تفسیر حقانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

تفسیر فتح المنّان المشھور بہ تفسیر حقّانی ابومحمد عبدالحق حقانی 1389ھ 1969ء کی 5 جلدوں پر مشتمل اردو تفسیر قرآن نہایت عمدہ اور عالمانہ ہے۔
اس کا اصل نام " فتح المنان " ہے، مولانا عبد الحق حقانی دہلوی اس کے مؤلف ہیں اور اسی نسبت سے " تفسیر حقانی " کے نام سے معروف و مشہور ہے، اس تفسیر میں روایت کو کتاب حدیث سے اور درایت کو اس فن کے علما محققین سے جمع کیا گیا ہے، اُردو میں اصل مطلب قرآن کو واضح کیا گیا ہے، شانِ نزول میں روایتِ صحیحہ نقل کی گئی ہیں، آیات احکام میں اول مسئلہ منصوصہ کو ذکر کرکے پھر اختلاف مجتہدین اور ان کے دلائل کی وضاحت کی ہے، اعراب کی مختلف وجوہ میں سے جو مصنف کی نگاہ میں قوی تھی اس کا ذکر کیا گیا ہے، معانی اور بلاغت کے متعلق نکات قرآنیہ پر بھی گفتگو ہے، کوئی حدیث بغیر سند کتب صحاح ستہ وغیرہ کے نہ لائی گئی ہے، قصص میں جو کچھ روایت صحیحہ یاکتب سابقہ سے ثابت ہے یا خود قرآن میں جو کچھ وارد ہے اس کو بیان کر دیا ہے، آیات میں ربط پر خاص توجہ ہے، مخالفین کے شکوک وشبہات جس قدر تاریخی واقعات یامبداء ومعاد کی بابت کیے جاتے ہیں، سب کا جواب الزامی اور تحقیقی دیا گیا ہے اور نفس ترجمہ میں تفسیر کو قوسین کے درمیان لایا گیا ہے، تکرار، رطب ویابس اور کسی خاص مذہب کی تائید میں غلو سے اجتناب ہے اور مذاہب کا تقابلی مطالعہ کرنے کے بعد قرآن مجید کی حقانیت کو واضح کیا گیا ہے، بائبل اور دوسری مذہبی کتابوں سے تقابلی مطالعہ اور سرسیداحمد خان کی فکری لغزشوں پر تنبیہ اس تفسیر کا خاص موضوع ہے اور یہ تفسیر سلف کی عمدہ تفاسیر کا لب لباب اور عطر ہے۔

تفسیر حقانی کی نمایاں خصوصیات[ترمیم]

  • 1۔ آیات میں ربط پر خاص توجہ ہے۔
  • 2۔ شان نزول میں روایت صحیحہ نقل کی گئی ہیں۔
  • 3۔ کوئی حدیث بغیر سند کتب صحاح ستہ وغیرہ کے نہیں لائی گئی ہے۔
  • 4۔ اس تفسیر میں روایت کو کتاب حدیث سے اور درایت کو اس فن کے علما محققین سے جمع کیا گیا ہے۔
  • 5۔ آیات احکام میں اول مسئلہ منصوصہ کو ذکر کرکے پھر اختلاف مجتہدین اور ان کے دلائل کی وضاحت کی ہے۔
  • 6۔ اعراب کی مختلف وجوہ میں سے جو مصنف کی نگاہ میں قوی تھی اس کا ذکر کیا گیا ہے۔
  • 7۔ علم معانی و بلاغت وغیرہ کی اصطلاحات اور رموز نکات اور معانی و بلاغت کے متعلق نکات قرآنیہ پر بھی گفتگو ہے۔
  • 8۔ قصص میں جو کچھ روایت صحیحہ یا کتب سابقہ سے ثابت ہے یا خود قرآن میں جو کچھ وارد ہے اس کو بیان کر دیا ہے۔
  • 9۔ ہر ایک آیت کے مشکل الفاظ کے معنی اور اردو میں پوری تشریح لکھنے کے بعد عام فہم تفسیر۔
  • 10۔ مخالفین کے شکوک و شبہات جس قدر تاریخی واقعات یا مبداء و معاد کی بابت کیے جاتے ہیں، سب کا جواب الزامی اور تحقیقی دیا گیا ہے۔
  • 11۔ تکرار، رطب و یابس اور کسی خاص مذہب کی تائید میں غلو سے اجتناب ہے اور مذاہب کا تقابلی مطالعہ کرنے کے بعد قرآن مجید کی حقانیت کو واضح کیا گیا ہے۔
  • 13۔ بائبل اور دوسری مذہبی کتابوں سے تقابلی مطالعہ اور سرسید احمد خان کی فکری لغزشوں پر تنبیہ اس تفسیر کا خاص موضوع ہے۔
  • 14۔ منطق و فلسفہ سے استدلال فن مناظرہ کے مباحث
  • 15۔ علما کرام اور عربی دان حضرات کے لیے آیات کی تفسیر سے پہلے ترکیب نیز صرفی نحوی لغوی تشریح و تحقیق۔
  • 16۔ صوفیائے کرام کے فیوضات و ملفوظات اور تصوف کے اسرار و نکات کی باریکیاں آیات کی تفسیر کے ضمن میں اپنا خاص رنگ اور روحانی اثر دکھا رہے ہیں۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تفسیر حقانی ،محمدعبد الحق حقانی ،مقدمہ، میر محمد کتب خانہ آرام باغ کراچی