دیوان فرید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ہفت زبان شاعر اور معروف صوفی بزرگ حضرت خواجہ غلام فرید کے مجموعہ کلام کو دیوان فرید کہا جاتا ہے۔ ان کا کلام خواہ سرائیکی میں ہو یا دیگر زبان میں ہے اسے دیوان فرید کہا جاتا ہے۔

مسئلہ دیوان فرید[ترمیم]

دیوان فرید کی مطبوعہ جلد خواجہ غلام فرید کے دوران حیات میں پہلی مرتبہ1883ء میں منظر عام پر آئی۔ اس طباعت اور بعد میں آنے والے نسخوں کے بارے ماہر فریدیات کے نذدیک خطاط اور طباعت کرنے والےسرائیکی زبان اور اس کے رموزسے نا بلد تھے بلکہ سرائیکی زبان کو پنجابی زبان کا ہی حصہ سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے بعض الفاظ کو بدل دیا گیا یا پھر پنجابی زبان کے الفاظ شامل کے گئے۔ جس کی وجہ سے دیوان فرید کا حسن ماند پڑ گیا۔ الفاظوں کی دروبدل سے یا تو کلام کی صحت متاثر ہوئی یا پھر ترجمہ اور تشریح میں فرق آ گیا۔ ایک اور مسئلہ الفاظ کی ادائیگی میں پیدا ہو گیا تحریر اور ادائیگی میں صوتی ہم آہنگی نہ تھی وسیب میں طباعت کی کوئی سہولت میسر نہ تھی اس لیے اصلاح کا کام جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ کچھ لوگوں نے کلام کی تصحیحی کے لیے ﺫاتی کوششیں کیں اورقلمی نسخے تیار کیے۔ جس سے معاملہ سلجھنے کی بجائے مزید پیچیدہ ہو گیا۔ اس گتھی کو سلجھانے کی کوششیں آج بھی جاری ہیں۔ اس سلسلے میں نئی کاوش"دیوان فرید بالتحقیق" منظر عام پر آئی۔ یہ کتاب ماہر فریدیتمجاہد جتوئی کی آٹھ سالہ عرق ریزی اورتحقیق کا ثمر ہے۔ جس میں کلام فرید کو اصل شکل میں متعارف کروانے کی کوشش کی گئی ہے۔

دیوان فرید سرائیکی[ترمیم]

یہ دیوان سرائیکی زبان میں ہے۔ شاعری کی معروف صنف کافی سے استفادہ کیا گیا ہے۔ بعض مطبوعہ دیوان فرید میں کافیوں کی تعداد 272 ہے اور بعض دیوان میں 271 ہے۔ماہر فریدیات نے 271 کافیوں کی سند تسلیم کی ہے۔ بعض ماہرہ لسانیت اسے پنجابی زبان کا نمونہ سمجھتے ہیں جبکہ بعض ماہر لسانیت اسےسرائیکی زبان کی شاعری کہتے ہیں۔ مذکورہ بات سے قطعہ نظر دیوان فرید کافیکے اعلی معیار کا مظہر ہے۔ درحقیقت دیوان فرید نے اپنی ماخذی زبان کے ادب کو نئی جہتوں سے متعارف کروایا۔

دیوان فرید اردو[ترمیم]

خواجہ غلام فرید کے اردو زبان کے کلام کے مجموعہ کو دیوان فرید اردو کہا جاتا ہے۔ ان کا یہ کلام بھی دیوان فرید سرائیکی کی طرح بے مثل ہے۔

مسئلہ ﮈوہڑا[ترمیم]

ﮈوہڑا سرائیکی شاعری کی سب سے مشہور صنف ہے۔ فی زمانہ اس کے عروج کا زمانہ ہے۔ﮈوہڑا اوربند ایک جیسی خصوصیات رکھنے والی ایک صنف الگ الگ عنصر ہیں۔ خواص اور اجزائے ترکیبی ملتے جلتے ہیں۔ خواجہ غلام فرید سے منسوب کئی ﮈوہڑے زدوعام ہیں لیکن ماہر فریدیات نے ان کی سند کو مسترد کیا ہے اور من گھڑت قرار دیا ہے۔ماہر فریدیات کے نزدیک خواجہ غلام فرید نے ﮈوہڑے تصنیف نہیں کیے تھے۔ بعد میں اظہار عقیدت یا خراج تحسین کے طور پر تصنیف شدہ ﮈوہڑے خواجہ غلام فرید سے منسوب ہو تے گئے