سیرف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اردو کے بہت کم خطوط میں ایسے اجزاء ہوتے ہیں جن کو انگریزی serif کا درست متبادل کہا جاسکے؛ شوشے اصل میں serif نہیں تسلیم کیے جاسکتے بلکہ یہ شوشے تو اردو حروف کا ہی لازم جز ہیں۔ serif کے لیے اردو خطاطی کی کتب میں آرائشی کشش)استعمال ہوتا ہے۔ نسخ اور نستعلیق عام حالت میں سینس سیرف (sans serif) ہی ہوتے ہیں جبکہ اردو کا ایک فانٹ دیوانی ایسا ہے جس میں باقاعدہ سیرف (serif) بنائے جاتے ہیں جن کو مذکورہ بالا شکل میں سرخ رنگت سے ظاہر کیا گیا ہے۔

ٹائپو گرافی میں سیرف یا آرائشی کشش (serif) وہ چھوٹا سا خط ہے جو کسی حرف کی کشش کو مُکمل کرنے کے لیے اُس کے سرے پر لگایا جاتا ہے۔ عام طور پر serif کا متبادل شوشہ بھی سمجھ لیا جاتا ہے لیکن شوشے کو اگر serif ہی تسلیم کر لیا جائے تو اردو کے متعدد خط serif ہی ہوتے ہیں کیونکہ تمام ہی میں شوشے ایک لازمی جز کے طور پر بنتے ہیں؛ جن میں نسخ و نستعلیق دونوں ہی شامل کیے جاسکتے ہیں لیکن انگریزی serif کی طرح اردو شوشے دار نویسے (جیسے نستعلیق) چھوٹی جسامت پر بھی قابل سہل قرات میں رہتے ہیں کیونکہ شوشے اصل میں serif کا متبادل نہیں بلکہ اردو خطاطی کی قدیم کتب میں serif نما حصو کو سیرف کہا جاتا ہے اور اردو لغات میں بھی سیرف، آرائش یا زیبائشی حصے کو ہی کہا جاتا ہے۔ اردو میں عام طور پر serif اور sans serif فانٹ کی درجہ بندی فی الحال کمپیوٹر کی دنیا میں دیکھنے میں نہیں آتی اور ہاتھ کی خطاطی میں بھی اس قسم کے خطوط کو باقاعدہ الگ نہیں کیا جاتا۔

سیرف اور شوشہ میں فرق[ترمیم]

Serif and sans-serif 01.svg
Serif and sans-serif 02.svg
Serif and sans-serif 03.svg
انگریزی (رومن) ابجد میں سیرف کی مثالیں؛ بالائی فونٹ ایک سینس سیرف فونٹ ہے جبکہ نیچے کے دو فونٹس سیرف ہیں جن میں انتہائی زیریں پر سرخ رنگ میں سہرف نمایاں کیے گئے ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ اگر قلم کی نوک کی موٹائی پورے حرف پر یکساں رہے تو عام طور پر سیرف نہیں بنتے؛ لیکن یہ کوئی لازمی اصول بھی نہیں اور اس کے برخلاف بھی فونٹس پائے جاتے ہیں (دیکھیے مضمون)۔

عربی رسم الخط رکھنے والے الفاظ میں مستعمل شوشے، اصطلاح سیرف، سے ایک بالکل الگ جزء ہوتے ہیں اور ان میں واضح تفریق لازمی ہے۔ شوشہ عربی رسم الخط والی زبانوں میں موجود حروف کے اہم جسمانی اجزا ہوتے ہیں اور ان کو وہ دندانے کہا جاتا ہے جو بعض حروف، جیسے س ش وغیرہ کی ابتدا میں آتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی جب اردو الفاظ آپس میں ترسیموں (ligatures) کے ذریعے جڑتے ہیں تو ان میں الگ الگ شناخت کے لیے شوشے لازم ہوتے ہیں جیسے تتلی کے لفظ میں ت اور ت کے شوشے۔ شوشہ کے برعکس سیرف محض آرائشی دندانے یا طولاً و عرضاً کھینچے ہوئے الفاظ کے ابتدائی یا انتہائی سرے ہوتے ہیں جو ان میں زیبائش پیدا کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں اور ان کی غیر موجودگی سے عبارت کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ سیرف خطاطی میں قلم کی نوک پر آنے والے ہاتھ کے دباؤ کی قدرتی اشکال ہوتی ہیں اور اردو میں ان کی پیدائش کی بنیادی وجہ خطاطی قلم کی ترچھی کٹی ہوئی نوک ہوتی ہے؛ گویا اگر کسی ایسے قلم سے تحریر کیا جائے جس میں نوک، لفظ کی ابتدا سے انتہا تک ایک دباؤ پر ہو اور اس سے بننے والی لکیر (خط) کی جسامت یکساں رہے تو سیرف (serif) پیدا نہیں ہوتے بلکہ سینس سیرف خطوط بنتے ہیں۔ گو کہ عام طور پر حرف لکھنے کے لیے بنے خط (لکیر) کی جسامت (موٹائی) کے اتار چڑھاؤ سے آرائشی کشش پیدا ہوتی ہے (یہ بات رومن حروف میں بہت نمایاں ہے) لیکن ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا بلکہ بعض عربی اور انگریزی فانٹ ایسے بھی ہیں جن میں لکیر کی موٹائی یکساں رہنے کے باوجود حلیے بنائے جاتے ہیں اور ان حلیوں کی موٹائی وہی ہوتی ہے جو حرف کے جسم کی؛ ان کی ایک مثال courier نامی رومن فانٹ میں دیکھی جاسکتی ہے اس قسم کے موٹے سیرف کو مصری سیرف (slab serif) کہتے ہیں۔