بے سمت نسائیت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(بے سمت نسوانیت سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search

بے سمت نسائیت (انگریزی: Anarcha-feminism) بے سمتی یا لاقانونیت یا طوائف الملوکی کی کیفیات کو نسائیت سے جوڑتی ہے۔ یہ عمومًا اس بات کی وکالت کرتا ہے کہ پدریت پر مبنی نظام اور روایتی جنس پر مبنی کردار غیر رضا کارانہ جبریت پر مبنی زمرہ بندیاں یا بندشیں ہیں جنہیں غیر مرکوزیت پر مبنی وابستگی سے جوڑنا چاہیے۔ اس کی ایک سرکردہ وکالت کرنے والی خاتون ایل سوسان براؤن نے دعوٰی کیا کہ "چوں کہ طوائف الملوکی ایک سیاسی فلسفے کے طور پر ہر طاقت پر مبنی رشتے کا مخالف ہے، یہ اپنے آپ میں نسائیت پسند ہے [1]

بے سمت نسائیت کسی بھی ماتحتییت اور سرمایہ دارنہ نظام کی مخالف ہے۔ اس کا فلسفہ جبر و زبر دستی سے متصادم ہے۔ اس کا مقصد دونوں جنسوں کے بیچ "مساوی میدان" تیار کرنا ہے۔ بے سمت نسائیت زمروں اور جماعت بندیوں کے انحصار کے بغیر سماجی آزادی اور عورتوں کی آزادی کا حامی ہے۔ [2][3][4]

قدامت پسند ممالک میں نئے معیارات[ترمیم]

ایک سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی خاتون کا انگریزی زبان میں مجموعہ کلام

دنیا کے کئی مشرقی ممالک جہاں پر خواتین پر کافی سخت رویہ رہا ہے، آج وہاں آزادیٔ نسواں کے نعرے کا بول بالا ہے۔ اس کی جدید ترین مثالوں میں سعودی عرب شامل ہے جہاں کی ایک سرکاری حفاظتی ایجنسی نے کہا کہ اس کے ایک سماجی میڈیا کھاتے پر نسائیت پسندی کو انتہا پسندی کہنے والی ویڈیو کا پوسٹ کیا جانا ایک غلط اقدام تھا۔ اس سرکاری اشتہاری ویڈیو میں نسائیت پسندی، ہم جنس پسندی اور الحاد کو خطرناک خیالات کی ایک ہی قِسم کے طور پر بیان کیا گیا تھا اور سعودی شہریوں سے کہا گیا تھا کہ وہ ان خیالات سے محفوظ رہیں۔ اس معافی اور معذرت خواہی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ سعودی عرب جدید دور میں یہ کوشش کر رہا ہے کہ وہ اپنے بارے میں عورتوں کے حوالے سے ایک سخت گیر اور جبر والے ملک کے تاثر کو کسی طرح ختم کر سکے اور دنیا کے یہ باور کرائے اس کے یہاں بھی عورتوں کی اپنی آواز ہے اور ان کے بھی قابل ذکر خقوق اور سرگرمیاں ہیں۔[5]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]