سید حیدر بخش حیدری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
طوطا کہانی - حیدر بخش حیدری

سید حیدر بخش حیدری کی ولادت کے متعلق کچھ وثوق سے نہیں کہا جاسکتا۔ بس اتنا معلوم ہے کہ دہلی میں پیدا ہوئے۔ فورٹ ولیم کالج کے مصنفین میں سے میرامن کے بعد جس مصنف کو زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ وہ سید حیدر بخش حیدری ہیں۔ دہلی کر بربادی کے زمانے میں حیدری کے والد دہلی سے بنارس چلے گئے۔ فورٹ ولیم کالج کے لیے ہندوستانی منشیوں کا سن کر حیدری ملازمت کے لیے کلکتہ گئے۔ ڈاکٹر گلکرسٹ تک رسائی کے لیے ایک ”قصہ مہر و ماہ“ بھی ساتھ لکھ کر گئے۔ گلکرسٹ نے کہانی کو پسند کیا اور اُن کو کالج میں بطور منشی مقر ر کیا۔ وہ بارہ برس تک کالج سے منسلک رہے۔ 1823ء میں بنارس میں انتقال کر گئے۔
فورٹ ولیم کالج کے تمام مصنفین میں سے سب سے زیاد ہ کتابیں لکھنے والے سید حیدر بخش حیدری ہیں۔ ان کی تصانیف کی تعداد دس کے قریب ہے جن میں

  • 1)قصہ مہر و ماہ
  • 2)قصہ لیلیٰ مجنوں
  • 3) ہفت پیکر
  • 4) تاریخ نادری
  • 5) گلزار دانش
  • 6)گلدستہ حیدری
  • 7)گلشن ہند
  • 8) طوطا کہانی
  • 9)آرائش محفل

لیکن حیدری کی شہرت کا سبب اُن کی دو کتابیں ”طوطا کہانی“، ” آرائش محفل ہیں۔ یہ دونوں کتابیں داستان کی کتابیں ہیں جو جان گلکرسٹ کی فرمائش پر لکھی گئیں
”طوطا کہانی “جس طرح کے نام سے ظاہر ہے کہ یہ کتاب مختلف کہانیوں کا ایک مجموعہ ہے جس کی سب کہانیاں ایک طوطے کی زبانی بیان کی گئی ہیں۔ اس کتاب میں 35 کہانیاں ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ایک عورت اپنے شوہر کی عدم موجودگی میں اپنے محبوب سے ملنے جانا چاہتی ہے۔ طوطا ہر روز اس کو ایک کہانی سنانا شروع کر دیتا ہے اور ہر روز باتوں باتو ں میں صبح کر دیتا ہے۔ اور وہ اپنے محبوب سے ملنے نہیں جا سکتی حتی کہ اس دوران اس کا شوہر آجاتا ہے۔ جہاں تک کتاب کے اسلوب کا تعلق ہے تو سادگی کے ساتھ ساتھ حیدری نے عبارت کو رنگین بنانے کے لیے قافیہ پیمائی سے بھی کام لیا ہے۔ اس کے علاو ہ موقع اور محل کے مطابق اشعار کا بھی استعمال کیا ہے۔ طوطا کہانی کی داستانوں میں جابجا مسلمانوں کی معاشرت اور ان کے رہنے سہنے کی بھی جھلک پیش کی ہے۔
حیدری کی دوسری کتاب ”آرائش محفل“ ہے جو اپنی داستانوی خصوصیات کی بنا پر توتا کہانی سے زیادہ مقبول ہوئی۔ اس کتا ب میں حیدری نے حاتم کے سات مہموں کو قصے کے انداز میں بیان کیا ہے۔ اور اسے فارسی سے ترجمہ کیا۔ لیکن اپنی طبیعت کے مطابق اس میں اضافے بھی کیے ہیں۔ جہاں تک اس کے اسلوب کا تعلق ہے تو زبان میں متانت اور سنجیدگی کے ساتھ ساتھ سادگی اور بے تکلفی بھی پائی جاتی ہے۔ اس میں توتا کہانی کی طرح جان بوجھ کر محاورات کا استعمال نہیں کیا گیا۔ جبکہ داستان کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اس میں وہ تمام لوازمات شامل ہیں جو کسی داستان کا حصہ ہونے چاہیے اس لیے کتاب میں مافوق الفطرت عناصر کی فروانی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]