بد صورتی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اینٹونیو کسالے ایک آنکھ سے محروم بد صورت شخص کے کردار کو 1966ء کے فلم "The Good, the Bad and the Ugly میں نبھاتے ہوئے۔

بد صورتی (انگریزی: Ugliness) یا غیر دل پزیری (انگریزی: Unattractivenesss) اس کیفیت کو کہا جاتا جس میں کسی شخص کی جسمانی بناوٹ اور اعضا کا تناسب فنی یا کشش کے اعتبار دوسرے شخص یا اشخاص کے لیے عدم دل چسپی یا عدم پسندیدگی کا سبب ہو۔

بد صورتی کئی وجوہ سے ہو سکتی ہے۔ ایک شخص ایک آنکھ ترچھی ہو سکتی، اس وجہ سے چونکہ دونوں آنکھیں ایک ہی وقت پر ایک ہی جگہ پر دکھائی نہیں دیتی، اس وجہ سے وہ بد صورت لگتا ہے۔ اسی طرح سے کوئی شخص کا کان کچھ کٹا ہوا ہے، اپنے جسم کے تناسب سے کہیں آگے بڑھا ہوا ہو، کان چھوٹے ہوں، ان سب صورتوں میں ایک شخص بد نما اور عجیب سا لگ سکتا ہے۔ اندھا شخص بھی کئی بار صورت لگ سکتا ہے۔ اسی طرح کوئی شخص ایک ہاتھ یا ایک پاؤں وغیرہ سے محرومی کے سبب بھی بد صورت لگ سکتا ہے۔

ایک خوب صورت شخص بھی کسی حادثے یا بیماری کی وجہ بد صورت لگ سکتا ہے۔ مثلًا ایک حادثے میں کوئی شخص اپنے چہرے چمڑے کے چھِیل جانے کی وجہ بد صورت لگ سکتا ہے۔ لقوہ کی وجہ سے کسی شخص کا گال عجیب ہو جا سکتا ہے اور وہ بد صورت لگ سکتا ہے۔ عورتیں تیزابی حملہ کی شکار ہوئی ہیں اور وہ اس وجہ سے بد صورت لگنے لگتی ہیں۔

بد صورتی کئی بار لوگ رنگ و نسل سے بھی منسوب کرتے ہیں۔ یہ پیمانہ بالکلیہ انفرادی ہونے کے ساتھ ساتھ متنازع بھی ہے۔ مثلًا یہ دعوٰی کہ گوری رنگ والی لڑکیاں زیادہ پر کشش اور خوب صورت ہیں بہ مقابلہ کالی یا سانولی لڑکیوں کے۔ یا پھر یہ دعوٰی کہ کشمیری لڑکیاں نیپالی لڑکیوں سے خوب صورت ہیں۔یہ پیمانے کسی نہ کسی درجے میں رنگ و نسل پرستی پر مبنی ہیں۔

بد صورتی کے تصور کے بارے میں ایک قدیم کہاوت ہے کہ "خوبصورتی دیکھنے والوں کی آنکھوں میں ہوتی ہے[1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]