راج ترنگنی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

راج ترنگنی راج ترنگنی کشمیر کی تاریخ پر ایک مستند اور قدیم ترین تاریخی کتاب ہے جسے پنڈت کلہن نے تحریر کیا۔ سنسکرت میں لکھی گئی اس کتاب میں ابتدائی دور سے لے کر بارہویں صدی عیسوی تک کے شمال مغربی برصغیر کے فرمانرواؤں کی زندگی پر عموماً اور کشمیر کے راجاؤں ، مہاراجاؤں پر خصوصاً ایک ضخیم تاریخی کتاب ہے۔ کتاب کو آٹھ ترنگوں (حصوں) میں تقسیم کیا گیا ہے، اسی مناسبت سے کتاب کا نام راج ترنگنی ہے۔ اس کتاب کے متعدد تراجم ہو چکے ہیں۔ اکثر ترجمان نگاروں نے راج ترنگنی کا اردو ترجمہ "راجاؤں کا دریا" کیا جو غلط ہے کیونکہ سنسکرت میں ترنگا کا مفہوم "الہر" ہوتا ہے ۔ اس کا صحیح لفظی ترجمہ "راجاؤں کی لہر" بنے گا نہ کہ "راجاؤں کا دریا"۔

اردو ترجمہ[ترمیم]

دور جدید میں میں راج ترنگنی کا اردو ترجمہ ٹھاکر اچھر چند شاہپوریہ نے کیا  اور کوشش کی ہے کہ کہ پنڈت کلہن کی راج ترنگنی کا لفظ بہ لفظ ترجمہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ النکار شاستر کے مطابق مصنف نے جو استعارات اور تشبیہات اپنی کتاب میں بندھی ہیں انہی میں اردو داں کے روبرو پیش کیا جائے اس اعتبار سے السنہ اردو میں سنسکرت ادب کی نخل بندی کی اولین کوشش ہے۔

تاریخ کا اجمالی جائزہ[ترمیم]

اچھر چند شاہپوریہ نے دیباچے میں زمانہ سلف کی تاریخ ، یورپ کی ابتدائی تاریخ، ازمنہ سابقہ کی تاریخ، ہندوستان کی قدیم تاریخ اور ہندوؤں کی تاریخ اور ترقی کا مختصراً ذکر کیا ہے۔

مورخ کے ضروری اوصاف[ترمیم]

ذاکر حسین شاہ بوریا نے نے مورخ کے ضروری اوصاف کا تفصیلی جائزہ لیا ہے اس میں نشر کی اور مغربی مؤرخین تصانیف سے بھی چند اقتباسات دیے ہیں اور ان پر تنقید بھی کی یے.

کلہن کے حالات زندگی[ترمیم]

دیگر ہندوستانی مصنفوں کی طرح پنڈت کلہن کے بارے میں کوئی تحریر میسر نہیں۔ ان کی یاد گار بھی صرف ان کی تصنیف کی صورت میں موجود ہے اس کے علاوہ کوئی ایسی تحریر موجود نہیں جس سے اس عالم شاعر اور نثر نگار کے حالات معلوم کیے جا سکیں۔ راج ترنگنی کی ہر ترنگ کے آخر میں محولہ بالا فقرات کی مدد سے سے پنڈت کلہن کے فن اور سیرت بارے مواد جمع کیا گیا ہے۔۔ کلہن کے حسب نسب اور دیگر حالات سبھی اس کی ذاتی تصنیف سے ہی لیے گئے ہیں۔

تصنیف کی تاریخ[ترمیم]

پنڈت کلہن نے اپنی تصنیف کی تمہید  لوکک 4224 یا گیارہ سو اڑتالیس میں لکھی اور اس کتاب کو ایک سال میں مکمل کیا۔[1]

راج ترنگنی کی تحریر اور نوعیت[ترمیم]

پنڈت کلہن نے راج ترنگنی کو زیادہ تر ایک نظم کی حیثیت میں لکھا ہے ہے گو کہ یہ ایک تاریخی واقعات کا مجموعہ ہے۔

کلین اور النکار شاستر[ترمیم]

کتاب میں کلہن میں النکار شاستر کے قواعد کی پیروی کی ہے جو اس امر کے متقاضی ہیں کہ کسی بھی نظم کے جزو اعظم میں کوئی مخصوص رس یا خیال پایا جائے۔ کلہن کی تصنیف کا رس یا خیال غالب شانت رس ہے۔ اس رس کے انتخاب کی مناسبت ثابت کرنے کے لیے وہ ذکر کرتا ہے کہ دنیا کی ہر شے ناپائیدار ہے جس کا ثبوت کافی طور پر اس کی تصنیف سے ملتا ہے۔ اسی رس کو نمایاں بنانے کے لیے وہ ان راجاؤں کے عہد حکومت کو غیر معمولی طوالت کے ساتھ بیان کرتا ہے جنھوں نے اپنی حکومت کا خاتمہ تیاگ یا کسی اور متاثر کن طریقہ پر کیا۔ اس بات کو بھی اتفاقیہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ اس کی 8 ترنگوں میں سے چار ایسے ہی بیان کے ساتھ ختم ہوتی ہیں۔

راج ترنگنی کے نصیحت آمیز پہلو[ترمیم]

تصنیف میں جابجہ پندآموز ہرات دین میں دنیاوی شان و شوکت کا عارضی ہونا، شاہی مقبوضات کا غیریقینی ہونا ، خلاقی قوانین کو شکست دینے کا ہرجانہ۔

انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا[ترمیم]

انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا میں راج ترنگنی کے بارے میں درج ہے۔

> "1148 میں سنسکرت زبان میں کشمیری برہمن پنڈت کی تحریر کا دا راج ترنگنی ابتدائی کشمیر کی ایک تاریخی دستاویز ہے جسے بجا طور پر اس قبیل کی کتب میں ایک مستند اور نمایاں مقام حاصل ہے کشمیر اور اس کے گردونواح کی ابتدائی تاریخ سے لے کر اس کتاب کے تحریر کیے جانے کے زمانے تک کہ تمام واقعہ راج ترنگنی میں محفوظ ہیں۔"

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ترنگ 1 شلوک 56 وترنگ 8 شلوک 3404