بورس بیکر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بورس بیکر
Boris Becker 2007 amk.jpg 

شخصی معلومات
پیدائشی نام (جرمن میں: Boris Franz Beckerخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیدائشی نام (P1477) ویکی ڈیٹا پر
پیدائش 22 نومبر 1967 (50 سال)[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
رہائش شویتس
میونخ
ومبلڈن، لندن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Germany.svg جرمنی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
قد 190 سنٹی میٹر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں قد (P2048) ویکی ڈیٹا پر
وزن 85 کلو گرام  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وزن (P2067) ویکی ڈیٹا پر
يد اللعب دایاں (رائٹ ہینڈڈ)[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں playing hand (P741) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ ٹینس کھلاڑی[1][4]،کاروباری شخص[4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
کھیل ٹینس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کھیل (P641) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر

بورس فرانز بیکر (Boris Franz Becker) (پیدائش: 22 نومبر 1967ء، لیمن، جرمنی) جرمنی سے تعلق رکھنے والے سابق عالمی نمبر ایک ٹینس کھلاڑی تھے۔ وہ چھ مرتبہ گرینڈ سلام سنگلز کے فاتح اور ایک اولمپک طلائی تمغا یافتہ رہے اور 17 سال کی عمر میں ومبلڈن کے مردوں کے سنگلز جیت کر اس کی تاریخ کے کم عمر ترین فاتح بنے۔

جس وقت انہوں نے 17 سال 7 ماہ کی عمر میں ومبلڈن جیتا تھا، اس وقت یہ سب سے کم عمری میں کوئی بھی گرینڈ سلام جیتنے کا ریکارڈ تھا تاہم بعد ازاں اسے امریکہ کے مائیکل چینگ نے 17 سال 3 ماہ کی عمر میں فرنچ اوپن جیت کر توڑ دیا۔ اس طرح بورس بیکر صرف ومبلڈن کے کم عمر ترین فاتح رہ گئے۔

1987ء میں ڈیوس کپ میں بیکر اور جان میکنرو نے ٹینس کی تاریخ کے طویل ترین مقابلوں میں سے ایک مقابلہ کھیلا۔ بیکر نے 4-6، 15-13، 8-10، 6-2 اور 6-2 سے مقابلہ جیتا (اس وقت ڈیوس کپ میں ٹائی بریک نہیں ہوتے تھے)۔ یہ مقابلہ 6 گھنٹے اور 39 منٹ جاری رہا۔

آپ اپنے کیریئر میں 7 مرتبہ ومبلڈن کے حتمی مقابلے تک پہنچے جن میں سے تین میں فتح نے آپ کے قدم چومے جبکہ 4 مرتبہ آپ کو شکست ہوئی۔ ومبلڈن کے علاوہ آپ تین مزید گرینڈ سلام کے حتمی مقابلوں تک پہنچے اور تینوں میں فاتح قرار پائے۔ ان میں 1989ء کا یو ایس اوپن، 1991ء اور 1996ء کے آسٹریلین اوپن شامل ہیں۔ وہ کلے کورٹ بھی کبھی بھی کوئی سنگلز خطاب جیتنے میں ناکام رہے تاہم بیکر اور مائیکل اسٹچ کی جوڑی نے 1992ء کے بارسلونا اولمپکس میں کلے کورٹ پر سونے کا تمغا جیتا۔

آپ 12 ہفتوں تک عالمی نمبر ایک کھلاڑی رہے اور طویل عرصہ ایوان لینڈل اور اسٹیفن ایڈبرگ سے پیچھے دوسرے درجے پر فائز رہے۔

بیکر اپنے جذباتی پن کی وجہ سے بھی معروف تھے۔ جب برا کھیلتے تو خود پر بری طرح چیختے اور کبھی کبھار اپنا ریکٹ بھی زمین پر دے مارتے لیکن جان میکنرو کی طرح اُن کا یہ غصہ کبھی بھی حریف پر نہیں اترتا تھا۔ 2003ء میں انہوں نے اپنی سوانح حیات Augenblick, verweile doch (انگریزی: The Player) کے نام سے لکھی۔

  1. ^ 1.0 1.1 مصنف: Bud Collins — عنوان : The Bud Collins History of Tennis — شائع دوم — صفحہ: 546 — ناشر: New Chapter Press — ISBN 978-0-942257-70-0
  2. جی این ڈی- آئی ڈی: http://d-nb.info/gnd/118813501 — اخذ شدہ بتاریخ: 15 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: سی سی زیرو
  3. ربط: ITF ID
  4. ^ 4.0 4.1 http://id.loc.gov/authorities/names/n2002116591.html