مندرجات کا رخ کریں

افسانوی تکنیک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

تکنیک کی بہت سی تعریفیں کی گئی ہیں۔ جن سے اس اصطلاح کو سمجھنے میں کافی مدد ملتی ہے۔ ارسطو کہتا ہے ”تکنیک سے مراد ہے وہ طریقہ جس سے فنکار اپنے موضوع کو پیش کرتا ہے۔[1] یعنی فنکار کا طریقہ اظہار تکنیک ہے۔ تاہم بات آگے بڑھانے سے قبل ایک نظر لغات ر ڈالتے ہیں تاکہ متعین معنی کا ادراک ہو کیونکہ ارباب نقد و نظر کا خیال ہے کہ یہ بدلتے ہوئے حالات میں خود کو تبدیل کرتی رہتی ہے۔ کیا لغات بھی بدلتی ہوئی صورت حال کا ساتھ دیتی ہیں۔ وپسٹر کالجیٹ کے مطابق:
TECH- NIQUE
a) The manner in which technical details are treated (As by a writer)
b) Basic Physical movements are used (As by a Dancer)
c( Ability to Treat such details or use such movemnts[2]. لفظ ”تکنیک“ ہم تک انگریزی کے وسیلے سے آیا اور انگریزی نے خود اسے یونان سے مستعار لیا ہے۔ یونانی میں یہ لفظ Technikosاور انگریزی میں Techniqueبنا۔ مگر اس کے معنی طریق کار ہی کے رہے ،جو یونانی میں مستعمل تھے، ”ڈکشنری آف لٹریری ٹرمز“ کے الفاظ دیکھیے :
Technique:
(Gk. ART, CRAFT) The Method Craft And Skill of Writing[3]

(تکنیک : یہ ایک یونانی لفظ ہے جس کے لغوی معنی ہیں ”فن یا طریقہ کار“ ادب میں لفظ تکنیک کو عموماً”طرزِ تحریر“ یا ”قدرت ِ بیان “ کے معنوں میں لیا جاتا ہے)
گویا ”تکنیک “ افسانہ نگاری کے عمل میں وہ طریق کار ہے جو خیال کو وجود دینے میں معاون ہے اس بات کی مزید وضاحت کے لیے درجِ ذیل مثال سے مدد لے سکتے ہیں۔
ایک مکان بنانے کے لیے سب سے پہلے خیال آتا ہے، پھر زمین کا انتخاب کیا جاتا ہے، پھر نقشہ تیار کیا جاتا ہے اور پھر اس نقشے کے مطابق کاریگر دیواریں، چھتیں، دروازے، کھڑکیاں وغیرہ لگاتے اور رنگ و روغن کرتے ہیں۔ جب مکان تیار ہو جاتا ہے تو اس ساری تگ و دو کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے مکین آجاتے ہیں اور مکان گھر بن جاتا ہے۔
اس سارے عمل کو اگر افسانے پر تطبیق کریں تو جو خیال آتا ہے وہ واقعے سے ابھرتا ہے اور جو زمین ہے وہ افسانے کا پلاٹ، ڈرائنگ (نقشہ سازی) ذہنی عمل اور اس ذہنی عمل کے مطابق مکان تعمیر ہوتا ہے، یہ سارا عمل تکنیکی اوراسلوبی ہے اور جو مکان تیار ہوا وہ ہیئت ہے اور جو گھر ہے وہ مکمل افسانہ ہے۔ صرف تکنیک گھر نہیں بنا سکتی اور نہ افسانہ، مگر افسانے کو تکمیلیت عطا کرنے کے لیے ایک موزوں تکنیک ضروری ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. “ارسطو، ”بوطیقا“ (ترجمہ) عزیز احمد۔ درد اکیڈیمی لاہور 1965
  2. "Webster's Ninth New Colligiate Dictionary" G&C MerriaCompany O Massachusestes USA 1985
  3. "A Dictionary of Literary Terms" Martin Grey, Long man Group UK Limited, 1994