الرسائل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

الرسائل رسالہ کی جمع ہے جس کتاب میں الجوامع کے آٹھ عنوانوں میں سے ایک عنوان پر احادیث جمع ہوں رسالہ کہلاتا ہے یا کسی ایک شیخ کی روایات جمع ہوں۔
صحیح یہ ہے کہ رسالہ کوئی مستقل نوع نہیں بلکہ الجزء کا مترادف ہے متقدمین جس کو الجزء سے تعبیر کرتے ہیں متاخرین اسے رسالہ سے تعبیر کرتے ہیں اس کی مثال امام احمد کی کتاب الزہد اور ابن جریر کی کتاب تفسیر ہے[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. نعمۃ الباری شرح صحیح بخاری ،غلام رسول سعیدی،جلد اول صفحہ 61فرید بک سٹال اہور