دو اسمی نظام تسمیہ
علمی اسم یا دو اسمی نظام تسمیہ یا دوہرا تسمیہ نباتات اور حیوانات کے اجسام کے نام رکھنے کا معیاری سائنسی طریقہ ہے۔ اس نظام کو نظام اٹھارھویں صدی کے وسط میں معروف سویڈش ماہر نباتات کارل لینیس یا کارل لیناؤس نے وضع کیا۔ اس نظام کے تحت ہر جسم کا تذکرہ ایک جنرک نام اور ایک مخصوص نام کے ساتھ کیا جاتا ہے۔جانوروں اور پودوں کے سائنسی نام رکھنے کا یہ دوہرا طریقہ یا دوہرا تسمیہ جدید بین الاقوامی طریقہ ہے۔ جس میں پہلے ان کی جنس اور بعد میں نوع درج کی جاتی ہے جیسے Felis leo (شیر) اور Felis tigris (چیتا) میں Felis جنس ہے اور leo اور tigris نوع ہے۔
بعض اوقات نوعی نام کسی مشہور ماہر نباتات / حیوانات کے نام پر رکھ دیا جاتا ہے جس طرح سی ورڈیلا (Sewardiella) کا نام پروفیسر البرٹ سی ورڈ کے نام پر رکھا گیا ہے۔ اسی طرح مشہور مچھلی مہاشیر کا نام نذیری تار (Naziritor) ڈاکٹر نذیر کے نام پر رکھا گیا ہے جو مچھلیوں کے معروف پاکستانی ماہر تھے۔
ماخذ
[ترمیم]اس اصطلاح کو انگریزی میں Binomial nomenclature لکھا جاتا ہے۔ ان الفاظ کی ترتیب میں Bi (بائی) کے معنے لاطینی زبان میں دو کے ہیں جب کہ nomial دراصل لفظ nomia کی صفتی اظہار ہے اور اس کے معنے نام یا اصطلاح کے ہیں۔
اہمیت
[ترمیم]اس نظام میں پوری دنیا میں ایک ہی سائنسی نام استعمال ہوتا ہے۔ جو تحقیق کو آسان بناتا ہے۔ مثلاً ظاہر Canis familiaris کتے اور Canis lupus بھیڑیے کا سائنسی نام ہے۔ پہلا نام Canis ظاہر کرتا ہے کہ یہ دونوں ایک ہی جنس (genus) سے تعلق رکھتے ہیں۔ دو اسمی نظام میں دیے گئے ناموں کو سائنسی نام کہا جاتا ہے۔ اس نظام کے فوائد درج ذیل ہیں:
- عام ناموں کے مقابلے میں یہ نام مستقل اور درست ہوتے ہیں۔
- لاطینی زبان میں ہونے کی وجہ سے ہر زبان بولنے والے ان کو قبول کرتے ہیں۔ گویا یہ عالمی قبولیت رکھتے ہیں۔
- یہ عموماً آسمن اور واضح ہوتے ہیں۔ ان کے ذریعے سے جاندار کے بارے میں کچھ علم ہو جاتا ہے۔
- یہ نام جانوروں کے جنرک (generic) تعلق کو ظاہر کرتے ہیں۔