اعجاز بٹ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد اعجاز بٹ ٹیسٹ کیپ نمبر 30
Ijaz butt.jpeg
ذاتی معلومات
مکمل ناممحمد اعجاز بٹ
پیدائش10 مارچ 1938ء (عمر 84 سال)
سیالکوٹ، پنجاب، برطانوی ہند
بلے بازیدائیں ہاتھ سے
حیثیتوکٹ کیپر، اوپننگ بلے باز
بین الاقوامی کرکٹ
قومی ٹیم
پہلا ٹیسٹ20 فروری 1959  بمقابلہ  ویسٹ انڈیز
آخری ٹیسٹ16 اگست 1962  بمقابلہ  انگلستان
قومی کرکٹ
سالٹیم
1955/56-1959/60پاکستان یونیورسٹیز
1959/60-1964/65لاہور
1959/60-1961/62راولپنڈی
1963/64ملتان
1964/65-1967/68لاہور ریڈز
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ کرکٹ فرسٹ کلاس کرکٹ
میچ 8 67
رنز بنائے 279 3842
بیٹنگ اوسط 19.92 34.30
100s/50s 0/1 7/12
ٹاپ اسکور 58 161
گیندیں کرائیں 257
وکٹ 0 3
بولنگ اوسط 49.33
اننگز میں 5 وکٹ 0 0
میچ میں 10 وکٹ 0 0
بہترین بولنگ 1/21
کیچ/سٹمپ 5/0 52/20
ماخذ: Cricket Archive، 23 ستمبر 2010

محمد اعجاز بٹ انگریزی:Mohammed Ijaz Butt (پیدائش:10 مارچ، 1938ءسیالکوٹ، پنجاب) ایک پاکستانی کرکٹر ہے۔[1] جس نے 62-1959ء تک کے کیرئیر میں 8 ٹیسٹ میچ کھیلے وہ ایک وکٹ کیپر اوپننگ بلے باز تھے انہوں نے لاہور، ملتان، پنجاب، اور راولپنڈی کی طرف سے بھی فرسٹ کلاس کرکٹ میں شرکت کی۔

ابتدائی زمانہ[ترمیم]

اعجاز بٹ کھیلوں کا سامان بنانے کیلئے مشہور سیالکوٹ شہر میں پیدا ہوئے انہوں نے اپنے فرسٹ کلاس کیرئیر کا آغاز 16 جنوری 1956ء کو پاکستان کا دورہ کرنے والی میلبورن کرکٹ کلب کی ٹیم کے خلاف پاکستان یونیورسٹیز کی طرف سے کیا اور تیسرے نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے 35 اور 97 رنز سکور کئے بدقسمتی سے وہ صرف تین رنز کی کمی سے اپنی اولین سنچری سکور نہ کر سکے اس کی ذمہ دار بلی سٹکلف کی بولنگ تھی جس نے اعجاز بٹ کو کین برنگٹن کے ہاتھوں کیچ کروا دیا گیا یہ میچ کسی نتیجہ کے ختم ہوا ایک مہینے کے بعد کے بعد ان کا سامنا پھر ایم ایم سی کی کرکٹ ٹیم سے ہوا جب وہ پنجاب کی طرف سے کھیل رہے تھے انہوں نے 43 اور 18 رنز بنائے 57-1956 میں اعجاز بٹ کی قائد اعظم ٹرافی کے ٹورنامنٹ میں عمدہ کارکردگی سامنے آئی انہوں نے 56.25 کی اوسط سے 225 رنز بنائے جس میں اس کی اکلوتی سنچری 147 بھی شامل تھی اسی دوران میں انہوں نے ویسٹ انڈیز کے دورے پر بھی شمولیت کی مگر انہیں وہاں صرف ایک فرسٹ کلاس میچ تک ہی محدود رکھا گیا 59-1958ء میں انہوں نے قائد اعظم ٹرافی کے مسلسل دوسرے سیزن میں شرکت کی مگر 3 میچوں میں 24.33 کی اوسط سے 73 رنز بنائے۔اپنے بین الاقوامی کیریئر کے اختتام کے بعد، انگلینڈ کے دورے میں دو سنچریوں سمیت 1,000 سے زیادہ فرسٹ کلاس رنز بنانے کے باوجود انہوں نے پاکستانی ڈومیسٹک کرکٹ میں مایوس کن کھیل پیش کیا۔ وہ 1963ء اور 1965ء کے درمیان میں قائد اعظم ٹرافی کے صرف تین میچوں میں نظر آئے۔ 1966ء میں پاکستان یونیورسٹیز کے خلاف گورنر پنجاب الیون کے ایک دعوتی میچ، 1967ء میں پاکستان بمقابلہ دی ریسٹ الیون اور آخری بار 15 جنوری 1968ء کو ایوب ٹرافی جہاں انہوں نے لاہور ریڈز کے لیے 40 اور 15 رنز بنائے۔

ٹیسٹ کیرئیر[ترمیم]

1959ء میں اعجاز بٹ کو کراچی کے مقام پر ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو شروع کرنے کا موقع ملا پہلی باری میں 14 اور دوسری اننگ میں 41 ناٹ آوٹ کے ساتھ انہوں نے اپنے انتخاب کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی اس نے باقی سیریز میں دو، 21، 47* اور دو رنز بنائے۔ 26 مارچ اور 4 دسمبر کے درمیان میں انہوں نے آسٹریلیا کے خلاف مزید دو ٹیسٹ کھیلے، دوسرے ٹیسٹ میں کیریئر کے بہترین 58 رنز بنائے۔ اس کے بعد وہ 1962ء تک ٹیم سے باہر رہے اس کے بعد انہوں نے تین ٹیسٹ میچوں کے لیے انگلینڈ کا دورہ کیا۔ ڈراپ ہونے سے پہلے اس نے جدوجہد کرتے ہوئے 10، 33، ایک، چھ، 10 اور چھ رنز بنائے۔

بطور ایڈمنسٹریٹر[ترمیم]

1982ء میں اعجازبٹ کو آسٹریلیا کے پاکستانی دورے کے لیے مینیجر مقرر کیا گیا، اور 1984ء میں اس وقت کے بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان پاکستان(BCCI) کے سیکریٹری کا عہدہ سونپا گیا جہاں وہ 1988ء تک رہے اعجاز بٹ لاہور سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن کی صدر بھی رہے۔ اکتوبر 2008ء میں انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین نامزد کیا گیا۔ ان کے ابتدائی اقدامات پاکستان کے اندر سخت سیکیورٹی حالات کے دوران میں بین الاقوامی کرکٹ کو محفوظ رکھنے کے لیے غیر جانبدار مقامات کے امکان کی تجویز کرنا تھے تاہم، پاکستان کو چیمپئنز ٹرافی کے ممکنہ میزبان کے طور پر بہت کم حمایت حاصل ہوئے اور مہمان ٹیموں کے سیکیورٹی خدشات کم نہیں ہوئے 2009ء کے اوائل میں دورہ سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملے کے بعد اعجازبٹ نے ایک عوامی بیان میں اعتراف کیا کہ بین الاقوامی ٹیموں کو ملک میں آنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، 2009ء کے موسم سرما میں اعجاز بٹ نے یونس خان کے خلاف کپتانی کے تنازع پر دوٹوک موقف اپنایا اور جنوری 2010ء تک فیصلہ دیا کہ آسٹریلیا کے دورے کے بعد ایک نئے کپتان کا انتخاب کیا جائے گا، یونس خان پہلے ہی کپتانی چھوڑ چکے تھے۔ فروری 2010ء میں میچ فکسنگ کے مزید دعوے سامنے آئے، اور اعجازبٹ نے انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے بعد ملوث کھلاڑیوں کے خلاف کارروائی کا وعدہ کیا جس نے آسٹریلیا کے دورے میں پاکستان کی وائٹ واش شکست کی تحقیقات کی تھیں۔2010ء میں اعجاز بٹ اور پی سی بی دونوں پر مزید میچ فکسنگ اور مالی بدعنوانی کے الزامات لگے۔ اس کے باوجود، آئی سی سی نے 11 فروری کو اعجاز بٹ کو کرکٹ کے لیے خدمات کے لیے تمغا دینے کا اعلان کیا اگرچہ اعجاز بٹ نے فروری 2010ء کے اوائل میں پاکستان کے دورہ آسٹریلیا کے دوران میچ فکسنگ کے الزامات کو مسترد کر دیا تھا، مگر 2010ء کے دورہ انگلینڈ میں متعدد پاکستانی کھلاڑیوں اور انگلینڈ کے خلاف ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کے دوران متنازع میچ فکسنگ الزامات کی وجہ سے عوامی سطح پر پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا تھا۔ اور میزبان ملک اور آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے حوالے سے سکاٹ لینڈ یارڈ نے 17 ستمبر کو تصدیق کی کہ اس نے پاکستانی کھلاڑیوں سلمان بٹ، محمد آصف، محمد عامر اور وہاب ریاض سے رشوت لینے کے الزام میں پوچھ گچھ کی تھی، اور پولیس نے کراؤن پراسیکیوشن سروس کو شواہد بھیجے تھے اس صورتحال میں اعجاز بٹ سے بہت سی غلطیاں سرزد ہوئیں انہوں نے اس معاملے کو خوش اسلوبی سے حل۔لرنے کی بجائے بہت جذباتی رویہ اپنایا جس کے اثرات نے پاکستان کرکٹ لو ہلا کر رکھ دیا اسی لیے اعجاز بٹ سے مستعفی ہونے کے کئی مطالبات ہوئے، تاہم انہوں نے انکار کر دیا۔ پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نے بٹ کا دفاع کرتے ہوئے اس اختلاف کو "ایک بہت ہی معصوم دلیل" قرار دیا اور اس بات کی تردید کی کہ اس ایشو برطانیہ کے ساتھ تعلقات متاثر ہوئے۔ انگلینڈ کی ٹیم نے بعد میں بٹ کو بھیجے گئے ایک خط میں معافی مانگنے کے اپنے مطالبے کو باضابطہ طور پر پیش کیا، جس میں ان کی درخواست پوری نہ ہونے کی صورت میں مزید انتباہ کے بغیر قانونی کارروائی کا عندیہ دیا اعجاز بٹ لندن پہنچے اور اس عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہ وہ تین معطل پاکستانی کھلاڑیوں کے وکلا کے ساتھ ملاقات کے دوران میں اپنے الفاظ پر قائم رہیں گے نہیں ہٹیں گے تاہم، بعد میں انہوں نے راستہ بدل کر اپنا بیان واپس لے لیا اس کے باوجود انہیں پی سی بی نے وضاحت کے لیے واپس بلایا، ان قیاس آرائیوں کے درمیان میں کہ ان کا بطور چیئرمین مستقبل کمزور ہے۔ آئی سی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے دبئی میں ہونے والی میٹنگ میں انہیں برطرف کرنے پر تبادلہ خیال کیا[2]

اعداد و شمار[ترمیم]

اعجاز بٹ نے 6 ٹیسٹ میچوں کی 15 اننگز میں 2 مرتبہ ناٹ آئوٹ رہ کر 279 رنز بنائے جس میں 58 ان کا سب سے زیادہ سکور تھا۔ 19.92 کی اوسط سے بنائے گئے ان رنزوں میں ایک نصف سنچری شامل تھی جبکہ 67 فرسٹ کلاس میچوں کی 120 اننگز میں 8 بار ناٹ آئوٹ رہ کر انہوں نے 3842 رنز بنائے۔ 161 ان کا بہترین سکور تھا۔ 34.30 کی اوسط سے بنائے گئے ان رنزوں میں 7سنچریاں اور 7 نصف سنچریاں بھی شامل تھیں[3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. انگریزی ویکیپیڈیا کے مشارکین. "Ijaz Butt". 
  2. https://www.espncricinfo.com/player/ijaz-butt-40555
  3. https://www.espncricinfo.com/player/ijaz-butt-40555