مندرجات کا رخ کریں

دی ٹرمینل (فلم)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
دی ٹرمینل
(انگریزی میں: The Terminal)  ویکی ڈیٹا پر  (P1476) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عمومی معلومات
صنف ڈراما   ویکی ڈیٹا پر  (P136) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
موضوع طیران   ویکی ڈیٹا پر  (P921) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ نمائش 15 جون 2004 (ریاستہائے متحدہ امریکا اور نیویارک شہر )[1]
18 جون 2004 (ریاستہائے متحدہ امریکا )[2][3]
6 اکتوبر 2004 (ہسپانیہ )[4]
7 اکتوبر 2004 (جرمنی )[5]  ویکی ڈیٹا پر  (P577) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دورانیہ 128 منٹ   ویکی ڈیٹا پر  (P2047) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملک ریاستہائے متحدہ امریکا   ویکی ڈیٹا پر  (P495) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زبان روسی ،  انگریزی ،  فرانسیسی   ویکی ڈیٹا پر  (P364) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عکس بندی کے مقامات مانٹریال   ویکی ڈیٹا پر  (P915) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملہ
ہدایت کار
فلم ساز سٹیفن سپلبرگ ،  اینڈریو نکول   ویکی ڈیٹا پر  (P162) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
منظر نامہ
اداکار
موسيقى جان ولیمز   ویکی ڈیٹا پر  (P86) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فلمی صنعت
عکس بندی یانوش کامنسکی   ویکی ڈیٹا پر  (P344) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اسٹوڈیو
تقسیم کنندہ یو آئی پی-ڈونا فلم  [دوسری زبانیں] ،  نیٹ فلکس   ویکی ڈیٹا پر  (P750) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بجٹ 60000000 امریکی ڈالر [11]  ویکی ڈیٹا پر  (P2130) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آمدنی
۔۔۔ پر معلومات

دی ٹرمینل 2004ء کی ایک امریکی کامیڈی ڈراما فلم ہے جسے اسٹیون اسپلبرگ نے پروڈیوس اور ڈائریکٹ کیا تھا اور اس میں ٹام ہینکس، کیتھرین زیٹا جونز اور اسٹینلے ٹوکی نے اداکاری کی تھی۔ ایک ایسے متنازع مہاجر شخص کی کہانی جو دو ملکوں کی سیاسی و تنازعات کی وجہ سے ایئر پورٹ کی حدود کے درمیان محدود ہو کر رہ جاتا ہے اور اپنے شب و روز وہیں گزارتا ہے ۔

کہانی

[ترمیم]

وکٹر نورسکی ایک ایسا شخص ہے جو ایک کرکوزیا(یہ ایک فرضی نام ہے جو کہانی کے لیے بنایا گیا ہے ) سے امریکا آیا ہے اور جان ایف کنیڈی ایئر پورٹ پر اترتے ہی اس کے پیچھے اس ملک سیاسی بغاوت کی وجہ سے ایک بہت بڑی تبدیلی کا شکار ہو جاتا ہے جس کے نیجے میں قانونی اور اصولی طور پر اس کے ملک کرکوزیا کے امریکا کے لیے جاری کیے گئے تمام پاسپورٹ معطل ہو جاتے ہیں ۔

وکٹر نورسکی اپنے والد کی آخری خواہش پوری کرنے امریکا آنا چاہتا تھا جس کے مطابق اسے اپنے باپ کے پسندیدہ موسیقار سے محض ایک آٹو گراف لے کر اپنے ملک کرکوزيا واپس جانا تھا ۔

ایئر پورٹ سیکیوریٹی انچارج فرینک ڈکسن ایک اصول پرست مگر اپنے کام سے کام رکھنے والا شخص ہے۔ وہ وکٹر نورسکی کو انگریزی میں سمجھانے کی کوشش کرتا ہے مگر وکٹر نورسکی انگریزی سمجھنے میں تھوڑا اناڑی ہے وہ بات کو کچھ کچھ سمجھ جاتا ہے مگر اسے حالات کی سنگینی کا پوری طرح اندازہ نہيں ہوپاتا۔ فرینک اسے بتا دیتا ہے کہ اس کے ملک کی طرف اب کوئی فلائٹ نہیں جائے گی اور امریکا کے لیے اس کا پاسپورٹ بے کار ہے۔ اب وہ زیادہ سے زیادہ ایئر پورٹ کی حدود میں رہ سکتا ہے اس وقت تک جب تک کہ اس کے ملک اور امریکا کے درمیان سفارتی تعلقات بحال نہ ہو جائیں ۔

وکٹر نورسکی ایئرپورٹ کے ایک مخصوص لاؤنج میں اپنا بسیرا ڈال لیتا ہے۔ فرینک کا خیال تھا کہ وہ غیر قانونی طور پر ایئر پورٹ سے باہر نکلے گا تو اسے پولیس کے حوالے کر کے اپنی جان چھڑا لے گا مگر وکٹر غیر متوقع طور پر قانون پر عمل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے اور موقع ملنے کے باوجود ایئر پورٹ سے باہر بھی نہيں جاتا۔ کھانا پینا ،نہانا دھونا، سونا جاگنا سب کچھ اسی ایئر پورٹ کے اندر ہی کرتا ہے۔ شب روز ایئر پورٹ کے اندر گزارنے کی وجہ سے اس کی بعض مسافروں اور ایئر پورٹ کے عملے سے جان پہچان بڑھ جاتی ہے اور اس دوران وہ تھوڑی سی کوشش کر کے اپنی انگریزی بہتر کر لیتا ہے ۔

وہ روزانہ پاسپورٹ کے کاؤنٹر پر جا کر اپنا ایک مخصوص فارم پر کر کے دیتا ہے جہاں امیگریشن آفیسر ڈولوریس ٹوریس اس کے فارم پر ہمیشہ مسترد کی مہر لگا دیتی ہے ۔ وہيں کام کرنے والا ایک اور لڑکا اینریک کروز اس امیگریشن آفیسر لڑکی کے عشق میں مبتلا ہوجاتا ہے اور وکٹر نورسکی کے ذریعے اپنے محبت کو پروان چڑھاتا ہے اور بدلے میں وکٹر کو کچن سے کھانا فراہم کرتا ہے۔ جب کہ ایئرپورٹ سوئپر گپتا جو ایک خر دماغ بوڑھا ہے وہ بھی اس کا دوست بن جاتا ہے۔ اس دوران اس کی جان پہچان ایک اور فلائٹ اٹینڈنٹ لڑکی امیلا وارن سے ہوتی ہے جس سے اس کی معمولی واقفیت بالآخر ایک دلی تعلق میں بدل جاتی ہے۔ ایئر پورٹ کا تمام نچلے عہدے کا عملہ اس کے اتنے قریب آجاتا ہے کہ جیسے بچپن کے دوست ہوں .

ایئر پورٹ پر رہتے ہوئے اس کے پاس کھانے کے لیے پیسے بھی نہیں رہتے تو ایسے میں وہ ایئرپورٹ کی حدود کے اندر ہی اپنے لیے کئی ذرائع نکال لیتا ہے۔ جیسے سامان کی ٹرالی لانے والی مشین سے سکے نکلتے ہیں جب کوئی ٹرالی لا کر وہاں رکھتا ہے۔ وہ تمام لوگوں کی بکھیری ہوئی ٹرالیاں لا لا کر وہاں لگاتا ہے اور سکے جمع کر کے برگر اور ڈرنکس لیتا ہے۔ پھر ایئر پورٹ کے ایک حصے میں تعمیراتی کام جاری ہوتا ہے تو وہاں جا کر بہ طور ایک ماہر کارپینٹر اپنی خدمات پیش کرتا ہے ۔

بالآخر نو مہینوں کے بعد وکٹر کا ملک بحالی کی طرف لوٹ آتا ہے اور قانونی طور پر وہ امریکا یا کرکوزیا جانے کے لیے آزاد ہوتا ہے اور وہ نکل جاتا ہے مگر جاتے جاتے اس کے دل پر کئی گہری یادیں رہ جاتی ہیں کہ اس عرصے میں اس نے اس چھوٹے سے عمارت میں رہ کر کیا پایا اور کیا کھویا ۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. https://www.imdb.com/title/tt0362227/releaseinfo/ — اخذ شدہ بتاریخ: 23 ستمبر 2024
  2. 1 2 http://www.imdb.com/title/tt0362227/ — اخذ شدہ بتاریخ: 18 اپریل 2016
  3. 1 2 3 http://www.metacritic.com/movie/the-terminal — اخذ شدہ بتاریخ: 18 اپریل 2016
  4. https://sede.mcu.gob.es/CatalogoICAA/Peliculas/Detalle?Pelicula=83804
  5. http://www.imdb.com/title/tt0362227/releaseinfo — اخذ شدہ بتاریخ: 14 اپریل 2017
  6. 1 2 3 4 5 http://www.allocine.fr/film/fichefilm_gen_cfilm=40882.html — اخذ شدہ بتاریخ: 18 اپریل 2016
  7. 1 2 3 4 http://stopklatka.pl/film/terminal-2004 — اخذ شدہ بتاریخ: 18 اپریل 2016
  8. 1 2 https://www.filmaffinity.com/en/film505081.html — اخذ شدہ بتاریخ: 18 اپریل 2016
  9. 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 https://www.filmaffinity.com/en/film505081.html
  10. 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 http://www.imdb.com/title/tt0362227/fullcredits — اخذ شدہ بتاریخ: 18 اپریل 2016
  11. 1 2 https://www.boxofficemojo.com/title/tt0362227/ — اخذ شدہ بتاریخ: 23 ستمبر 2024

بیرونی روابط

[ترمیم]