ذہنی طمانیت کا اثر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ذہنی طمانیت فراہمی عمومًا چند ڈھکی چھپی گولیوں سے ممکن ہے جیسے کہ شکر کی گولیاں۔

ذہنی طمانیت کا اثر (انگریزی: Placebo effect) کا اطلاق ہر اس بات پر ہوتا ہے جو طبی علاج میں حقیقی لگ سکتی ہے مگر فی الواقع پر حقیقت سے بعید ہوتی ہے۔ یہ ایک گولی، گھول، مرہم یا ایسا کوئی "پُر فریب" علاج کا طریقہ ہو سکتا ہے۔طب کی رو سے ذہنی طمانیت سے مراد یہی ہے کہ جس علاج کے ذریعے لوگ شفایابی کی توقع رکھتے ہیں، اس میں ایسا کوئی فعال مادہ نہیں ہوتا جو حقیقی اور تشفی بخش انداز میں یہ پایہ ثبوت کو پہنچے کہ اس سے صحت پر کچھ اثر ممکن ہے۔[1]

عملی مثال[ترمیم]

ایک طبی مشاہدے میں کچھ لوگوں کو یہ کہ کر ایک سادہ سی دوا دی جاتی ہے کہ اس سے کولیسٹرال کی سطح کم کی جا سکتی ہے۔ چوں کہ سادہ لوح لوگ دوا کو کیمیاوی مرکب یا لیاب سے ملنے والی رپورٹوں کے بغیر ہی مکمل یقین سے اس دوا کو لے لیتے ہیں، اس لیے ممکن ہے کہ ذہنی طمانیت انہیں کچھ حد تک کولیسٹرال کو قابو میں رکھنے میں مدد کرے۔[1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]