تبادلۂ خیال:پاکستان میں کورونا وائرس کی وبا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ( پی ایف یوجے)کے زیر اہتمام تین مئی کے یوم آزادی صحافت کے موقع پر عالمی سطح کی انٹرنیشنل آن لائن کانفرنس منعقد کی گئی اس کانفرنس میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے سینئر صحافیوں و کالم نویسوں ، اینکرز ، سیاسی رہ نماوں ،پروفیسرز ،انسانی حقوق کے علمبرداروں،سماجی بہبود کی عالمی تنظیموں ، وکلاء، مختلف اداروں کی مزدور یونینز کے نمائندوں نے شرکت کی۔کوڈ-19کے باعث پی ایف یو جے کی جانب سے زوم کےذریعےاپنی نوعیت کی پہلی انٹرنیشنل آن لائن کانفرنس کا موضوع State of press freedom and media crisis in Pakistan ‎تھا ۔ ‎اس اہم ترین کانفرنس میں پاکستان کے شعبہ صحافت پر لگائی جانے والی غیر اعلانیہ بندشوں ،قدغنوں اور صحافیوں کو مسلسل دھمکانے ،نشانہ بنانے اور قتل کے بدترین واقعات کے امور پر کھل کر گفتگو کی گئی اور شدید تحفظات کا اظہار بھی کیاگیا ۔ ‎کانفرنس میں صحافت پر پابندیوں کے خاتمے اور صحافیوں کے جانی و مالی تحفظ کےحوالے سے کئی اہم تجاویز کا بھی تبادلہ کیا گیا۔ پی ایف یو جے کی انٹرنیشنل آن لائن کانفرنس کے میزبان پی ایف یو جے کے صدر شہزادہ ذوالفقار اور سیکریٹری جنرل ناصر زیدی، ممتہم سابق صدر پی ایف یو جے افضل بٹ تھے جبکہ جنرل سیکریٹری آرآئی یوجے آصف علی بھٹی نے کانفرنس کی نظامت کے فرائض سرانجام دیئے ۔تین سے چار گھنٹے مسلسل جاری رہنے والی انٹرنیشنل آن لائن کانفرنس کے دوران پیش کی جانے والی تجاویز و سفارشات میں کہا گیا ہے کہ حکومت صحافیوں کے خلاف کرائمز کی فوری سماعت کے لیے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر مقرر کرے، پاکستان میں آئین کے تحت آزادی اظہار رائے،صحافت کی خودمختاری اور صحافیوں کیخلاف جرائم کے جائزہ اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانےکےلئےوسیع البنیاد پارلیمنٹری کمیٹی بنائی جائے ۔ ‎صحافتی ادارے اور تنظیمیں فیک نیوز کے خاتمے کے لیے ازخودکوششوں کا آغاز کریں تاکہ عوام وخواص کا میڈیا پر اعتماد بحال ہوسکے۔شہروں اور دیہی علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں اور میڈیا ورکز کی نوکریوں کے تحفظ اور تن خواہ کی بروقت ادائیگی کا جامع نظام بنانے اور ٹی وی پروگراموں میں غیر صحافی اینکرز کی حوصلہ شکنی اور سابق فوجی افسران کو دفاعی تجزیہ تک محدود رکھنےکےلئے میڈیا مالکان سے بات کی جائے ۔ پی ایف یوجے کی پہلی انٹرنیشنل آن لائن کانفرنس میں ‎امریکہ ،برطانیہ ،کینیڈا ، ترکی ،مشرق وسطی اور یورپ کے ‎مختلف ملکوں میں برسوں سے شعبہ صحافت سے منسلک سنیئر صحافیوں انور اقبال ،عظیم ایم میاں ،معاوض صدیقی، محسن ظہیر، خالد حمید فاروقی ، ارشد بھٹی ،بدر منیر چوہدری ، وقار ملک ، ارشد رچیال ،پروفیسر شفیق احمد اور دیگر نے ‎تجویز دی کہ پی ایف یو جے کے سنیئر ارکان پر مشتمل وفد بناکر یورپی یونین سمیت دیگر عالمی صحافتی تحفظ و فروغ کے اہم عالمی اداروں کا دورہ کرے اور انہیں پاکستان میں شعبہ صحافت کےحوالے سے حقیقی صورت حال سے آگاہ کرے۔ ‎انہوں نے آفر دی کہ وہ خود بھی پاکستان میں آزادی صحافت پر قدغنوں اور صحافیوںُ پر ہونے والے مظالم کی معلومات عالمی اداروں تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرسکتے تاکہ جو طاقتور ادارے پاکستان میں صحافت پر پابندیاں لگانے میں ملوث ہیں انہیں آئینی اور عالمی قوانین کےتحت ایسے اقدامات سے بعض رکھا جاسکے ۔کانفرنس میں انسانی حقوق کی تنظیموں کےنمائندوں نےبھی آزادی صحافت کی صورت حال پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان میں صحافیوں پر پچھلے کئی برسوں سے تشدد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جس پر یورپی پارلےمنٹ بھی سخت تنقید اور تشویش کا اظہار کررہی ہے۔ اس صورت حال پر فوری طور پر قابو پانے کے لیے وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، تجویز دی گئی ہے کہ صحافیوں کی نوکریوں کےتحفظ کےلئے تمام میڈیا کے اداروں کو سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان سے رجسٹرڈ کرانے کےلئے حکومت سے فوری مطالبہ کرنا چاہئے۔ ‎ کانفرنس میں ملک بھر سے یونیز ، پریس کلبز اور مختلف تنظمیوں کے ارکان نے سفارشات پیش کیں کہ میڈیا کی آزادی اور عوام کی آواز اعلی ایوانوں تک ‎پہنچانے ، معاشرتی مسائل کےحل ، پاکستان می جمہوریت کی مضبوطی اور آئین کی بالادستی کو یقینی بنانے کی خاطر اب صحافیوں کو حکومت کی طرف دیکھنے کی بجائے ازخود عملی جدوجہد کا آغاز کرنا ہوگا جس میں سیاسی جماعتوں،وکلاء تنظمیوں ، ورکرزیونینز ، طلباء و اساتذہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے فوری رابطے کئے جائیں ۔ ‎پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں میڈیا پر لگائی جانے والی پابندیوں کو ختم کرنے کے لیے صحافی اپنی جدوجہد کو سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر آگے بڑھائیں ‎سینئر صحافی حامد میر نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ ان کی اہم وفاقی وزرا کے ساتھ ملاقات ہوئی ہے جس میں جرنلسٹ سیفٹی بل بات چیت کی گئی ہے جس کی وفاقی کابینہ منظوری دےچکی ہے لیکن وزیر قانون فروغ نسیم نے اس کی مخالفت کردی ہے اور اس بل کو آئین سےمتصادم قرار دیا ہےجس پر کانفرنس کےشرکاء نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ‎پی ایف یوجے کی انٹرنیشنل آن لائن کانفرنس میں چاروں صوبوں سے صحافتی یونیز، پریس کلبز اور سنیئر صحافیوں نے شرکت کی، صدر نیشنل پریس کلب شکیل انجم ،صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری ، سنیئر صحافی مظہر عباس ، احسان الحق ، فاروق طارق ،منیب رشید ،مہیوش خان ،محمد شفیق راجا، ناصر ملک ، نورالامین، ڈاکٹر شفقت منیر ،ڈاکٹرعابد سلہری انعام الرحیم ،اقبال جمیل ،ڈاکٹر اویس سلیم ، ‎، جاوید صدیقی ،شفیع احمد ،افنان خان ،فوزیہ شاہد مطیع اللہ جان ،مبارک زیب خان ،عمار مسعود ،علی رضا علوی ،آصف بشیر چوہدری ،لالہ اسد پٹھان ،جواد فیضی ،انور رضا ،فہیم صدیقی ، عامر سجاد، مائرہ عمران ، عمرانہ کومل ،پروفیسر عمارجانُ،مدثر چوہدری ، احتشام الحق ، قمر زمان بھٹی، ناصر ملک ،ڈاکٹر منور صابر، جے پرکاش مورانی، عاطف قیوم سمیت کئی مقامی صحافیوں نے بھی شرکت کی۔کانفرنس کے اختتام پر صدر پی ایف یوجے شہزادہ ذوالفقار ، افضل بٹ اور آصف علی بھٹی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستان میں آزادی صحافت کےلئے جانیں قربان کرنے والوں ، دھمکیوں اور تشدد سے مرعوب نہ ہونے والوں اور حق کی آواز بلند کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کیا اور اعادہ کیا کہ وطن عزیز میں جمہوریت اور آئین کی بالادستی ،پیشہ صحافت کی تقدیس اور صحافیوں کے تحفظ کےلئے ہر سطح پر پی ایف یوجے اپنا بھرپور کردار کرتی رہےگی۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام 3 مئی کو یوم آزادئ صحافت کے موقع پر انٹر نیشنل ویبینار بعنوان “State of Press Freedom and Media Crisis in Pakistan” میں پاکستان، برطانیہ، یورپ، کینیڈا، امریکہ اور دیگر ممالک کے سینئر صحافی اظہار کر رہے ہیں۔

Start a discussion about پاکستان میں کورونا وائرس کی وبا

Start a discussion