بین الاقوامی خلائی مرکز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
International Space Station
A rearward view of the International Space Station backdropped by the limb of the Earth. In view are the station's four large, gold-coloured solar array wings, two on either side of the station, mounted to a central truss structure. Further along the truss are six large, white radiators, three next to each pair of arrays. In between the solar arrays and radiators is a cluster of pressurised modules arranged in an elongated T shape, also attached to the truss. A set of blue solar arrays are mounted to the module at the aft end of the cluster.
The International Space Station on 23 May 2010 as seen from the departing سانچہ:OV during STS-132.
Station statistics
COSPAR ID سانچہ:Cospar
SATCAT № 25544
Call sign Alpha, Station
Crew Fully crewed: 6
Currently aboard: 3
(Expedition 50)
Launch Did not recognize date. Try slightly modifying the date in the first parameter.
Launch pad
Mass ≈ 419,455 kg (924,740 lb)[1]
Length 72.8 m (239 فٹ)
Width 108.5 m (356 فٹ)
Height ≈ 20 m (66 فٹ)
nadir–zenith, arrays forward–aft
(27 November 2009)[dated info]
Pressurised volume 931.57 m3 (32,898 cu ft)[2]
(28 May 2016)
Atmospheric pressure 101.3 kPa (29.9 inHg; 1.0 atm)
Perigee 400.2 km (248.7 mi) AMSL[3]
Apogee 409.5 km (254.5 mi) AMSL[3]
Orbital inclination 51.64 degrees[3]
Orbital speed 7.67 km/s (27,600 km/h; 17,200 mph)[3]
Orbital period 92.65 minutes[3]
Orbits per day 15.54 rev/day
Orbit epoch 30 September 2016, 18:10:52 UTC[3]
Days in orbit سانچہ:Time interval
(4 دسمبر)
Days occupied سانچہ:Time interval
(4 دسمبر)
Number of orbits 101,081 بمطابق جولائی 2016[4]
Orbital decay 2 km/month
Statistics as of 9 March 2011
(unless noted otherwise)
References: [1][3][5][6][7][8]
Configuration
The components of the ISS in an exploded diagram, with modules on-orbit highlighted in orange, and those still awaiting launch in blue or pink
Station elements بمطابق اگست 2016
(exploded view)

بین الاقوامی خلائی مرکز یا عالمی خلائی اسٹیشن ایک خلائی مرکز یا رہائش کے قابل مصنوعی سیارچہ ہے۔

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن اور کشش ثقل[ترمیم]

عالمی خلائی اسٹیشن پر کشش ثقل ہوتی ہے ۔ یہ عالمی خلائی سٹیشن زمین سے صرف چار سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور وہاں پر زمین کی کشش بہت زبردست ہے۔ یہ مصنوعی سیارہ زمین کے گرد انتہائی تیزی سے زمين كے مماس کے متوازی حرکت کر رہا ہے۔ اس کی رفتار 7 کلومیٹر فی سیکنڈ ہے۔ اگر کشش نہ ہوتی تو اسٹیشن تیزی سے زمین سے دور نکل جاتا اور کبھی واپس نہ لوٹتا۔ زمین اس کو نیچے کھینچ رہی ہے اور باقی چیزوں کی ہی طرح یہ بھی زمین کی طرف گر رہا ہے لیکن زمین چونکہ گول ہے اور اسٹیشن کی جانبی رفتار حد سے زیادہ تیز۔ اس لئے یہ جتنا گرتا ہے اتنا ہی ایک طرف کو نکل جاتا ہے اور زمین کے مرکز کی طرف بڑھ ہی نہیں سکتا جس کے نتیجے میں یہ ایک مدار میں پھنس جاتا ہے جس میں وہ ہمیشہ گرنے کی حالت میں ہوتا ہے لیکن کبھی سطح زمین سے نہیں ٹکرا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اگر اسے روک دیا جائے تو جانبی رفتار نہ ہونے کے باعث یہ جلد ہی سطح زمین پر تباہ ہو جائے گا۔

انسان اگر اس اسٹیشن تک پہنچنا چاہے تو اسے راکٹ میں بیٹھ کر پہلے اس اسٹیشن کی رفتار حاصل کرنی پڑتی ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی آدمی ایک چلتی گاڑی سے دوسری چلتی گاڑی میں سوار ہو۔ اب انسان کی رفتار بھی اسٹیشن کے برابر ہو جاتی ہے اور انسان بھی اس میں زمین کی طرف گرنا شروع کر دیتا ہے۔ اب جب دونوں ہی زمین کی طرف ایک ہی تیزی سے گر رہے ہوتے ہیں تو انسان کو اسٹیشن کی سطح کی طرف کوئی کشش محسوس نہیں ہوتی جس سے "ایسا لگتا ہے" کہ کوئی کشش نہیں ہے۔ اور اسی طرح اس میں موجود تمام چیزیں گر رہی ہوتی ہیں تو اس لئے وہ خلا میں بے ترتیبی سے اڑتی نظر آتی ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کسی اونچی عمارت کی لفٹ میں سفر کر رہا ہو اور خدا نخواستہ لفٹ کی رسیاں ٹوٹ جائیں تو لفٹ اور اس میں موجود اشیاٰء اور لوگ زمین کی طرف گرنے لگیں گے۔ اور بے وزنی کی وہی کیفیت محسوس ہو گی جو عالمی خلائی اسٹیشن میں ہوتی ہے۔


نگار خانہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 Garcia، Mark (1 October 2015). "About the Space Station: Facts and Figures". NASA. اخذ کردہ بتاریخ 2 October 2015. 
  2. "Space to Ground: Friending the ISS: 06/03/2016". YouTube.com. NASA. 3 June 2016. 
  3. ^ 3.0 3.1 3.2 3.3 3.4 3.5 3.6 Peat، Chris (30 September 2016). "ISS - Orbit". Heavens-above.com. اخذ کردہ بتاریخ 30 September 2016. 
  4. Garcia، Mark (16 May 2016). "Station Reaches 100,000 Orbits, Deploys Cubesats". NASA. اخذ کردہ بتاریخ 17 May 2016. 
  5. خطا در حوالہ: حوالہ بنام ISStD کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  6. خطا در حوالہ: حوالہ بنام OnOrbit کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  7. "STS-132 Press Kit" (PDF). NASA. 7 May 2010. اخذ کردہ بتاریخ 19 June 2010. 
  8. "STS-133 FD 04 Execute Package". NASA. 27 February 2011. اخذ کردہ بتاریخ 27 February 2011.