ آسان ہوا، وہیں ان اشاعتی تبدیلیوں نے کتابوں کو خاصا مہنگا بھی بنادیا۔

باربولڈ کی کتب مطالعے اور پڑھائی کو بتدریج آگے بڑھانے کے لیے ترتیب دی گئی تھیں، جو ایک ہجے کے حروف سے شروع ہوکر متعدد ہجوں والے حروف کی طرف بڑھتی ہیں۔ اسباق کا پہلا حصہ سادہ جملوں پر مشتمل ہے، جیسے کہ: ’’Ink is black, and papa's shoes are black. Paper is white, and Charles's frock is white (ترجمہ: روشنائی سیاہ ہے اور ابو کے جوتے بھی سیاہ ہیں۔ کاغذ سفید ہے اور چارلس کے کپڑے بھی سفید ہیں)۔‘‘ دوسرے حصے میں جملے کچھ مشکل ہوجاتے ہیں : ’’فروری is very cold too, but the days are longer, and there is a yellow crocus coming up, and the mezereon tree is in blossom, and there are some white snow-drops peeking up their little heads (ترجمہ: فروری بھی بہت ٹھنڈا ہوتا ہے، لیکن دن طویل ہوتے ہیں اور ایک پیلا سوسنی پودا اوپر آ رہا ہے اور ماذریون کے پودے پر پھول کھل رہے ہیں اور ان کے سروں پر سفید برف کے چند ذرے موجود ہیں)۔‘‘

باربولڈ کہانیوں یا قصوں میں ایسی چیزیں بھی دہراتی ہیں، جنھیں وہ گزشتہ اسباق میں متعارف کرواچکی ہوتی ہیں۔ چارلس (ضمنی طور پر قاری) کو ہر کہانی سنانے سے پہلے، راوی تسلسل اور تواتر کے اصول کے پیشِ نظر وضاحت کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، چارلس کے فرانس کے سفر پر روانہ ہونے سے پہلے، ہفتے کے دنوں کی وضاحت کی جاتی ہے۔

موضوعات[ترمیم]

پزیرائی[ترمیم]

نوٹس[ترمیم]

کتابیات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

  • اسباق برائے اطفالآرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ cts.dmu.ac.uk [Error: unknown archive URL]، دی ہوکلیف کلیکشن پر
  • باربولڈ، اینا لائتیشا (1814). اسباق برائے اطفال، تین سے چار سال کی عمر کے بچوں کے لیے. جے۔ کمنگ.  گمشدہ صفحات 1–10۔