خواجہ عبیداللہ کلاں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
خواجہ عبیداللہ کلاں
معلومات شخصیت
پیدائش 20 اگست 1601  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دہلی  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 7 جنوری 1664 (63 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دہلی  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد باقی باللہ  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ عالم  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

خواجہ عبید اللہ کلاں خواجہ محمد باقی باللہ کے بڑے فرزندے ہیں۔ آپ دو سال کے تھے جب والد بزرگوار کا وصال ہو گیا۔ آپ کی تعلیم و تربیت مجدد الف ثانی نے کی۔ آپ ان کے خلیفہ خاص تھے۔

ولادت[ترمیم]

خواجہ محمد باقی بالله کی دو ازواج تھیں، جن کے بطن مبارک سے خواجہ قدس سرہ کے دونوں صاحبزادے ایک ہی سال 1010ھ بمطابق 1601ء میں پیدا ہوئے۔ عبید اللہ یکم ربیع الاول 1010ھ بمطابق 20 اگست 1601ء کو پیدا ہوئے۔ چونکہ ایک بزرگ نے آپ کی ولادت سے پہلے ایک واقعہ دیکھا تھا کہ خواجہ باقی باللہ کا ایک فرزند خواجہ عبید اللہ احرار (متوفی 896ھ/1491ء) کا ہم نام ہوگا، لہذا اسی اشارہ کی وجہ سے آپ کا نام عبیداللہ رکھا گیا لیکن آپ معروف خواجہ کلاں کے نام سے ہوئے۔

والد کا اظہار مسرت[ترمیم]

عبید اللہ کی ولادت با سعادت پر آپ کے والد بزرگوار حضرت خواجہ باقی باللہ کو بڑی مسرت و خوشی ہوئی۔ حضرت خواجہ نے بیٹے کی ولادت، اذان و اقامت اور تسمیہ کے بارے میں جواشعار کہے جو زبدة المقامات میں درج ہیں۔

مجدد کی توجہ[ترمیم]

بیٹوں کی ولادت کے تھوڑے ہی دنوں بعد جب خواجہ محمد باقی باللہ نے بار زندگی سے سبکدوش ہونے کا عزم کیا تو ایک روز اپنے خلیفہ اعظم شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی سے فرمایا: میرے بدن پر ضعف غالب ہو رہا ہے اور زندگی کی امید کم ہوگئی ہے، لہذا بچوں کے حالات سے خبردار رہنا۔بعدازاں حضرت خواجہ نے دونوں صاحبزادگان کو اپنے پاس طلب فرمایا۔ جو اس وقت دونوں صاحبزادگان اپنی اناؤں کی گود میں تھے۔ جب ان مخدوم زادوں کو حضرت خواجہ کے پاس لایا گیا تو آپ نے مجدد الف ثانی کو حکم فرمایا کہ ان پر توجہ کرو۔ مجدد نے تواضع کی۔ حضرت خواجہ نے مبالغہ فرمایا تو مجدد نے ناچار خواجہ باقی باللہ کے سامنے دونوں صاحبزادگان پر توجہ کی یہاں تک کہ توجہ کا اثر ظاہر ہوا۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

عبید اللہ کلاں حضرت مجدد الف ثانی کی روحانی تربیت میں رہے اور خواجہ حسام الدین کے اہتمام سے فضل وصلاح سے بہرہ ور ہوئے۔ علوم ظاہر کی تکمیل فرمائی۔ علم التاریخ اور انساب میں حصہ کامل حاصل کیا۔ تصوف سے خصوصی شغف تھا اورعلم انشاء میں کمال مہارت کے حامل تھے۔

علوم باطنی کا کسب[ترمیم]

عبید اللہ کلاں نے طریقہ عالیہ نقشبندیہ کا کسب و اخذ مجدد الف ثانی سے کیا۔ مجدد نے ایک بار خواجہ باقی باللہ کی حیات میں آپ کو توجہ دی تھی۔ جب آپ سن تمیز کو پہنچے تو حضرت مجدد نے دونوں صاحبزادگان کو صوری و معنوی فضائل سے آراستہ و پیراستہ کیا۔ عبید اللہ کلاں نے خواجہ باقی باللہ کے اشارہ سے طریقہ عالیہ نقشبندیہ کا شغل شیخ اللہ داد دہلوی سے حاصل کیا اور اپنے بزرگوں کی صفائے نسبت سے مشرف ہوئے۔

خصائل و فضائل[ترمیم]

عبید اللہ کلاں کے اخلاق حسنہ و طریقہ سکینہ و تمکین طبعی اپنے بزرگوں کے طریقہ پر تھے اور یگانہ روزگار تھے۔ خلوت اور گمنامی میں خوش رہتے تھے اور مطالعہ کتب آپ کا انیس و رفیق تھا۔

وصال[ترمیم]

خواجہ عبید اللہ کلاں کا وصال پیر کے روز 8 جمادی الثانی 1074ھ بمطابق 7 جنوری 1664 میں ہوا۔ آپ کی تاریخ وفات 18 جمادی الاول 1073ھ بمطابق 17 جنوری 1673ء بھی منقول ہے۔ آپ کی تدفین والد بزرگوار خواجہ محمد باقی باللہ کے قریب دہلی کے قبرستان میں کی گئی۔

اولاد[ترمیم]

خواجہ عبید اللہ کلاں کی اولاد میں صرف ایک بیٹی تھی۔ اس بیٹی کا عقد مجدد الف ثانی کے صاحبزادے خواجہ محمد یحیی کے ساتھ ہوا۔

تصانیف[ترمیم]

خواجہ عبد اللہ کلاں تحریر و تصنیف کا عمدہ شوق رکھتے تھے۔ آپ کی درج ذیل تصانیف کا ذکر ملتا ہے۔

  1. احوال صحابہ و تابعین و تبع تابعین و مشائخ دین
  2. تذکرہ مشائخ
  3. مبلغ الرجال
  4. مکتوبات [1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تاریخ و تذکرہ خانقاہ سرھند شریف مولف محمد نذیر رانجھا صفحہ 165 تا 169