اسلام میں چوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اسلام میں چوری کی سخت ممانعت وارد ہوئی ہے۔ عربی زبان میں چور کے لیے سارق کا لفظ وارد ہوا ہے اور ایسے شخص کے لیے کافی وعید آئی ہے۔ آخرت میں سخت عذاب کے علاوہ دنیا میں بھی کافی سخت سزا سنائی گئی ہے۔

چوری کے متعلق شرعی مسائل یہ ہیں:

چوری کے ثبوت کے دو طریقے ہیں
(ا) چور خود اقرار کر لے اگرچہ ایک بار ہی ہو۔
(ب) دو مرد گواہی دیں، اگر ایک مرد اور دو عورتوں نے گواہی دی تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔#…قاضی گواہوں سے چند باتوں کا سوال کرے ،کس طرح چوری کی اور کہاں کی اور کتنے کی کی اور کس کی چیز چرائی؟ جب گواہ ان امور کا جواب دیں اور ہاتھ کاٹنے کی تمام شرائط پائی جائیں توہاتھ کاٹنے کا حکم ہے۔

چوری کرنے پروعید[ترمیم]

چوری گناہِ کبیرہ ہے اور چور کے لیے شریعت میں سخت وعیدیں ہیں، چنانچہ

ابو ہریرہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’چور چوری کرتے وقت مؤمن نہیں رہتا۔[1]
انہی سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’اگر اس نے ایسا کیا (یعنی چوری کی) تو بے شک اس نے اسلام کا پٹہ اپنی گردن سے اُتار دیا پھر اگر اس نے تو بہ کی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی تو بہ قبول فرما لے گا۔[2]


اسلامی سزا اور اس کا جواز[ترمیم]

اسلامی سزاؤں کا مقصد ظلم وجور سے روک کر صحیح راہ پر ڈال دینا اور ایسی سزا دینا جس سے نفسیاتی طور پر دوسرے انسان متاثر ہوں اور ان کو اس طرح کے بُرے کاموں کی جرات و ہمت نہ ہونے پائے۔ یہ بھی یاد رہے کہ ہر جرم میں قطع اعضاء سے یہ منشاء پورا نہیں ہو سکتا ہے۔ اب رہا یہ سوال کہ آخر چور کا ہاتھ کیوں کاٹا جاتا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ چور چھپ چھپا کر چوری کرتا ہے اور پھر بھاگتا ہے، گویا اس کی آرزو یہ رہتی ہے کہ دوسروں کا مال بھی لے کر بھاگے اور کسی پر اس کا راز ظاہر بھی ہونے نہ پائے۔ خدا جل شانہ نے اس وجہ سے اس کی سزا ایسی تجویز فرمائی کہ اس کے چھپانے کے جذبات کا ردعمل سامنے آئے اور ساری دنیا کو معلوم ہو جائے کہ یہ شخص چور تھا۔ دوسرے بھاگنے میں اس کو پوری قوت نہ ہو۔ اسی وجہ سے دوسری مرتبہ چوری پر پاؤں کاٹنے کا حکم ہے تاکہ بھاگ نہ سکے۔ لیکن چونکہ اسے بیکار محض بنانا نہیں ہے، اس لیے ہاتھ اور پیر مخالف سمت سے کاٹا جاتا ہے، پھر ہاتھ بغل سے نہیں کاٹا جاتا بلکہ صرف کلائی کاٹی جاتی ہے اور پاؤں رانوں سے نہیں کاٹا جاتا، بلکہ صرف ٹخنے سے، تیسری مرتبہ چوری پر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے، اس کا کوئی اور عضو نہیں کاٹا جاتا۔[3] یہ ساری سزاؤں کا دینا صرف اسلامی عدالت کر سکتی ہے، عامۃ المسلمین اس میں مجاز نہیں رکھتا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مسلم، کتاب الایمان، باب بیان نقصان الایمان بالمعاصی
  2. نسائی، کتاب قطع السارق، تعظیم السرقۃ
  3. چوری کی شرعی سزا کی حکمت