رشی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

رشی:

  • اس اصلاحات کے اشیقات پر کوئی عمومی اتفاق رائے نہیں پایا جاتا ہے، لیکن مونیئر ولیمز Monier Williams کی رائے اس کے بیشتر محل استعمال کے حوالے سے خاص معتبر معلوم ہوتی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ رشی کا معتبر ’ رس ‘ یا ’ درس ‘ ہے جو دیکھنا کے ہم معنی ہے۔ یہیں سے رشی نکلا ہے، جس کا مطلب ’ دیکھانے کا سبب ‘ ہے۔ علاوہ ازیں اسی الفاظ کو ’ مقدس گیت گانے والا ‘ کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ راہر Rahukar کو اپنی کتاب Seers کے تعارف میں لکھا ہے، ہندوستانی ثقافت کو رشی اور منی ثقافتوں کی بنت خیال کرتا ہے۔ ان میں رشی آریائی فکری خطوط کی نمائندگی کرتے ہیں۔ جب کہ منی ان کے قبل ویدک دور کے ہم مرتبہ ہیں۔ رشی کی مثالیں جو لوگوں کو لوگوں کو روحانی طرز عمل فراہم کرتے ہیں۔ اتھر وید کے مطابق سپت رشی (سات رشی) نوعِ انسانی کے بدائی خالق ہیں۔ انہوں نے تپسیا اور دوسری رسوم کی مدد سے گائے پیدا کی ۔* ہمیں رگ میں کئی رشیوں اور ان کے خاندانوں کے حوال ملتے ہیں، لیکن ویدوں کے بعد کی اساطیر Past .vidid Mythoby میں ان کی درجہ بندی

کردی گئی۔ اس عہد میں ہمیں مہا رشی یا سپت رشی ملتے ہیں۔ انہیں جد امجد بھی کہا جاتا ہے ْْ پھر راج رشی ہیں، جن کا شجرہ نسب شاہی خاندانوں سے جا ملتا ہے۔ برہم رشی پروہتوں کے قریب تر ہیں۔ پھر دیو رشی ہیں جو اپنی ریاضت اور تپسیا کے باعث دیوتاؤں کا سا درجہ حاصل کرلیتے ہیں۔ نارو، اتری اور بعض دوسرے رشیوں پر یہ عنایت ہوئی تھی۔ معبودیت کا یہ درجہ اشتقافیات اور دیوتا کی افلاکی معنویت دونوں پر پورا اترتا ہے۔ کیوں کہ موخر الذکر کا تعلق کا دیوس Dyaus یعنی آسمانی نور سے ہے۔

  • رگ وید کے رشیوں کو پروہت خاندانوں میں سے بھی چنیدہ سمجھا جانا چاہیے۔ ان کے متعلق یا ان سے منسوب مقدس کہانیاں رگ وید کی مناجات کا

حصہ ہیں۔ ویدی ثقافت کی تشکیل میں ان کا کردار اپنی جگہ مسلم ہے۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے چقافت کو محفوظ رکھنے کے لے ے مثالیں بھی فراہم کیں۔ انہیں کی تربیت کے باعث بعد میں آنے والے ہند آریائی ثقافت قائم کر پائے۔ اسے عقیدے کا حصہ بنا لیا گیا کہ ویدوں پر عبور مستقل بینی میں بھی معاونت کر سکتا ہے۔ اسی وجہ سے آلستمب دھرم شاشتر میں الہام کے ختم ہونے کا اعلان کر دیا گیا۔ ساتھ ہی وجدان کی وساطت سے آسمانی سرچشمہ ہدایت کا سلسلہ بھی منقطع ہو گیا۔ لیکن شاستر میں بھی تسلیم کر لیا گیا کہ اگر من مقدس متون پر ارتکاز کریں تو اپنے ماضی کے ہم مقاموں کی سی صلاحیت حاصل کرسکتے ہیں ۔

  • یگیہ کی ادائیگی کے دوران اس کی تاثیر بڑھانے کے لے ے پرانے رشیوں کے نام کی چب کی جاتی ہے۔ ہوں یہ نام یگیہ کے منتروں کا سا مقام حاصل

کرنے کے بعد رسوم کا مستقل حصہ بن گئے۔ اس طرح کے منتروں کے مجموعہ اتھر وید کی بعض مناجات رشیوں کے اس استعمال کی بہت عمدہ مثالیں پیش کرتے ہیں۔

  • آستمبا شاستر کا اعلان اپنی جگہ لیکن پرانوں اور مہا بھارت میں ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں کہ وید عہد کے بعد بھی کئی لوگوں کو رشی کا خطاب دیا گیا۔ اسی

طرح اور بھی کئی لوگ جو پروہت نہیں تھے اور از رہ احترام بھگوت اور منۃ کے خطاب سے نوزے گئے۔ اس کی ایک مثال تو بدھ ہے۔ ذات کے باعث کھشتری ہونے کے باعث بھگوت ( مالک ) اور ساکیہ منی کا خطاب دیا گیا۔

  • بدھ بذات خود بدھ، بدھ بزرگ اور رشیوں کے مافوق فطرت بزرگ ایک ہی جست میں بہشت کی جھیل انوپت پت اور رشی ہوا کو چیرتے شویت و دیپ کی پرسرار سرزمین میں جاپہنچے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. منو دھرم شاشتر Glossary ( کشاف اصطلاحات ) ترجمہ ارشد رازی