بین نسلی شادی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

بین نسلی شادی ایک قسم کی ماورائے زمرہ شادی ہے جس میں زوجین کا تعلق دو مختلف نسلوں سے ہوتا ہے۔ یہ تاریخی طور پر ریاستہائے متحدہ امریکا میں مکروہ سمجھا جاتا تھا، جب کہ یہ جنوبی افریقا میں ممنوع تھا۔ اسے 1967ء میں ریاستہائے متحدہ میں قانونی حیثیت حاصل ہوئی جب ریاستہائے متحدہ کے سپریم کورٹ نے لوینگ بمقابلہ ورجینیا مقدمے میں یہ فیصلہ سنایا کہ نسل پر مبنی حد بندیاں جو یہ طے کرتی ہیں کہ افراد کن اشخاص سے شادی کریں ملک کے دستور کی مساوی تحفظ کی دفعہ کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

بین نسل شادی کی ہمہ نسلی سماج میں اہمیت[ترمیم]

سیاسی، مذہبی اورسماجی شخصیات نے بین نسل شادی کی ہمہ نسلی سماجوں میں اہمیت پر زور دیا ہے۔ 2016ء میں بھارت کی مرکزی کابینہ میں شامل کیے گئے دلت لیڈر رام داس اٹھاولے نے گجرات میں دلتوں پر حملوں جیسے واقعات نہیں دہرائے جانے پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ گائے کا تحفظ ضروری ہے لیکن انسانوں مزید ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف قانون سے اس بات کی یقینی نہیں بنایا جاسکے گا کہ دلتوں کے خلاف جرائم نہ ہوں۔ اس سلسلے میں انہوں نے مشورہ دیا کہ بین نسلی شادیوں کو فروغ دینے سے معاشرے میں ذات پات کو قابو کرنے میں مدد ملے گی۔[1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

==بیرونی روابط==*