سبز بازار کاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
لانگ آئی لینڈ کے ووڈکا کا لوگو برائے سبزبازار کاری

سبز بازارکاری (انگریزی: green marketing) سے مراد اشیاء کی فروخت کا وہ عمل جس سے ماحول کا نقصان نہ ہو۔ لہٰذا اس میں کئی سرگرمیاں شامل ہیں جسے کہ اشیاء کی ترمیم (product modification)، تیاری کے طریقوں میں تبدیلی (production modification)، پیاکیج کی تبدیلی اور متصلاً اشتہارات کا فرق۔ عمومًا سبز اشیاء لمبے وقت کے استعمال، غیر زہریلے، دوبارہ قابل استعمال اور کئی بار یہی اشیاء بازدورانیے کے مراحل سے گزرچکے ہوتے ہیں۔

سبز بازارکاری کی ضرورت[ترمیم]

  • ادارے اس کے ذریعے اپنے مقاصد کے حاصل کرنے کی امید کرتے ہیں۔
  • اداروں کا ایقان ہوتا ہے کہ وہ سماج کے لیے جوابدہ ہیں۔
  • سرکاری تنظیموں کی جانب سے راست یا بالواسظہ ماحولیاتی موضوعات پر دباؤ ہوتا ہے۔
  • مسابقتی اداروں کی جانب سے ماحولیاتی پہلوؤں پر توجہ دیگر اداروں کو بھی مجبور کرتی ہے۔
  • بے کار مادوں کا بہ کثرت اخراج یا ضروری اور قیمتی مادوں کے استعمال میں تخفیف کے مواقع اداروں کو اپنا رویہ بدلنے پر مجبور کرتی ہیں۔

بھارت کی کمپنیوں کی جانب سے سبز بازار کاری کے لیے پہل[ترمیم]

بھارت کا ادارہ نیشنل تھرمل پاور کارپوریشن اپنے منافع کا 5 فیصد "دیرپا توانائی کی تحقیق و ترقی کے لیے چندہ" (Research and Development Fund for Sustainable Energy) کے طور پر مختص کر چکا ہے۔ مہندرا اینڈ مہندرا گروپ کی جانب سے متعارف پہلی الکٹریک کار کو "ماحولیات دوست" کار کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ الیکٹروتھریم (Electrothrem) کمپنی بیاٹری سے چلنے والی موٹرسائکلوں کو متعارف کرواچکی ہے جو شور اور فضائی آلودگی سے پاک ہے۔ اسی وجہ سے اسے "سال کی بہترین موٹرسائیکلوں سے جڑی ایجاد" (The Automative Product of the Year Award) حاصل ہوا۔ بھارت میں تمام عوامی گاڑیوں پر سی این جی کا لزوم پہلی بار دہلی میں کیا تھا۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. “Green Marketing- Strategy and Scope of Growth in Indian Markets”, Gurmeet Singh, International Journal of Marketing and Trade Policy, Volume 5, No.2, July-Dec 2013, Pg 223-229.