لقوہ
| لقوہ | |
|---|---|
| ایک شخص اپنے دائیں جانب کے لقوہ کے ساتھ اپنے دانت دکھانے کی اور اپنی بھنویں اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے (تصویر کے بائیں جانب؛ دیکھیں کہ کس طرح پیشانی بھی کمزور ہے)۔ | |
| اختصاص | عصبیات, (ای این ٹی)امراض کان،ناک، گلہ |
| سبب | نامعلوم[1] |
| قابل تشویش | ذیابیطس، حالیہ اوپری سانس کی نالی کا انفیکشن[1] |
| تفریقی تشخیص | دماغ کی رسولی، فالج، رامسے ہنٹ سنڈروم ٹائپ 2، لائم بیماری[2] |
| تعدد | دس ہزار میں سے 1-4 سالانہ[2] |
لقوہ ، (بیلز فالج) چہرے کے فالج کی ایک قسم ہے جس کے نتیجے میں چہرے کے ایک طرف کا حصہ متاثر ہو جاتا ہے اور متاثرہ طرف کے چہرے کے پٹھوں کو کنٹرول کرنے میں ناکامی ہوتی ہے۔ [1] علامات مختلف افراد میں ہلکی سے شدید ہو سکتی ہیں۔ [1] ان میں پٹھوں کا پھڑکنا، کمزوری یا چہرے کے ایک یا شاذ و نادر دونوں طرف حرکت کرنے کی صلاحیت کا مکمل فقدان شامل ہو سکتا ہے۔ [1] دیگر علامات میں پلکوں کا جھک جانا ، ذائقہ میں تبدیلی، کان کے گرد درد اور آواز کی حساسیت میں اضافہ شامل ہیں۔ [1] عام طور پر علامات 48 گھنٹے سے زیادہ تک جاری رہتی ہیں۔ [1]
لقوہ کی وجہ نامعلوم ہے۔ [1] خطرے کے عوامل میں ذیابیطس ، اوپری سانس کی نالی کا حالیہ انفیکشن اور حمل شامل ہیں۔ [1] [4] یہ کرینیل اعصاب VII (چہرے کے اعصاب) کے ناکارہ ہونے کا نتیجہ ہوتا ہے۔ [1] بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ایک وائرل انفیکشن ہے،جس کے نتیجے میں سوجن ہوجاتی ہے۔ [1] تشخیص، کسی شخص کی ظاہری شکل اور دیگر ممکنہ وجوہات کو مسترد کرنے کے بعد کی جاتی ہے [1] دیگر حالات جو چہرے کی کمزوری کا سبب بن سکتے ہیں ان میں دماغی رسولی ، فالج ، رمسے ہنٹ سنڈروم ٹائپ 2 ، مائیسٹینیا گریوس اور لائم بیماری شامل ہیں۔ [2]
عام طور پر حالت خود بخود بہتر ہو جاتی ہے اور زیادہ ترافراد مکمل یا تقریباً مکمل طورپرمعمول کے مطابق کام انجام دینے لگتے ہیں۔ [1] بعض صورتوں میں کورٹیکوسٹیرائیڈ نتائج کو بہتر بنانے کی لیے استعمال کیا جاتا ہے-، جبکہ اینٹی وائرل ادویات سے معمولی سا ا اضافی فائدہ ہو سکتا ہے. [5] آنکھ کو خشک ہونے سے بچانا کے لیے آئی ڈراپس یا آئی پیچ کااستعمال کرنا چاہیے۔ [1] عام طور پر سرجری کی سفارش نہیں کی جاتی ہے۔ [1] اکثر بہتری کے آثار 14 دن کے اندر شروع ہو جاتے ہیں، چھ ماہ کے اندر مکمل صحت یابی ہو جاتی ہے۔ [1] یہ ممکن ہے کچھ افراد کو مکمل طور پر صحت یابی حاصل نہ ہو۔اور ان میں علامات باربار ظاہر ہوں۔ [1]
بیلز فالج یا لقوہ ،یک طرفہ چہرے کے اعصابی فالج (70فیصد )کی سب سے عام وجہ ہے۔ [6] یہ ہر 10,000 افراد میں 1 سے 4 کو متاثر کرتا ہے۔ [2] تقریباً 1.5فیصد افراد اپنی زندگی میں کسی نہ کسی وقت اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ [7] یہ عام طور پر 15 سے 60 سال کی عمر کے لوگوں میں ہوتا ہے [1] مرد اور خواتین اس سے یکساں طور پر متاثر ہوتے ہیں۔ [1] اس کا نام سکاٹش سرجن چارلس بیل (1774–1842) کے نام پر رکھا گیا ہے، جس نے پہلی بار اس حالت سے چہرے کے اعصاب کے تعلق کو بیان کیا۔ [1]
حوالہ جات:
[ترمیم]- ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر ڑ ز ژ س ش ص ض ط ظ ع غ ف "Bell's Palsy Fact Sheet"۔ NINDS۔ 5 فروری 2016۔ 2011-04-08 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-08-08
- ^ ا ب پ ت G Fuller؛ C Morgan (31 مارچ 2016)۔ "Bell's palsy syndrome: mimics and chameleons."۔ Practical Neurology۔ ج 16 شمارہ 6: 439–44۔ DOI:10.1136/practneurol-2016-001383۔ PMID:27034243
- ↑ VB Madhok؛ I Gagyor؛ F Daly؛ D Somasundara؛ M Sullivan؛ F Gammie؛ F Sullivan (18 جولائی 2016)۔ "Corticosteroids for Bell's palsy (idiopathic facial paralysis)."۔ Cochrane Database of Systematic Reviews۔ ج 7: CD001942۔ DOI:10.1002/14651858.CD001942.pub5۔ PMC:6457861۔ PMID:27428352
- ↑ Hussain, A; Nduka, C; Moth, P; Malhotra, R (May 2017)
- ↑ Gagyor, Ildiko; Madhok, Vishnu B.; Daly, Fergus; Somasundara, Dhruvashree; Sullivan, Michael; Gammie, Fiona; Sullivan, Frank (2015-11-09). "Antiviral treatment for Bell's palsy (idiopathic facial paralysis)" (PDF). The Cochrane Database of Systematic Reviews (11): CD001869. doi:10.1002/14651858.CD001869.pub8. ISSN 1469-493X. PMID 26559436. Archived (PDF) from the original on 2020-08-08. Retrieved 2020-07-22.
- ↑ Gretchen Dickson (2014)۔ Primary Care ENT, An Issue of Primary Care: Clinics in Office Practice۔ Elsevier Health Sciences۔ ص 138۔ ISBN:978-0323287173۔ 2016-08-20 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
- ↑ D. S. Grewal (2014)۔ Atlas of Surgery of the Facial Nerve: An Otolaryngologist's Perspective۔ Jaypee Brothers Publishers۔ ص 46۔ ISBN:978-9350905807۔ 2016-08-20 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا