شفاء اللہ خان روکھڑی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شفاء اللہ خان روکھڑی
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1966  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 29 اگست 2020 (53–54 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فنکارانہ زندگی
پیشہ موسیقار  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

شفاءاللہ خان روکھڑی ایک پاکستانی موسیقار تھے۔ جو روکھڑی ضلع میانوالی سے تعلق رکھتے تھے۔

شفاءاللہ خان روکھڑی نیازی کا تعلق نیازی قبیلہ سے تھا اور وہ متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ 1966ء کو میانوالی سے 10 کلومیٹر دور بمقام روکھڑی میں پیدا ہوئے،

گلوکاری کے شعبہ میں قدم رکھنے سے قبل شفاءاللہ خان روکھڑی پنجاب پولیس میں ملازمت کرتے تھے تاہم خواہش ان کی گلوکار بننے کی ہی تھی۔

گلوکاری کے شوق کو پورا کرنے کے لیے انہوں نے پولیس کی ملازمت کو خیرباد کہہ کر باقاعدہ طور پر گلوکاری کے میدان میں 1984ء میں قدم رکھ دیا۔

شفااللہ روکھڑی دس سال تک گلوکاری میں محنت کرتے رہے اور 1995ء میں اپنا پہلا البم ریلیز کیا جو انہیں کامیابی کی بلندیوں تک لے گیا۔

فوک گلوکاری ان کی پہچان بنی۔عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کے بعد وہ ملکی سطح پرمیانوالی کی پہچان بنے، گلوکاری میں ان دنوں انکا اپنے ہی بیٹے ذیشان روکھڑی سے مقابلہ تھا شاعرافضل عاجز‘مظہر نیازی‘عاجز بھریوں‘اعجا زتشنہ‘محمود احمد کے سینکڑوں گیت گائے جو پاکستان بھرمیں مقبول ہوئے جن میں ’’میں ستی پئی نوں جگایاماہی‘‘’’آکھوسکھیو‘‘’’آ مل ڈھولا‘‘’’جیویں شالا دل جانی ‘‘شامل ہیں۔

شفاءاللہ خان روکھڑی اور ان کے بیٹے ذیشان خان روکھڑی نے موسیقی میں اپنا نام پیدا کیا اور سوشل میڈیا پر ان کے سبکرائیبرز کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ شفاءاللہ خان روکھڑی کے یوٹیوب پر 1.78 ملین سبسکرائبرز ہیں جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ سرائیکی سے محبت کرنے والے لوگوں میں کس قدر مقبول تھے۔

29 اگست 2020ء کو راولپنڈی کے نجی ہسپتال میں بعارضہ قلب وفات پاگئے،

نماز جنازہ اور تدفین ان کے آبائی علاقہ روکھڑی میں کی گئی، مسلم کالونی کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔انہوں نے پسماندگان میں بیوہ ‘چاربیٹے اور ایک بیٹی چھوڑی۔ان کا ایک بیٹا ذیشان روکھڑی بھی سرائیکی گلوکاری میں اپنی پہچان رکھتا ہے، [1]

حوالہ جات[ترمیم]