داشتہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

داشتہ اس عورت کو کہا جاتا ہے جس سے ایک آدمی بین شخصی اور جنسی تعلق رکھتا ہے اور یہ جوڑا شادی شدہ نہ ہو یا نہ ہو سکتا ہو۔ شادی نہ کرنے کی مجبوری کئی وجوہ کے بنا پر ہو سکتی ہے جیسے کہ سماجی مراتب میں فرق، پہلے سے کسی شادی کا رائج ہونا، مذہبی ممانعت، پیشہ ورانہ رکاوٹیں (مثلًا، جیساکہ روم کے فوجیوں کے ساتھ تھا) یا متعلقہ ارباب مجاز کی جانب سے رشتے داریوں کا تسلیم نہ کیا جانا۔

تاریخی طور پر رئیس لوگ حرم قائم کرتے تھے جس میں کئی داشتائیں رہتی تھیں۔ ان سے یہ لوگ جنسی تعلق قائم کرتے تھے جبکہ ان کی شادی شدہ بیویاں الگ سے ہوا کرتی تھیں۔ اس تعلقات سے یا تو اولاد کی طلب نہیں ہوتی یا پھر ان سے ہونے والی اولاد کو کم تر موقف حاصل ہوتا تھا۔

مصور فرنینڈ کورمون (1845–1924) کی بنائی ہوئی حرم کی تصویر۔

ہندوستان کی تاریخ میں داشتاؤں کا رواج[ترمیم]

راجپوتوں کی تاریخ[ترمیم]

دنیا کے تقریبًا ہر سماج میں داشتائیں موجود رہی ہیں۔ قدیم ہندوستان میں راجپوتوں میں خواتین اور لڑکوں کو خریدنے اور فروخت کرنے کی ایک بڑی روایت تھی۔ بعض امیر لوگ خواتین کو اپنی ہوس کے لیے خریدتے اور ان کا استحصال کرتے تھے۔ کچھ لوگ اپنی بیٹی کی شادی میں بیٹی کے ساتھ جہیز دینے کے لیے خریدتے تھے۔ بہت سے طوائف بھی اپنے غیر اخلاقی پیشہ کے لیے لڑکیوں کو خریدکر استعمال کرتے تھے۔ اس رواج کو ختم کرنے کے لیے، برطانوی حکومت نے راجپوت راجاؤں پر زبردست دباؤ ڈال دیا تھا۔ نتیجے کے طور پر، 1847ء میں جے پور ریاست میں یہ کاروبار غیر قانونی قرار دیا گیا۔ بعد میں دیگر ریاستوں نے اسے غیر قانونی قرار دیا۔ لیکن یہ تجارت ملک کی آزادی تک پوشیدہ طور پر چلتی رہی۔ عام طور پر۔ گھریلو خدمت گزار یا ان کی اولاد کو اس طرح استحصال کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ انہیں داس، داروغہ، چاکر، خانہ زاد، چیلا وغیرہ کہا جاتا تھا۔ خواتین کو گولی، داروغن، ڈاودی، بڑارن وغیرہ کہا جاتا تھا۔ ان لوگوں کو اپنی اپنی خواہشات سے شادی کرنے کی آزادی نہیں تھی۔ عورت اپنی بیٹی کی شادی میں جہیز کا حصہ بناتا یا نام کے لیے کسی گولے سے شادی کراتا تھا مگر حقیقتًا اپنے تصرف میں رکھتا تھا۔ یہ ذیلی بیوی کو 'پڑدایت' کہا جاتا تھا۔ راجاؤں کی محبوب بیوی 'پاسوان' یا 'خواصن' کہلائی جاتی تھی۔ اس کا مقام رانی کے بعد ہوتا تھا۔ جن لڑکیوں کو شاہی محل میں شامل کیا جاتا تھا انہیں 'ڈاوڈی' یا 'گولی' کہا جاتا تھا۔ وہ ایک نوکرانی کے طور پر کام کرتی تھی یا مالک کی بیٹی کی شادی میں دی جاتی تھی۔ ان غلاموں/ باندیوں کی حالت بہت ہی قابل رحم تھی۔[1]

مسلمانوں کی تاریخ[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

==بیرونی روابط==*