سگرادا فیمیلیا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
Sagrada Família
Basílica i Temple Expiatori de la Sagrada Família
Basilica and Expiatory Church of the Holy Family
Sagrada Familia 01.jpg
View of the Passion Façade (Western side) in September 2009
(cranes digitally removed)
بنیادی معلومات
مقام برشلونہ, ہسپانیہ
متناسقات 41°24′13″N 2°10′28″E / 41.40361°N 2.17444°E / 41.40361; 2.17444متناسقات: 41°24′13″N 2°10′28″E / 41.40361°N 2.17444°E / 41.40361; 2.17444
مذہبی انتساب رومن کیتھولک
ضلع Barcelona
سال اعلان تقدیس 7 November 2010
مذہبی یا تنظیمی حالت Minor basilica
حیثیت Active/incomplete
ثقافتی اہمیت 1969, 1984
قیادت Archbishop Lluís Martínez Sistach
ویب سائٹ www.sagradafamilia.cat
معماری اوصاف
معمار Antoni Gaudí
طرز تعمیر Modernisme
جنرل ٹھیکیدار Construction Board of La Sagrada Família Foundationحوالہ درکار؟[متنازع ]
سنگ بنیاد 1882؛ 135 برس (1882)
تکمیل 2026-2028[1] (estimate)
تفصیلات
Direction of façade Northeast
گنجائش 9,000
لمبائی 90 m (300 فٹ)[2]
چوڑائی 60 m (200 فٹ)[2]
چوڑائی (ناف) 45 m (150 فٹ)[2]
مخروطہ 18 (8 already built)
مخروطہ کی بلندی 170 m (560 فٹ) (planned)
باضابطہ نام: Works of Antoni Gaudí
قسم Cultural
معیار i, ii, iv
Designated 1984[3]
حوالہ #. 320bis
State Party Spain
Region Europe and North America
باضابطہ نام: Templo Expiatorio de la Sagrada Familia
قسم Monument
Designated 24-07-1969
حوالہ#. (R.I.)-51-0003813-00000[4]

سگرادا فیمیلیا (کاتالونیا تلفظ: [səˈɣɾaə fəˈmiɫiə]؛ انگریزی زبان: Basilica and Expiatory Church of the Holy Family) ایک رومن کیتھولک گرجاگھر ہے۔ یہ گرجاگھر بارسلونا اسپین میں موجود ہے۔ اسے انتونی گودی (Antoni Gaud) کے ذریعے سے (1852–1926) میں بنانا شروع کیا گیا تھا۔ حالانکہ یہ ابھی پوری طرح سے تعمیرشدہ نہیں ہے لیکن یونیسکو نے اسے عالمی وراثت کا مقام قرار دیا ہے۔ نومبر 2010 میں پوپ بینی ڈکٹ سولہویں (Pope Benedict XVI) نے اسے ایک چھوٹے پاکیزہ گرجاگھر (minor basilica) کے روپ میں تسلیم کیا تھا۔ ,[5][6][7]

سگرادا فیملیا کا تعمیری سلسلہ 1882 میں شروع ہوا تھا۔ عا لمی شہرت یافتہ معمر انتونی گودی اس میں 1883 میں شامل ہوئے تھے۔[8] گودی نے اسکے تعمیر اور عمارتی طرز کو گوتھک طرز کے ساتھ ساتھ جدید دور کے گولائیدار لکیری (curvilinear) اطوار کے امتزاج سے ایک نیا زاویہ دیا۔ اس نے اپنی حین حیات کے آخری سال اسی پرمنصوبہ میں لگا دیئے اور 73 سال کی عمر میں میں جب 1926 میں اس کا انتقال ہوا تھا تب پاؤ سے بھی کم منصوبہ پورا ہوا تھا۔[9] سگرادا فیملیا کی تعمیر دھیمی رفتار سے آگے بڑھتی گئی کیونکہ اسے نجی دان پر نربھر ہونا پڑ رہا تھا اور ایک بڑی رکاوٹ اسپین کی خانہ جنگی کے روپ میں ظاہر ہوئی تھی۔ 1950 کے دہے سے کبھی تیزی سے تو کبھی دھیمی رفتار سے کام بنتا گیا۔ 2010 تک آدھی تعمیر ہو چکی تھی۔ اندازہ لگایا جا رہا ہے که پوری تعمیر 2026 میں ختم ہوگی جو که گودی کے انتقال کے پورے سو سال بعد کا وقت ہے۔

تاریخ[ترمیم]

اس گرجاگھر کے ساتھ بارسیلونا کے لوگوں کو بانٹنے کی لمبی تاریخ ہے:

  1. پہلے تو اندیشے کی غلط پر که یہ گرجاگھر سانتا ایلالیا یا بارسیلونا کیتھیڈریل سے مقابلہ کریگا۔
  2. پھر گودی کی جانب سے پیش کردہ تعمیری نقشے پر آختلافات [10]
  3. پھر گودی کے سانحہ ارتحال کے بعد اس مقام پر تعمیر کا کام گودی کی جانب سے پیش کردہ منصوبے سے ہٹ کر ہوگا[10]، پھر حال میں رکھی گئ اس تجویز پر فکر جس کے مطابق اسپین سے فرانس تک ایک سرنگ میں ریل راستہ بنانا، جس سے شائد اس پوری تعمیر کے وجود پر سوالیہ نشان پر لگ جا رہا ہے۔[11]

فن تعمیر کا دلدادہ رینر زیبست کے مطابق اس گرجاگھر جیسی کوئی عمارت پورے عالم کی تاریخ میں شائد نہیں ملے گی۔ [12] اسی طرح سے پال گولڈبرگر نے اسےقرون وسطیٰ سے لے کر اب تک گوتھک فنّ تعمیر کی غیر معمولی انفرادی تجزیہ بتایا ہے۔ [13]

تاریخ[ترمیم]

گودی کے مطابق پوری طرح سے تیار گرجا گھر کا نمونہ

پس منظر[ترمیم]

سگرادافیملیا کے بیسیلیکا دراصل ایک کتاب فروش کی جستجو تھی۔ اس کتاب فروش کا نام جوسف ماریا بوکابیلا (Josep Maria Bocabella) تھا جو که ایسوسی ایشن ایسپریچوئل دے دیواتاس دے سان ہوزے (Asociacin Espiritual de Devotos de San Jos) نامی مذہبی تنظیم کا بانی رہا تھا۔ [14] ویٹکن شہر کی ایک زیارت کے بعد 1872 میں بوکابیلا ایک چرچ کی تعمیر کے ارادے سے اٹلی سے لوٹے جس کے عزم مصمم کا اصل سبب لوریٹو تھے۔ [14] گرجا گھر کے ڈیزائن کرنے کے لئے، سینٹ جوسف کے تیوہار پر، 19 مارچ 1882 کام کو شروع ہو گیا تھا۔ عطایا کے ذریعے اس چرچ کے آپسے، تہخانہ، جس کا منصوبہ ایک معیاری روپ سے ایک گوتھک نشاۃِ ثانیہ چرچ کے لئے تھا، شروعاتی کام 18 مارچ 1883 کو شروع کیا گیا۔ اس کے پہلے معمار فرانسس دے پولا دیل ولار ء لوزانو تھے جن کا ارادہ گوتھک فنّ تعمیر کا بازاحیاء کرنا تھا۔[14] 1883 تک اس طرز میں ایک محراب بنا دی گئی اور تبھی گودی نے نرمان کی کمان اپنے ہاتھ میں لی۔ حالانکہ 1883 گودی نرمان سے جڑ گئے، لیکن صرف 1884 سے انہیں ناظم معمار کا جلیل القدر عہدہ دیا گیا تھا۔

تعمیراتی کام[ترمیم]

میں حال ہی میں تعمیرکردہ پتھر کا کام جو کہ کئ موسموں کو جھیل چکے نشان زدہ حصّوں کے اپنی چکا چوند خصوصیات کا مظاہرہ کر رہے ہیں

بہت ہی زیادہ اور لمبے عرصے تک چلنے والے تعمیراتی کے موضوع پر گودی نے تبصرہ کیا ہے کہ: "میرے گاہک کو کوئی جلدی نہیں ہے۔" [15] گودی کی جب 1926 میں موت ہو گئی تھی تب بیسیلیکا 15 اور 25 فی صد کے بیچ تھا پورا ہو چکا تھا۔ [9][16] گودی کی موت کے بعد کام دومینیتس سُگرانیس (Domnec Sugraes) کے رہ نمایانہ خطوط کے مطابق جاری رکھا گیا۔ 1936 میں اسپین کی خانہ جنگی سے یہ تعمیر پر ترقی دھیمی ہو گئی تھی۔ گرجاگھر کے کچھ حصّوں کا کاتالان علیحدگی پسندوں کے ذریعے تباہ کر دیئے گئے تھے اور ساتھ ساتھ تعمیر کے دستاویزوں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔ موجودہ ڈیزائن ایک آگ کے ساتھ ہی تجدیدکارانہ شکلوں کے ساتھ جلا دیا گیا ہے که منصوبہ جات پُرانے نقشوں پر نہ بنے ہوں۔ 1940 کے بعد سے مشہور پھرانسیسک کونٹانا (Francesc Quintana)، اسیدیر پئگ بوآدا (Isidre Puig BOADA)، لیوئیس بونیٹ ء گیری (Llus Bonet i Gari) اور پھرانسیسک کاردونیر (Francesc Cardoner) نے کام کو آگے بڑھایا ہے۔ اس منصوبہ کے برسرخدمت ناظم جاردی بانیٹ ء آرمیگول (Jordi Bonet i Armengol) آں جہانی لیوئیس بونیٹ ء گیری کے فرزند ہیں۔ جاردی نے 1980 کے دہے سے اس عمارت کے ڈزائن اور تعمراتی کام میں کمپیوٹر اور پروگرامنگ زبانوں کے استعمال کو جوڑ دیا ہے۔ نیوزی لینڈ کے مارک بری (Mark Burry) کارگزار معماراور محقق کے روپ میں ذمے داری سنبھال رہے ہیں۔ جے بسکیٹ (J۔ Busquets) اور ایتسورو سو تو (Etsuro Sotoo) کے بنائے گئے من کو لبھانے والی مورتیاں اور وواداسپد جوسف سبراچس (Joseph Subirachs) سامنے کے حصے کی سجاوٹ کا کام کرتے ہیں۔

مرکز میں کھڑے خوشنما والٹ کو 2000 میں پورا کیا گیا تھا اور تب سے اہم ترین باب الداخلہ حصّے اور محراب والٹ کی تعمیر کی گئی ہے۔ 2006 سے کام ایک دوسرے کے آنے والے اور حمایتی ڈھانچوں پر دھیان مرکوز کیا گیا ہے تاکہ یسوع مسیح اور جنوب میں خیرمقدمی پھاٹک واضح روپ سے عمارت کے اہم حصّے بنیں گے اور آنے والوں کے سامنے ایک شان داراور خوش نما اظہاریہ ہوگا۔

تعمیرات کی موجودہ صورت حال[ترمیم]

سگرادا فیمیلیا کی چھت جو ابھی زیر تعمیر ہے۔أ (2009)
فروری2014

اایک تخمینے کے مطابق 2026 کے آس پاس تعمیر پوری ہونے کی امید کی جا رہی ہے جو که اس کے اہم معمات گودی کی موت کے سو سال پورے ہونے کا موقع ہے، جبکہ منصوبہ کی جانکاری کے جریدے کے مطابق 2028 میں پورا ہونے کی تاریخ جتائی گئی ہے۔ اس منصوبے کو 1992 کے بارسلونا اولمپک کھیل سے کافی دھن کی امداد ہوئی اور کئی سیاحوں نے اس میں اپنا شخصی تعاون دیا تھا۔

سی اے ڈی / سی اے ایم ئعنی کمپیوٹر ایڈیڈ ڈیزائن ظرزیات کو تعمیر میں تیزی لانے کے لئے استعمال کیا گیا ہے جبکہ 20 ویں صدی کے شروع سے موجود تعمیری تکنیک کے مطابق پہلے اندازا لگایا گیا تھا که یہ کئی سو سالوں میں پورا ہونے والا کام ہے۔حوالہ درکار؟ موجودہ طرزیات سے پتھر کو اس کی اجازت دیتا ہے کہ سائنسی طریقے سے پھوڑا جائے۔ اس کے قبل 20 ویں صدی میں، پتھر ہاتھ سے کھودے جاتے تھے۔ [17]

2008 میں کچھ مشہور کاتالان معماروں نے تعمیراتی کام پر روک لگانے کی وکالت کی تھی۔ [18] روک لگانے کے پیچھے ایک اہم وجہ بتائ گئی که گودی کے اصلی تعمیراتی منصوبے کی عزّت کی جانا چاہئیے، جو که حالانکہ مکمل تفصیلات کا حامل نہیں تھا، اور جزوی طور پر نذر آتش بھی پوچکا تھا، مگر پھر بھی اسے حال کے وقتوں میں پھر سے جوڑکر ایک قابل قبول روپ میں دنیا کے آگے پیش کیا گیا تھا۔[19]

2010 کی ایک نمائش جو جرمن تعمیراتی عجائب گھر میں پیس کی گئی تھی،اس میں ایک ڈاکیمینٹری "گودی انسین، کمپلیٹنگ لا سگرادا پھیملیا" (Gaud Unseen، Completing La Sagrada Famlia) میں موجودہ سگرادا فیملیا تعمیر کے طریقوں اور مستقبیل کے منصوبوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ [19]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Sagrada Família gets final completion date – 2026 or 2028". The Guardian. 22 September 2011. http://www.guardian.co.uk/world/2011/sep/22/sagrada-familia-final-completion-date۔ اخذ کردہ بتاریخ 2011-10-13. 
  2. ^ 2.0 2.1 2.2 خطا در حوالہ: حوالہ بنام gimeno کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  3. "Unesco, Works of Antoni Gaudí". Whc.unesco.org. اخذ کردہ بتاریخ 7 November 2010. 
  4. "Templo Expiatorio de la Sagrada Familia". Patrimonio Historico – Base de datos de bienes inmuebles (Spanish زبان میں). Ministerio de Cultura. اخذ کردہ بتاریخ 9 January 2011. [مردہ ربط]
  5. Drummer، Alexander (23 July 2010). "Pontiff to Proclaim Gaudí's Church a Basilica". ZENIT. اخذ کردہ بتاریخ 7 November 2010. 
  6. "The Pope Consecrates The Church Of The Sagrada Familia". ویٹیکن سٹی: Vatican Information Service. 7 November 2010. Archived from the original on 11 November 2010. http://www.webcitation.org/5uAAUTwy8۔ اخذ کردہ بتاریخ 11 November 2010. 
  7. Delaney, Sarah (4 March 2010). "Pope to visit Santiago de Compostela, Barcelona in November". Catholic News Service. اخذ کردہ بتاریخ 7 July 2010. 
  8. خطا در حوالہ: حوالہ بنام UNESCO کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  9. ^ 9.0 9.1 خطا در حوالہ: حوالہ بنام nyt1 کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  10. ^ 10.0 10.1 خطا در حوالہ: حوالہ بنام nyt3 کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  11. Burnett، Victoria (11 June 2007). "Warning: Trains Coming. A Masterpiece Is at Risk.". The New York Times. http://www.nytimes.com/2007/06/11/world/europe/11spain.html?scp=20&sq=gaudi%20sagrada%20familia&st=cse. 
  12. Rainer Zerbst, Gaudí — a Life Devoted to Architecture., pp. 190–215
  13. Goldberger، Paul (28 Jan 1991). "Barcelona". National Geographic. http://www.nationalgeographic.com/traveler/articles/1003barcelona.html. [مردہ ربط]
  14. ^ 14.0 14.1 14.2 The Gaudí & Barcelona Club Sagrada Família
  15. خطا در حوالہ: حوالہ بنام Time کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  16. Gladstone، Valerie (22 August 2004). "ARCHITECTURE: Gaudí's Unfinished Masterpiece Is Virtually Complete". The New York Times. http://www.nytimes.com/2004/08/22/arts/architecture-gaudi-s-unfinished-masterpiece-is-virtually-complete.html?scp=10&sq=gaudi%20sagrada%20familia&st=cse. 
  17. Daniel, Paul (January 2009). Diamond tools help shape the Sagrada Família[مردہ ربط](PDF). Industrial Diamond Review. Retrieved 7 July 2010.
  18. Fancelli, Agustí (4 December 2008). "¿Por qué no parar la Sagrada Familia?" [Why not stop the Sagrada Familia?] (Spanish زبان میں). اخذ کردہ بتاریخ 7 July 2010.  (English tr.)
  19. ^ 19.0 19.1 Burry، Mark; Gaudí، Antoni (2007). Gaudí Unseen. Berlin: Jovis Verlag. 

ماخذ[ترمیم]