برسی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

برسی کسی واقعہ کے بعد ایک برس یعنی ایک سال بیت جانا۔ کسی کی وفات کا ایک سال ختم ہو جائے تو پہلے سال کے بعد پہلی برسی منائی جاتی ہے اور پھر ہر سال گزرنے پر بھی برسی منائی جاتی ہے۔

مختلف مذاہب میں رسومات[ترمیم]

اسلام[ترمیم]

اکثر اہل اسلام کی جانب سے اپنے مرنے والے کی یاد میں اور اس کے ایصال ثواب کے لیے منائی جانے والی رسومات مندرجہ ذیل ہیں۔

  • ختم دفنانے والے دن
  • رسم قل موت کے تیسرے دن منائی جاتی ہے اسے سوم بھی کہا جاتا ہے
  • پہلی جمعرات موت کے بعد آنے والی پہلے جمعرات کے دن
  • سات جمعراتیں پہلی جمعرات سے سات جمعراتوں تک
  • شب ہفتم موت کے ساتویں رات
  • دیسہ موت کے دسویں دن
  • چہلم موت کے چالیسویں دن
  • برسی موت کا پہلا سال ختم ہونے پر پہلی برسی اور ہر سال کے بعد برسی منائی جاتی ہے۔

موت کی برسی[ترمیم]

موت کی برسی (یا یوم وفات) کسی شخص کی موت کی سالگرہ ہے۔  یہ یوم پیدائش کا برعکس ہے۔  آذربایجان، آرمینیا، کمبوڈیا، چین، جارجیا، ہانگ کانگ، تائیوان، ہندوستان، میانمار، ایران، اسرائیل، جاپان، بنگلہ دیش، کوریا، نیپال، پاکستان، فلپائن، روس، سری لنکا سمیت متعدد ایشیائی ثقافتوں میں اور کئی دیگر مقامات میں جہاں ویتنامی یا چائنیز یا یہودی یا جاپانی یا پھر کورین اقوام کی کثرت ہے ان میں کسی خاندان یا کوئی دوسری عظیم شخصیت کے انتقال پر یوم وفات منا نا ایک رسم کی حیثیت رکھتی ہے۔

اور بھی کئی چیزیں ہیں جو یادگار کے طور پر مختلف مواقع سے منائی جاتی ہیں، مثلاً ہر ہفتہ یا پھر ہر مہینہ۔

چائنا[ترمیم]

چائنا میں موت کی برسی منانے کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ اس طویل تاریخی دور میں اس کو منا نے کا طریقہ اپنے آباء واجداد کی روحوں کے لیے قربانی کرنا رہا ہے۔

جنوبی ایشیا[ترمیم]

ہندوستان و نیپال وغیرہ میں موت کی برسی کو شرادھ کہا جاتا ہے۔

شرادھ[1] کا مطلب احترام و تعظیم پیش کرنا ہو تا ہے۔ شرادھ، اپنے آباء و اجداد کے تئیں اچھے احساسات کے اظہار کی ایک رسم ہے۔ ہندوستان اور نیپال میں بسنے والے ہندو قوم کے مقدس صحیفوں کے مطابق جب ایک شخص کی موت ہوتی ہے تو اس کی روح بھٹکتی رہتی ہے اور اپنے کیے ہوئے اعمال کے نتیجے میں اس کو تکلیف ہوتی رہتی ہے، تو یہ شرادھ اسی تکلیف و مشقت کو دور کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ شرادھ عموماً متوفی شخص کے بڑے بیٹے کے ذریعہ کیا جاتا ہے لیکن اس میں اس کے دیگر بھائی اور بہن بھی شریک ہوتے ہیں۔

یہودیت[ترمیم]

یہودی قوم اس دن کو کدش نامی عبادت کے ذریعہ منا تے ہیں۔ لیکن ایک عام رسم ایک خاص قسم کی موم بتی جلانے کی ہے جو 24 گھنٹے تک جلتی رہتی ہے[2]۔

کوریا[ترمیم]

کوریا میں کنبے کے ارکان کی وفات کی برسی کو ذاتی تقریب کی حیثیت سے منایا جاتا ہے۔ اس طرح کے مواقع کے لیے، کنبے کی خواتین روایتی طور پر پکوانوں کا ایک وسیع سیٹ تیار کرتی ہیں، جن میں ٹیٹوک، جیون، جیوک اور دیگر شامل ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "https://web.archive.org/web/20130207194737/http://www.siddhashram.org/s20000849.shtml".  روابط خارجية في |title= (معاونت)
  2. "http://www.jewfaq.org/death.htm".  روابط خارجية في |title= (معاونت)