توجہ شیخ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

توجہ شیختصوف بالخصوص سلسلہ نقشبندیہ میں استعمال ہونے والی اصطلاح ہے

توجہ کا مفہوم[ترمیم]

شیخ کا اپنی قوت ارادی اور قلبی طاقت سے طالب کے دل پر اثر ڈال کر اس کی باطنی حالت میں تبدیلی پیدا کردیناتوجہ کہلاتا ہے۔سلوک کی منزلوں میں شیخ ہر سبق کے لیے توجہ کے ذریعے طالب کے لطائف پر فیض القاء کرتا ہے اس کو تصرف یا ہمت بھی کہا جاتا ہے۔

توجہ کا ثبوت قرآن و حدیث سے[ترمیم]

حضرت یعقوب علیہ السلام کی توجہ اولاد کے لیے اصلاح احوال کا ذریعہ ثابت ہوئی يَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِيْكُمْ وَتَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِيْنَ [1] (اس طرح) تمہارے باپ کی توجہ خالصتًا تمہاری طرف ہو جائے گی اور اس کے بعد تم صالحین کی جماعت بن جاؤگے۔ صالحیت سے مراد صلاحیت دینیہ و دنیویہ ہے۔ پہلی وحی کے وقت حضرت جبریل کا حضور ﷺ کوسینے سے لگا کر دباناقوت توجہ اور صرف ہمت کا واضح ثبوت ہے فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الجَهْدَ[2] پس جبریل نے مجھے پکڑ کر دبایایہاں تک کہ مجھے مشقت پہنچی (اسی حدیث میں ہے جب آپ واپس حضرت خدیجہ کے پاس آئے تو سینہ کانپ رہا تھااصل میں جبریل توجہ دینا نہیں بلکہ توجہ لینا چاہتے تھے ،کہ کیا وجہ ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی دے کر بھیجا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں  ما انا بقاری   میں پڑھنے والا نہیں جب جبریل علیہ السلام نے  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سینے سے لگایاتو منکشف ہوا آیت وحی ادھوری پڑھی جا رہی تھی جب تک مکمل آیت نہیں پڑھوں گا تب تک معاملہ حل نہیں ہو گا

اقسام توجہ[ترمیم]

صوفیاء نے توجہ وتصرف کی مختلف اقسام بیان کی ہیں# توجہ انعکاسی:جیسے کسی چیز پر شیشے یا روشنی کا عکس اور پرتو پڑنا۔# توجہ القائی:جیسے کوئی شخص دیے میں بتی اور تیل ڈال کر لایا تو دوسرا اس میں آگ لگا کر روشن کر دے۔# توجہ اتحادی:شیخ اپنی پوری قوت صرف کر کے اپنے روحانی کمالات طالب کی روح میں القاء کرے۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (یوسف:9)
  2. (بخاری:کتاب بدء الوحی)
  3. البینات شرح مکتوبات ،سعید احمد مجددی،جلداول ،صفحہ 173تنظیم الاسلام پبلیکیشنز گوجرانوالہ