مندرجات کا رخ کریں

کولیسٹرال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
کولیسٹرال
نام
IUPAC نام
(10R,13R)-10,13-dimethyl-17-(6-methylheptan-2-yl)-

2,3,4,7,8,9,11,12,14,15,16,17-dodecahydro-1H-

cyclopenta[a]phenanthren-3-ol
شناخت
اندراج نمبر (CAS) 57-88-5
بب كيم (PubChem) 5997
  • CC(C)CCCC(C)C1CCC2C1 (CCC3C2CC=C4C3(CCC(C4)O)C)C

خواص
مالیکیولر فارمولا C27H46O
مولر کمیت 386.654
ظہور white crystalline powder [3]
نقطۂ پگھلاؤ 148–150 °C [3]
نقطہ جوش سانچہ:Chembox BoilingPt1
حل پذیری پانی میں 0.095 mg/L (30 °C)

کولیسٹرال (کولیسٹرول) ایک نامیاتی مرکب ہے۔ کیمیائی ہیئت کے اعتبار سے یہ اسٹیرائیڈ ہے۔ یہ جگر میں ایسی ٹائل کو اینزائم اے (Acetyl-CoA) سے تالیف جاتا ہے۔ کولیسٹرول خلوی جھلیوں کا ایک اہم جزو ہے۔ یہ وٹامن D3 ، کئی ایک اسٹیرائیڈ ہارمونز اور صنفی ہارمونز کی تالیف کا خام مال بھی ہے۔ ان ہارمونز میں کارٹیسول، کارٹیسون اور ایلڈو اسٹیرون شامل ہیں جو غدہ فوق الکلیہ میں تالیف ہوتے ہیں جبکہ صنفی ہارمونوں میں پروجیسٹرون، ٹیسٹو اسٹیرون اور ایسٹروجن شامل ہیں۔ جگر صفرا نامی رطوبت کی شکل میں کولیسٹرول خارج کرتا ہے۔ بعض اوقات یہ پِتّے میں قلمی شکل میں جم کر پتے کی پتھریاں بناتا ہے۔

یہ پانی میں زیادہ تر غیر حل پزیر ہے اور خون میں لپو پروٹین کی شکل میں سفر کرتا ہے۔ جگر اور آنتوں سے کولیسٹرول لو ڈینسٹی لپو پروٹین (LDL) کی شکل میں جسمانی خلیات کو جاتا ہے جبکہ خون جسمانی خلیات سے ہائی ڈینسٹی لپو پروٹین (HDL) کی شکل میں اسے واپس لاتا ہے۔ LDL کولیسٹرول اور HDL کولیسٹرول بالکل ایک سے ہوتے ہیں۔ ان کے درمیان واحد فرق لپو پروٹین کا ہے کہ جس کے ساتھ یہ وابستہ ہوتے ہیں۔

کولیسٹرول اکثر خون کی شریانوں میں جم کر رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ اس حالت کو تصلب شرائین (Atherosclerosis) کہتے ہیں۔ جب شریانوں میں اس کی اتنی مقدار جم جاتی ہے کہ خون نہیں پہنچ پاتا تو دل کے اکلیلی امراض (Coronary diseases) کی علامات پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ آج کی طبی دنیا میں HDL اور LDL کی نسبت کا ٹیسٹ معمول کی بات ہے اور یہ نسبت جتنی زیادہ ہو گی دل کے مرض کا خطرہ اتنا ہی کم ہو گا۔ ماہرین کے مطابق خون میں کولیسٹرول کی مقدار دو سو ملی گرام فی ڈیسی لٹر (200mg/dl1) رہے تو امراض قلب کا خطرہ کم رہتا ہے۔ جب یہ مقدار 200 اور 239 ملی گرام فی ڈیسی لٹر کے درمیان ہو تو امراض قلب کا خطرہ موجود ہوتا ہے۔ اگر یہ مقدار 240 ملی گرام فی ڈیسی لٹر سے بڑھ جائے تو خطرہ بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔

نگار خانہ

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. 1 2 عنوان : cholesterol — PubChem CID: https://pubchem.ncbi.nlm.nih.gov/compound/5997 — اخذ شدہ بتاریخ: 17 نومبر 2016 — اجازت نامہ: آزاد مواد
  2. PubChem CID: https://pubchem.ncbi.nlm.nih.gov/compound/5997
  3. 1 2 "Safety (MSDS) data for cholesterol"۔ 2007-07-12 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-10-20